کپتان کی نکمی حکومت بمقابلہ تھکی ہوئی اپوزیشن

پاکستانی عوام اس حوالے سے بدقسمت ہیں کی انہیں وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں جتنی نکمی اور نااہل حکومت ملی ہے اس سے بھی زیادہ تھکی ہوئی اور کومپرومائزڈ پارلیمانی اپوزیشن ملی یے جس کی قیادت میاں شہباز شریف اور یوسف رضا گیلانی جیسی فرینڈلی شخصیات کے ہاتھوں میں ہے۔
چنانچہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ عوام نہ صرف حکومت وقت سے مایوس ہیں بلکہ اپوزیشن کی قیادت سے بھی مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ پاکستانی اپوزیشن جماعتوں پر پہلی مرتبہ قانون سازی میں حکومتی سہولت کاری کا الزام عائد ہوا ہے۔ سہولت کاری کا یہ سلسلہ پرانا ہے جو 2019 میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے میں توسیع سے شروع ہوا تھا جو کہ اب تک جاری ہے۔
تب نہ صرف ووٹ کو عزت دینے کی دعویدار مسلم لیگ نواز نے بلکہ جمہوریت کے لیے قربانیاں دینے والی پیپلز پارٹی نے بھی قانون سازی میں حکومت کی سہولت کاری کی تھی حالانکہ اسکا اصل مقصد فوجی سربراہ کی خوشنودی حاصل کرنا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے خلاف اپوزیشن کی مسلسل ناکامی اور فرینڈلی اپوزیشن ہونے کے تاثر نے نکمی حکومت کی طرح تھکی ہوئی اپوزیشن کی ساکھ بھی بری طرح متاثر کی ہے اور عوام کپتان ایںڈ کمپنی کی طرح حزب اختلاف سے بھی مایوس ہوتے جا رہے ہیں جس کا نقصان اسے آئندہ انتخابات میں بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ حکومت میں اب تک جتنے بھی مسائل عمران خان کے لئے پیدا ہوئے ہیں، ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جو کسی اپوزیشن پارٹی کی وجہ سے پیدا ہوا۔ یوں لگتا ہے کہ حکومت کا مقابلہ صرف اپنے آپ سے ہے اور بد انتظامی سے لے کر بدترین نا اہلی اور اقرباء پروری تک حکومت خود اپنے بوجھ تلے دفن ہوتی چلی جارہی ہے۔ لیکن دوسری جانب سیاسی مصلحتوں کے باعث متحرک کردار اد اکرنے میں ناکام رہنے والی اپوزیشن جماعتوں کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے ۔
ناقدین کہتے ہیں کہ فرینڈلی اپوزیشن کے فوائد تو حزب اختلاف کی جماعتوں کو بخوبی معلوم ہیں، مگر شاید وہ یہ نہیں جانتی کہ اب ان سیاسی جماعتوں کی اوقات عوام بھی جان چکے ہیں جو حکومتی نا اہلی کا خمیازہ تو بھگت رہے ہیں لیکن اب اپوزیشن سے بھی مایوس ہو رہے ہیں۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ عمران خان کی جہاں یہ بدقسمتی رہی کہ وہ برسر اقتدار آتے ہی بے شمار مسائل میں پھنس گئے، وہیں انکی یہ خوش قسمتی بھی رہی کہ ان کو لولی لنگڑی اور تھکی ہوئی اپوزیشن ملی۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اکثریت کے حوالے سے ہمیشہ دو مختلف سیاسی جماعتیں ایک ہی وقت میں لیڈر آف ہائوس کی کرسی سنبھالے رہی ہیں، مگر یہ شاید واحد دور ہے جہاں عددی اکثریت یا اقلیت کسی کام کی نہیں ہے۔
قومی اسمبلی میں تو حکومتی اراکین کی اکثریت ہے لیکن سینیٹ میں اپوزیشن اراکین اکثریت میں ہونے کے باوجود ہمیشہ حکومت سے شکست کھا جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اس پر فرینڈلی اپوزیشن ہونے کا الزام بھی لگتا ہے۔
سہولت کاری کی انتہا یہ ہے کہ اپوزیشن والے ہر اہم قانون سازی کے موقع پر سینیٹ میں اپنی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے غیر حاضر ہو کر حکومت کے نمبرز پورے کروا دیتے ہیں۔ چئیرمین سینیٹ کا الیکشن ہو، خوئی آرڈیننس ہو، آرمی چیف کی ایکسٹنشن ہو یا سٹیٹ بینک کی خودمختاری کا متنازعہ بل ہو، کہیں بھی حکومت نے اب تک مات نہیں کھائی۔
بلاول پہلے وزیراعظم بنیں گے اور پھر شادی کریں گے
اپوزیشن کے بلند وبانگ دعوے اور نعرے سڑکوں اور جلسوں میں تو بہت مقبول ہیں مگر منظر نامہ حقیقت میں کچھ اور ہی نظر آتا ہے۔ عوام کی ترجمانی کرنے والی پارلیمنٹ میں بزور بازو یا بزور پلاننگ برتری اب تک حکومت کی رہی ہے۔ یہ واحد دور حکومت ہے جہاں عوام کو ٹکٹکی بتی کے پیچھے حکومت نے کم اور اپوزیشن جماعتوں نے زیادہ لگایا ہوا ہے۔2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے وقت جب نواز لیگ کی علیحدگی ہوئی تو تب سے لے کر آخر تک ایک اصطلاح ایجاد کی گئی کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے باریاں لگائی ہوئی اور “فرینڈلی اپوزیشن” کا کردار ادا کرتیں ہیں۔ صرف شور مچاتی ہیں، مگر حکومت کے خلاف نہیں ہیں۔
لیکن موجودہ عمرانی دور حکومت میں واضح ہو چکا ہے کہ فرینڈلی اپوزیشن کیسی ہوتی ہے۔ عوام کو پہلے سال سے عمران خان کے گھر جانے کی نوید سنانے والی دونوں جماعتیں ساڑھے 3 سال بعد بھی ڈھٹائی سے یہی کہتی سنائی دیتی ہیں کہ حکومت بس جانے والی ہے، مگر در حقیقت یہ نہ تو اسمبلیوں میں حکومت کا مقابلہ کر پاتی ہیں اور نہ ہی عوام کی نظروں میں اپنی ساکھ بچا پائی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ تحریک انصاف کی خوش قسمتی ہے کہ اسے تاریخ کی نکمی ترین اپوزیشن ملی ہے جو تمام تر حکومتی ناکامیوں کے باوجود اسے زرہ بھر نقصان نہیں پہنچا پائی۔
آئے روز یہی سننے کو ملتا ہےکہ میاں صاحب واپس آرہے ہیں، ایک پیج پھٹ گیا، سر سے ہاتھ ہٹ گیا، حکومت کا دھڑن تختہ ہونے والا ہے، ڈیل ہوگئی ڈھیل مل گئی، ضمانتیں مل گئیں، احتساب بیانیہ دفن ہوگیا، کرپشن کی انتہاء ہوگئی، ڈالر اور پیٹرول کی قیمتیں حکومت کی ناکامی اکانومی تباہ ہوگئی، ملک لٹ گیا، برباد ہو گیا اور صحافت کا گلا گھونٹ دیا گیا، لیکن کڑوا سچ تو یہی ہے کہ اس سب کے باوجود حکومت قائم و دائم ہے۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایسے ٹھنڈے ماحول میں اپوزیشن کی جانب سے فروری اور مارچ کے مہینوں میں حکومت مخالف لانگ مارچ کرنے سے بھی کوئی فرق پڑنے والا نہیں اور اس کا بھی وہی انجام ہوگا جو پچھلے لانگ مارچ کا ہوا تھا۔
اپوزیشن کی نشستوں اہلی اور ناکامیوں سے مایوس مبصرین کا ماننا ہے کہ ماضی میں سیاست دان ہمیشہ ڈیل اور ڈھیل ہی کے نتیجے میں اقتدار کی سیڑھی تک پہنچے، ایسے میں سول سپر میسی کے نعرے مارتے انقلابیوں کی باتیں اور بیانات صرف ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور کے مصداق ہیں جن کا مقصد عوام کو بیوقوف بنانے کے سوا اور کچھ نہیں کیونکہ پاکستانی اشرافیہ کے مفادات کل بھی ایک تھے اور آج بھی مشترک ہیں۔
