کیا ڈالر 250 روپے سے بھی سستا ہو جاۓ گا؟
رواں ماہ کے پہلے ہفتے کے دوران پاکستان میں ڈالر ریکارڈ 335 روپے تک پہنچ گیا تھا۔ اب سخت اقدامات کے بعد اس کی قدر میں واضح کمی آئی ہے اور انٹر بینک میں ڈالر 300 روپے سے نیچے آ گیا، جو اس وقت گزشتہ 20 روز کی کم ترین سطح پر ہے۔ منگل کے روز انٹر بینک میں ڈالر 1 روپے 41 پیسے سستا ہونے کے بعد 299 روپے 75 پیسے کا ہو گیا۔ انٹر بینک میں پیر کے روز کاروبار کے اختتام پر ڈالر 301 روپے 16 پیسے کا تھا۔ دوسری جانب کرنسی مارکیٹ میں اس خبر نے ہلچل مچا رکھی ہے کہ سخت اقدامات کے ذریعے ڈالر کی قیمت کو دو سو پچاس روپے سے بھی کم کی سطح پر لایا جاۓ گا جو اس کی حقیقی قیمت ہے. گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستانی روپے کی بے قدری اور ڈالر کی اونچی اڑان کے پیچھے افغانستان کے کرنسی سمگلر اور کرنسی ایکسچنج کا ناجائز دھندہ کرنے والے افغان تاجروں کا بڑا ہاتھ رہا . انہی جرائم پیش افغان باشندوں کے گٹھ جوڑ سے پاکستان سے بڑے پیمانے پر افغانستان کرنسی اسمگل ہو رہی تھی جن کے خلاف اب حساس اداروں کے تعاون سے گرینڈ آپریشن کیا جا رہا ہے . وی نیوز کی ایک رپورٹ میں کے مطابق ایف آئی اے کے ایک آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان میں افغان باشندے اور تاجر ڈالر اسمگلنگ میں ملوث رہے اور بڑے پیمانے پر ڈالر مارکیٹ سے اٹھاتے رہے ، ان کی جانب سے ناجائز طور پر ڈالر ذخیرہ کرنے سے پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہو رہی تھی. پاکستان سے بڑے پیمانے پر افغانستان کرنسی اسمگلنگ ہو رہی ہے۔ جس کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ اور ایف آئی اے کی اس پر کڑی نظر ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی مسلسل بے قدری کو کنڑول کرنے کے لیے پورے ملک میں کارروائیاں جاری ہیں۔ اور ایف آئی اے کی خصوصی ٹیمیں اسمگلرز کے خلاف متحرک ہیں۔ ’پاکستان اور افغانستان کی سرحد کا طورخم بارڈر خاص طور پر اور دیگر سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے بھی ڈالر افغانستان منتقل کیا جاتا ہے‘۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستن کی جانب سے ڈالر کی سمگلنگ روکنے کے لئے گزشتہ ہفتے سے طور خم بارڈر کو بند کر دیا گیا ہے صرف اس ایک قدم کا خاطر خواہ نتیجہ دیکھنے کو ملا ہے.امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر بہتری آئی ہے۔ جبکہ پاکستانی کرنسی افغان کرنسی کے مقابلے میں بھی بہتر ہوئی ہے۔ایف آئی اے حکام کے مطابق ڈالر اسمگلنگ پر مکمل قابو پایا گیا تو پاکستانی کرنسی مستحکم ہو گی اب اسمگلرز کے خلاف سخت کارروائیاں ہو رہی ہیں، بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں مقیم افغان باشندے کرنسی کے کاروبار سے بھی وابستہ ہیں لیکن قانون پر عمل نہیں کرتے۔ افغان کرنسی ڈیلر سب سے زیادہ حوالہ ہنڈی کا کام کرتے ہیں جس سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے۔ اس کےعلاوہ افغان ڈیلر ڈالر اسمگلنگ میں بھی ملوث ہیں۔ ایف آئی اے نے گزشتہ 3 ماہ کے دوران خیبرپختونخوا زون میں 109 چھاپہ مار کارروائیاں کیں۔ جس کے دوران 127 افراد کو گرفتار کرکے 109 مقدمات درج کیے گئے۔ چھاپہ مار کارروائیاں پشاور، ایبٹ آباد، ڈی آئی خان، نوشہرہ، سوات، مردان، بٹ خیلہ، کوہاٹ کے مختلف علاقوں اور طورخم بارڈر پر کی گئی ہیں۔ جس کے دوران 67 کروڑ 95 لاکھ روپے سے زیادہ مالیت کی ملکی اور غیر ملکی کرنسی برآمد کی گئی۔ گرفتار ملزمان یو اے ای، سعودی عرب و دیگر ممالک سے ہنڈی حوالہ کے نیٹ ورکس کے ساتھ رابطے میں تھے۔ اور بغیر لائسنس کرنسی کی ایکسچینج میں ملوث تھے۔ جبکہ اس دوران متعدد پلازوں کو بھی سیل کیا گیا جہاں کرنسی کی غیر قانونی سرگرمیاں جاری تھیں۔ کرنسی اسمگلنگ کے خلاف ملک بھر میں خصوصی کریک ڈاؤن کے بعد پاکستانی روپے کی قدر میں واضح بہتری آنے لگی۔ ۔ دوسری جانب چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن ملک بوستان نے کہا کہ اسمگلنگ بند ہونے کے بعد ہر چیز قابو میں آگئی ہے ،ایکسچینج کمپنیوں نے پچھلے چار دن میں 40ملین ڈالرز انٹربینک میں سرنڈر کیے، ملک بوستان نے کہا کہ ایکسچینج کمپنیوں کی جو سپلائی بلیک مارکیٹ کے پاس چلی گئی تھی وہ بحال ہوگئی ہے , ڈالر کی قدر کم ہورہی ہے، خبریں چل رہی ہیں کہ ڈالر 250روپے آنے تک آپریشن جاری رہے گا ، ، ایران اور افغانستان بارڈر پر اسمگلنگ روکنے سے مسئلہ حل ہوجائے گا، افغانستان اور ایران پر معاشی پابندیاں ہیں اس لیے
اینٹی کرپشن کا پرویز الہیٰ کیخلاف ایک اور مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ
انہیں ڈالرز کی ضرورت ہے۔
