بالاکوٹ فضائی حملے پر بھارتی غلط بیانی بے نقاب

جھوٹ پر جھوٹ، غلط بیانی، حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا سلسلہ آخر کب تک؟ بالآخر عالمی میڈیا 2019 میں بالاکوٹ پر ہونے والے بھارتی فضائی حملے کے حقائق سامنے لے آیا۔ ایک امریکی تھنک ٹینک کی تحقیقی پورٹ نے قرار دیا ہے کہ مودی حکومت کی جانب سے فروری 2019 کے بالاکوٹ فضائی حملے میں پاکستان کے اندر دہشت گرد کیمپ تباہ کرنے اور پاکستانی ’ایف 16‘ لڑاکا طیارہ گرانے کے جھوٹے دعوے کرنے سے بھارت کی ساکھ کے علاوہ اسکی جنگی صلاحیتوں پر بھی سوالات اُٹھ گئے ہے۔

’’اسٹریٹجک اِمپلی کیشن آف انڈیاز لبرلزم اینڈ ڈیموکریٹک اروژن‘‘ کے عنوان سے جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم مودی کی قیادت میں بھارت کی جمہوریت سے وابستگی سے متعلق شبہات بڑھ رہے ہیں اور بھارت کا جموریت سے کٹاؤ میڈیا پر سخت کنٹرول، سول سوسائٹی کے اداروں پر پابندیوں اور اقلیتوں کیلئے کم ہوتے تحفظ سے ظاہر ہوتا ہے۔

معروف امریکی محقق اور یونائیٹڈ سٹیٹس آف پیس کے جنوبی ایشیا کیلئے سینئر مشیر ڈینئل مارکی نے یہ پیپر نیشنل بیورو آف ایشین ریسرچ کیلئے لکھا ہے جو واشنگٹن میں موجود ایک غیرمنافع بخش تھنک ٹینک ہے، ڈینئیل سمجھتے ہیں کہ بھارتی مقامی سیاست میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی انڈیا کی خارجہ پالیسی کے مقاصد، اسکی فیصلہ سازی اور انڈیا امریکا تعلقات کو بھی متاثر کرے گی۔

ڈینیئل مارکی کا بالا کوٹ فضائی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ بالاکوٹ حملہ، اس کے بعد جھڑپوں اور بھارت کے پاکستان کے اندر دہشت گرد کیمپ تباہ کرنے اور پاکستانی ’ایف 16‘ لڑاکا طیارہ گرانے کے جھوٹے دعوے امریکا میں بھارت کی ساکھ اور اس کی جنگی صلاحیتوں پر سوالات کو جنم دے چکے ہیں۔

امریکا: فائرنگ کے دو واقعات میں طالبعلم سمیت 3 افراد ہلاک

اگرچہ بھارت اب بھی پاکستان کو ڈرانے میں اپنی ناکامی قبول کرنے سے انکاری ہے، تاہم امریکی سکالرز اور دفاعی ماہرین نے صرف ایک بھارتی طیارہ تباہ ہونے کی تصدیق کی جس کا پائلٹ بھی پکڑا گیا جو بعد میں واپس روانہ کر دیا گیا۔ تاہم بھارتی فضائیہ کی جانب سے پاکستانی ایف سولہ طیارہ گرانے کے دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

امریکی جریدے میں بھارت کی مسلمان مخالف پالیسیوں کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہنجب تک بھارتی پالیسیاں مسلمانوں اور دیگر اقلیتی گروہوں کے مخالف ہیں، انڈیا کا عالمی تاثر اس کی ساکھ بھی متاثر ہوتی رہے گی جبکہ بھارت کے ہمسایہ ممالک بھیباس کو ایک سیکولر جمہوری ریاست سمجھنے سے انکاری ہیں۔

امریکی مصنف نے خبردار کیا کہ اس طرح سے بھارت کا خطے میں اثر و رسوخ کم ہوگا جبکہ مالی بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت کے باعث جنوبی ایشیا میں چین کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوگا۔ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کی بہت بڑی مسلم آبادی نئی دہلی کے لیے دنیا بھر میں مسلم اکثریتی ریاستوں کے ساتھ قریبی تعلقات کو استوار کرنے کے لیے ایک قدرتی پُل کے طور پر کام کر سکتی ہے، لیکن بڑھتا ہوا اکثریتی، ہندتوا بھارت کے وفاق کے لیے بھی خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔

Back to top button