جسٹس گلزار عدلیہ بحرانوں کے ذمےدار

بطور چیف جسٹس اپنی دو سالہ مدت کے دوران کراچی کے مسائل پر فوکس کرنے اور قومی نوعیت کے کیسز بارے مٹی پائو پالیسی اپنانے والے گلزار احمد پر درجنوں اہم مقدمات کو لٹکانے اور عدالت عظمیٰ پر 53 ہزار کیسز کا بوجھ لاد کر بحرانوں کی دلدل میں دھکیل کر گھر جانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

2 فروری کو ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس گلزار احمد کے ناقدین کہتے ہیں کہ موصوف نے اپنے دور میں آصف سعید کھوسہ اور میاں ثاقب نثار کی طرح اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کی مکمل نگہبانی کا حق ادا کیا۔ وہ ہائی پروفائل کیسز کی عدالتی کارروائی کے دوران ریمارکس تو بڑے سخت دیتے تھے لیکن تنازعات سے بچنے کے لیے سخت فیصلوں سے سخت پرہیز کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب گلزار احمد نےعہدہ سنبھالا تو سپریم کورٹ میں زیرِ التوا کیسز کی تعداد 42 ہزار تھی جو اب 53 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔

واضح رہے کہ جسٹس گلزار احمد دو برس اور ایک ماہ تک سپریم کورٹ کے 27ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے کام کرنے کے بعد یکم فروری 2022 کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو گئے۔ چار دسمبر 2019 کو اس عہدے کا حلف اٹھانے والے جسٹس گلزار کے بطور چیف جسٹس آخری مہینے میں پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہوا جب انھوں نے سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک سے حلف لیا۔

تاہم کہا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ بھی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر کیا۔ جسٹس گلزار کے دور میں ایک اور اہم واقعہ سپریم کورٹ میں 10 سال کے وقفے کے بعد کسی وزیر اعظم کی طلبی کا بھی تھا جب انھوں نے عمران خان کو آرمی پبلک سکول پر ازخود نوٹس کیس میں ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔ یہ الگ بات۔

اس کیس میں جسٹس گلزار کے احکامات پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہو پایا اور حکومت نے وزیر اعظم کے دستخط سے جاری عمل درآمد رپورٹ ابھی تک عدالت میں جمع نہیں کروائی۔ خیال رہے کہ جسٹس گلزار احمد نے وزیراعظم کو ہدایت کی تھی کہ سانحہ اے پی ایس کے ذمہ دار فوجی افسروں کے خلاف کارروائی کر کے عملدرآمد رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔

ناقدین کے مطابق ان کے بطور چیف جسٹس لگ بھگ دو سالہ کیریئر پر نظر دوڑائی جائے تو اپنے دور میں چیف جسٹس گلزار احمد کی زیادہ تر توجہ کراچی کے مسائل اور تجاوزات کے خاتمے سے متعلق مقدمات پر ہی مرکوز رہی اور وہ ان کیسوں کی آڑ میں پیپلز پارٹی حکومت کا لتاڑا کرتے رہے۔ پیپلز پارٹی والوں کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ ان کا اردو سپیکنگ مہاجر ہونا تھا لہذا ان کا دل ایم کے لیے دھڑکتا تھا۔

گلزار احمد کے دور میں نہ صرف جسٹس شوکت عزیز صدیقی بلکہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کے مقدمات بھی زیر التواء ہی رہے۔ اس کی وجہ بھی اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ بتائی جاتی ہے۔ اسی طرح خیبر پختون خوا میں فوج کے زیر انتظام حراستی مراکز کے خلاف زیر التوا کیس بھی سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔ ان کے دور میں فیض آباد دھرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف وزارت دفاع کے نظرثانی کی درخواست کو بھی سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔ اس دو رکنی بینچ میں شامل ایک جج جسٹس مشیر عالم اپنے عہدے سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔

جسٹس گلزار جب تک چیف جسٹس رہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو صرف ایک مرتبہ اس بینچ میں شامل کیا گیا جب انھوں نے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کے معاملے پر بینچ بنانے کا کہا تھا۔ اس معاملے پر چیف جسٹس نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ایسی درخواستوں کی سماعت کرنے سے روک دیا تھا جس میں عمران خان کو فریق بنایا گیا ہو۔

کپتان کی نکمی حکومت بمقابلہ تھکی ہوئی اپوزیشن

کرونا سے نمٹنے کے حوالے سے حکومت اور این ڈی ایم اے نے بیرون ممالک سے جو ادویات اور سازو سامان خریدا تھا اس میں گھپلوں سے متعلق بھی گلزار نے نوٹس تو لیا تھا لیکن بعد ازاں اس سے متعلق تحقیقات کے حوالے سے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کرونا کی روک تھام سے متعلق حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں از خود نوٹس کی سماعت کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم کے مشیر ظفر مرزا کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے زبانی احکامات بھی دیے تھے۔ بعد میں جاری ہونے والے تحریری حکم نامے میں اس کا کہیں ذکر نہیں تھا۔

جسٹس گلزار احمد کے دور میں ایک اور اہم فیصلہ صوبہ پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی بحالی کا تھا لیکن صوبائی حکومت نے چھ ماہ سے بھی زیادہ عرصے تک عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا۔ جسٹس گلزار احمد سپریم کورٹ کے اس پانچ رکنی بینچ کا بھی حصہ رہے ہیں جنھوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا تاہم انہوں نے اس بینچ کا حصہ بننے سے معذوری ظاہر کی تھی جس نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق درخواست کی سماعت کرنا تھی۔

گلزار احمد کے بطور چیف جسٹس دو سالوں کے دوران سپریم کورٹ کے جج صاحبان کا ایک بھی فل کورٹ اجلاس نہیں ہوا جس کا مقصد عدالتوں میں زیر التوا مقدمات اور انتظامی امور کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گلزار احمد کی ریٹائرمنٹ پر ایک اور ریکارڈ یہ قائم ہوگیا کہ سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال بھی جسٹس گلزار کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنا پرو اسٹیبلشمنٹ تاثر برقرار رکھتے ہیں یا جابر سلطانوں کے سامنے کلمہ حق کہنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

Back to top button