سینٹ میں دلاور گروپ ملکی سیاست کا ناسور کیسے بنا؟

سینیٹ کے چھ اراکین پر مشتمل ہرو اسٹیبلشمنٹ دلاور خان گروپ کو ناقدین پاکستانی سیاست کا ناسور قرار دیتے ہیں کیوںکہ اس دھڑے نے ہمیشہ اپنے کاروباری مقاصد کے حصول کے لیے قومی مفاد کے نام اپوزیشن کو تقسیم کیا ہے اور حکومت کو من مانی قانون سازی کے لئے کاندھا فراہم کیا ہے جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا یے۔
صحافتی حلقوں میں مشہور ہے کہ دلاور خان گروپ مال دار لوگوں کا ایک بااثر گروہ ہے جو کہ ہوا کا رخ دیکھ کر اپنی سمت بدلتا رہتا ہے۔
چونکہ سینیٹ میں حکومت کی اکثریت نہیں ہے، لہذا یہ گروپ پوشیدہ قوتوں کے اشاروں پر چلتے ہوئے تحریک انصاف کو ایوان میں برتری دلواتا رہتا ہے۔ دلاور خان گروپ کا پارلیمانی سیاست میں اتنا اثر و رسوخ ہے کہ اس نے اپوزیشن کے حصے کی سینیٹ کی پانچ کمیٹیوں کی سربراہی بھی حاصل کر رکھی ہے جبکہ بوقت ضرورت ووٹ حکومت کو دیتا یے۔
سینیٹ آف پاکستان میں سینیٹرز کا آزاد دھڑا کہلوانے والا دلاور خان گروپ 28 جنوری 2022 کو سٹیٹ بینک ترمیمی بل کی منظوری کی حمایت کی وجہ سے ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن اراکین کی زیادہ تعداد ہونے کے باوجود گذشتہ دنوں اسے سٹیٹ بینک ترمیمی بل پر ایک ووٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کی ذمہ داری نہ صرف اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے غیر حاضر اراکین پر عائد کی جا رہی ہے بلکہ دلاور خان گروپ کو بھی حکومت کا ساتھ دینے پر مطعون کیا جا رہا ہے۔ 2018سے ابتک حکمراں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت سینیٹ میں اراکین کی کم تعداد کے باوجود ہر مشکل وقت میں حزب اختلاف پر عددی برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے، اور ایسا اکثر و بیشتر دلاور خان گروپ کی حمایت کے باعث ہی ممکن ہوا۔
واضح رہے کہ سینیٹ میں اس وقت آزاد ادارکین کی کل تعداد 25 ہے جن میں سے بلوچستان عوامی پارٹی چھ سینیٹرز پر اپنا حق جتلاتی ہے۔ ایسے میں دلاور گروپ بھی خود کو چھ اراکین پر مشتمل ٹولہ بتاتا ہے جس میں تین اراکین بلوچستان عوامی پارٹی یعنی باپ کے ہیں جسے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی تخلیق سمجھا جاتا ہے۔ دلاور خان گروپ کے سینیٹرز 2018 کے سینیٹ انتخابات میں منتخب ہوئے اور 2021 کے شروع تک حکومت کے حمایتی رہے۔ تاہم گذشتہ سال مارچ میں ایک دلچست پیش رفت میں ان چھ سینیٹرز نے اپوزیشن میں شمولیت کا اعلان کیا۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے انتخاب میں دلاور خان گروپ نے مسلم لیگ ن کے اعظم نذیر تارڑ کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی کی حمایت کر کے انہیں اپوزیشن لیڈر بننے میں مدد فراہم کی۔ اس گروپ میں خیبر پختونخوا سے سینیٹر دلاور خان، سابق فاٹا کے سینیٹرز ہدایت اللہ اور ہلال رحمن اور بلوچستان عوامی پارٹی کے حمایت سے منتخب ہونے والے سینیٹرز کہدہ بابر، احمد خان اور نصیب اللہ بائیزئی شامل ہیں۔
سینیٹر دلاور خان اس گروپ کے سربراہ ہیں، اس لیے اسے دلاور خان گروپ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انڈی پینڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے دوسرے بڑے شہر مردان کے علاقے پار ہوتی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر دلاور خان ماضی میں کسٹمز میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تعینات تھے جہاں سے انہوں نے کافی پیسہ بنایا۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور حکومت میں انہیں نیب نے کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا تھا، تاہم 2001 میں انہوں نے پلی بارگین کر لیا۔ دلاور خان کو قریب سے جاننے والے بتاتے ہیں کہ وہ ایک سگریٹ کارخانے کے مالک ہیں، اور سیاسی جوڑ توڑ میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں۔
جسٹس گلزار نے عدلیہ کو بحرانوں میں کیسے دھکیلا؟
دلاور خان عام طور پر خرچہ کرنے سے گریز نہیں کرتے اور تعلقات بھی بناتے ہیں، جس کے باعث ان کا اثر رسوخ کافی زیادہ ہے۔ ابتدائی طور پر دلاور خان کا تعلق مسلم لیگ ن سے رہا، اور 2018 میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں انہیں اسی جماعت کی حمایت حاصل تھی۔ تاہم بعد ازاں مسلم لیگ ن کے ساتھ ان کے اختلافات پیدا ہو گے اور سینیٹ میں انہوں نے تحریک انصاف حکومت کی حمایت کر دی، جو گذشتہ سال تک جاری رہی۔ دلاور خان کے بھائی اعظم خان اور برخوردار عدنان خان بھی پاکستان کی سیاست میں حصہ لیتے ہیں، اور ماضی میں انتخابات بھی لڑتے رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ جب بھی حکومت کو ضرورت پڑتی ہے، دلاور خان گروپ سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز حکومت کے حق میں ووٹ استعمال کرتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال عددی کمتری کے باوجود حکومت کے حمایت یافتہ صادق سنجرانی کی بحیثیت چئیرمین سینیٹ کامیابی ہے، جن کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک بھی دلاور خان گروپ کے تعاون سے ناکام ہوئی تھی۔
اس گروپ کے سربراہ دلاور خان نے خود پر کی جانے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نہ حکومت اور نہ ہی اپوزیشن کا حصہ ہیں لیکن ملک اور قوم کی بہتری کے لیے جو قانون سازی کی ضرورت ہوگی وہ اس کی حمایت کریں گے۔ سینیٹ میں فنانس بل کی منظوری کے وقت اپنے کردار کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا گروپ دینے والا ہاتھ ہے، لینے والا نہیں۔ ہم مراعات یافتہ نہیں ہیں۔ ملک اور قوم کی خاطر کوئی بل آتا ہے تو اس کی حمایت کرتے رہیں گے۔اپنے گروپ کو ’ٹاک آف دا ٹاؤن‘ قرار دیتے ہوئے دلاور خان نے کہا کہ ان سے چرس نہیں پکڑی گئی ہے جو گناہ گار قرار دیا جائے۔
یاد رہے کہ دلاور خان گروپ ہی کے تعاون سے حکومت ماضی میں سینیٹ میں حزب اختلاف کی صفوں میں بھی دراڑیں ڈالتی رہی ہے، جس کی ایک مثال گذشتہ سال مسلم لیگ ن کی مخالفت کے باوجود پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی کا قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے منتخب ہونا تھا۔ گذشتہ سال نومبر میں سینیٹ میں پیش اور عجلت میں منظور کروائے جانے والے 33 بل، نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی سے متعلق قانون سازی اور حالیہ سٹیٹ بنک ترمیمی بل جیسے معاملات میں دلاور خان گروپ نے حکومت کا ساتھ دے کر بارہا خود کو سیاسی ناسور ثابت کیا ہے جسکا قلع قمع کیا جانا ضروری یے۔
