کیا پنجاب میں الیکشن کا التواء آئینی ہے یا غیر قانونی؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پنجاب میں انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے کے بارے میں وکلا اور ماہرین میں واضح تقسیم نظر آ رہی ہے۔کچھ قانونی و آئینی ماہرین اسے خوش آئند قرار دے رہے تو کچھ اس فیصلے پر پاکستان الیکشن کمیشن کو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب گردانتے ہیں۔خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 22مارچ کو ملک میں سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے انتخابات پانچ ماہ سے زیادہ کے لیے 8 اکتوبر تک ملتوی کر دیے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ اس کو پیش کی گئی رپورٹس، بریفنگ اور مواد پر غور کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ پنجاب میں 30 اپریل کو ہونے والے انتخابات کا انعقاد ایماندارانہ، منصفانہ، پرامن طریقے سے اور آئین اور قانون کے مطابق کرنا ناممکن ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کا التوا سپریم کورٹ کے یکم مارچ کے فیصلے کے باوجود سامنے آیا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات 90 دن کی مقررہ مدت کے اندر کرائے جائیں جب کہ کسی بھی عملی مشکل کی صورت میں عدالت عظمی نے اس مقررہ مدت سے کم سے کم انحراف کی اجازت دی تھی۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے کے حوالے سے قانونی ماہرین کی آراء منقسم نظر آتی ہیں۔سابق چیف الیکشن کمشنر کنور دلشاد نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ آئین اور قانون کے تحت الیکشن کمیشن کا فیصلہ مکمل طور پہ قانونی ہے اور سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ کنور دلشاد سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن ایک مکمل طور پر آزاد اور خودمختار ادارہ ہے اور اسے اپنے اختیارات کو استعمال کرنا چاہیے۔سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان عرفان قادر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کی تاریخ دے کر واضح طور پر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا تھا کیونکہ الیکشن کی تاریخ دینا کسی طور بھی سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ انہوں نے گزشتہ سماعتوں پر سپریم کورٹ کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کو عدالت طلب کرنے پر بھی اظہار تاٗسف کیا تھا اور کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ کسی صورت بھی سپریم کورٹ جج سے کم نہیں۔

معروف قانون دان حامد خان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے پینجاب میں انتخابات کو ملتوی کر کے نہ صرف آئین کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ عدالتی فیصلے اور صدر مملکت کی جانب سے الیکشن کی تاریخ کے اعلان کی بھی خلاف ورزی ہے جو الیکشن کمیشن ہی کی مشاورت سے کیا گیا۔حامد خان کا کہنا تھا آئین کے مطابق الیکشن کمیشن نوے دن میں انتخابات کرانے کا پابند ہے پھر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حکم جاری کیا اور الیکشن کمیشن کی مشاورت سے جب صدر نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا تو الیکشن کمیشن اپنے اس فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ ایک سوال کے جواب کہ آیا سپریم کورٹ الیکشن کی تاریخ کا اعلان کر سکتا تھا، اس پر حامد خان نے کہا کہ جب بھی آپ کو آئین کی تشریح درکار ہوتی ہے تو آپ سپریم کورٹ سے ہی رجوع کرتے ہیں اور اس معاملے میں بھی ایسا ہی کیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وکلا کی ٹیم میں شامل بیرسٹر گوہر علی خان کہتے ہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان کا فیصلہ بالکل غلط اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اس سے پہلے آرٹیکل 105 کے بارے میں فیصلہ دیا تھا کہ آئین کی رو سے اسمبلیاں تحلیل ہونے کے نوے روز کے اندر اندر انتخابات کا انعقاد لازم ہے لیکن اب الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنے موجودہ فیصلے میں کہہ رہا ہے کہ اس کے لیے فری اینڈ فیئر انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔ صوبے میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال ہے، وزارت خزانہ کے پاس فنڈز نہیں اور سکیورٹی پرسنلز الیکشن میں ڈیوٹی کے لئے میسر نہیں۔گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے تو یہ خیبر پختونخواہ میں بھی انتخابات کا التواء کریں گے۔ گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ زیادہ سے زیادہ پولنگ ڈے کو آگے لے کر جایا جا سکتا ہے لیکن اس معاملے میں الیکشن کمیشن نے پہلے انتخابات ملتوی کر کے اور اس کے بعد الیکشن کی تاریخ دے کر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے اور آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ ممکنہ طور پر یہ معاملہ ایک بار پھر سپریم کورٹ کی جانب جاتا دکھائی دیتا ہے۔

بیرسٹر اسد رحیم خان نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو آئین سے انحراف، قانون کا مذاق اور سپریم کورٹ کی توہین قرار دیا ہے۔بیرسٹراسد رحیم خان نے ٹوئٹر پر تبصرہ کیا کہ یہ فیصلہ جمہوریت کے لیے بھی تباہ کن ہے، یہ اب ووٹنگ کی ترجیحات سے بالاتر ہے یعنی اپنے نمائندوں کو منتخب کرنے کی آزادی کا حق خطرے میں ہے۔قانون دان ریما نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات کو 5-6 ماہ تک ملتوی کرنے کی اجازت کے طور پر سپریم کورٹ کے ’کم سے کم‘ انحراف کی الیکشن کمیشن کی تشریح، اور واضح آئینی ضابطے کی خلاف ورزی کا جواز پیش کرنے کے لیے آرٹیکل 254 کا مذموم استعمال دونوں قانونی طور پر ناقص اور غلط ہیں۔

سپریم کورٹ کے وکیل سلمان راجا نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ہماری بدقسمت تاریخ میں ایک اور سیاہ لمحہ قرار دیا۔بیرسٹر محمد احمد پنسوٹہ نے فیصلے کو غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر ازخود نوٹس لینا چاہیے۔قانونی ماہرین کے علاوہ صحافیوں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تنقید کی۔ایڈوائزری سروسز فرم تبادلب کے سی ای او مشرف زیدی نے ای سی پی کے فیصلے کو آئین کی جان بوجھ کر اور بدنیتی کی خلاف ورزی قرار دیا۔مشرف زیدی نے کہا کہ بروقت، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہی آگے بڑھنے کا واحد قانونی راستہ ہے، اس چال کے پیچھے عناصر عام انتخابات کو ملتوی کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے اور یہ مزید انتشار کا ایک فارمولا ہے۔

سابق سفارت کار ملیحہ لودھی نے کہا کہ اگر ای سی پی کی منطق اور جواز پر عمل کیا جائے تو پھر سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے جمہوریت اور انتخابات کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کیا جا سکتا ہے جیسا کہ ایگزیکٹو حکام نے طے کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر ہیں۔مصنف اور صحافی زاہد حسین نے بھی ای سی پی کے فیصلے کو آئین اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ یہ نئے استبداد کا آغاز ہے۔

ٹرمپ اور پیوٹن کی گرفتاری کی جعلی تصاویر کس نے پھیلائیں؟

Back to top button