کیا واقعی نواز شریف 21 اکتوبر کو واپس آ رہے ہیں؟

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے بارے میں اب تک مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں کے امکانات پر مبنی بیان، تاریخوں اور مہینوں کے حوالے سے قیاس پر ہی مبنی ہوتے تھے لیکن اب ان کے برادر خرد شہباز شریف نے اکتوبر کی 21 تاریخ کو ان کی وطن واپسی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔خیال رہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے ماضی میں مختلف تاریخیں اور بیانات سامنے آتے رہے ہیں تاہم یہ پہلا موقع ہے جب نواز شریف کی وطن واپسی کی باقاعدہ تاریخ بتائی گئی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی واپسی کے اعلان کے بعد ملک میں سیاسی ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ نواز شریف کے وطن واپسی کے اعلان کو اب صرف ان کے حامی ہی نہیں بلکہ مخالفین بھی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی اپنے مرکزی رہنمائوں اور قابل ذکر حامیوں کے ساتھ چارٹرڈ طیارے کے ذریعے لاہور پہنچیں گے۔ نواز شریف کے تاریخ ساز استقبال کی تمام تیاریاں اور انتظامات جاری ہیں اور اگر ان کی وطن واپسی میں کوئی تعطل پیدا نہیں ہوتا تو ابھی ان کے آنے میں ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ پڑا ہے لیکن ان کے آنے کے اعلان سے ہی ماحول میں گہما گہمی کے آثار نظر آرہے ہیں۔
نواز شریف کی وطن واپسی کی تاریخ کے اعلان کے بعد جہاں لیگی کارکنان پر جوش ہیں وہیں سوشل میڈیا صارفین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر تبصروں اور تجزیوں کا ایک طوفان برپا کر رکھا ہے۔ کسی صارف کو لندن میں مقیم پی ٹی آئی کے سپورٹر شایان علی کی یاد آئی تو کسی نے نواز شریف کو مشورہ دیا کہ آنے سے پہلے شایان علی کو الواداعی ڈنر پر ضرور بلایا جائے۔طنزومزاح کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا تو صارف ایفی ویوز نے مزاحیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا منصوبے کے تحت واپسی پر نواز شریف کا جہاز اٹک جیل کے پاس انتہائی نچلی پرواز سے گزارہ جائے گا اور وہاں ریسیں دے کر دو تین چکر بھی لگائے جائیں گے
نواز شریف کی وطن واپسی کی بدلتی تاریخوں پر تبصرہ کرتے ہوئے صحافی بشیر چودھری نے لکھا لکھ لیں نواز شریف واپس نہیں آئیں گے۔۔
ایک اور صارف عبداللہ نے لکھا ابھی تو صرف نواز شریف کی واپسی کی تاریخ کا اعلان ہوا ہے اور کئی عمرانڈو صحافیوں اور اینکرز کی چیخیں نکلنا شروع ہوگئی ہیں۔ سوچیں جس دن وہ لینڈ کرینگے کیا عالم ہوگا۔
صحافی خرم اقبال نے سوال پوچھا کہ نواز شریف کی وطن واپسی کی تاریخ تو آگئی ، کیا کیلنڈر مارک کرلیں اب؟
نواز شریف کی واپسی کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے صحافی مبشر زیدی نے لکھا نواز شریف اپنے سیاسی کیرئیر کے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے وطن واپس آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ۔ پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ بہت زیادہ ہیں اور کوئی فوری حل کام نہیں آئے گا۔ کیا وہ ڈیلیور کر پائیں گے؟
نواز شریف کی واپسی پر سینئر صحافی ندیم ملک کا کہنا ہے کہ نوازشریف 21 اکتوبر کو واپس آکر پارٹی کی قیادت سنبھالیں گے، مریم نوازشریف کی بریت کے بعد نوازشریف کیخلاف مقدمے میں جان نہیں رہی۔ اور ہائیکورٹس کے فیصلے بھی موجود ہیں کہ نیب کو سیاسی انجینئرنگ کیلئے استعمال کیا جاتا رہا۔
واضح رہے کہ لندن میں ہونے والے پاکستان مسلم لیگ ن کے اعلیٰ سطح اجلاس میں نواز شریف کی وطن واپسی کا فیصلہ ہوا، جس کے بعد نواز
شریف کی 21 اکتوبر کو پاکستان واپسی کا اعلان کیا گیا ہے۔
