کیا اظہر مشوانی ہی فوج مخالف سوشل میڈیا مہم کا سرغنہ ہے؟

سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ریاستی اداروں اور صحافیوں کے خلاف مہم چلانے کے لیے بدنام عمرانڈو اظہر مشوانی کی گرفتاری کو جہاں عمران خان نے اغوا قرار دیا ہے وہیں سوشل میڈیا پر یوتھیوں نے اظہر مشوانی کی بازیابی کیلئے واویلا مچا رکھا ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق اظہر مشوانی کی بازیابی کیلئے تحریک انصاف قیادت کا رونا دھونا بے معنی نہیں ہے کیونکہ اظہر مشوانی کو عمران خان کے فوج، آئی ایس آئی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف مہم چلانے والے منظم مافیا کا دوسرا اہم ہینڈلر سمجھا جاتا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اظہر مشوانی اس وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہے۔ ذرائع کے مطابق فوج مخالف مہم کے مبینہ سرغنہ مشوانی کے واٹس ایپ سے فوج، خفیہ ایجنسی اور سیکیورٹی اداروں سمیت عدلیہ کے 13 جسٹس صاحبان سے متعلق متعدد بھیانک وائس نوٹس برآمد ہوئے ہیں، جوکہ عمران خان، بشریٰ بیگم سمیت اعلیٰ پارٹی عہدیداروں کے ہیں، جن میں عمرانڈوز کو شرپسندی پر اکسانے کے بھیانک مشورے فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اظہر مشوانی کی اپنی وائس ڈیٹا رکارڈنگ بھی بہت مکار اور بھیانک ریکارڈنگز سامنے آئی ہیں۔ اظہر مشوانی کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی قیادت کی نیندیں حرام ہوتی نظر آ رہی ہیں، ، تاہم واٹس ایپ ریکارڈ کے بعد ممکنہ طور پر تحریک انصاف بند گلی میں داخل ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اظہر مشوانی کی گرفتاری کے بعد بہت سے فوج مخالف اکاؤنٹس سائلنٹ موڈ پر جاچکے ہیں جس سے ایک بات سچ ثابت ہو گئی ہے کہ مشوانی ہی اُن اکاؤنٹس کے پیچھے تھا دوسری جانب سینئر صحافی طلعت حسین نے بھی اپنے وی لاگ میں تصدیق کی ہے کہ پاک فوج اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کیخلاف نفرت انگیز، غلاظت بھری مہم اظہر مشوانی چلارہا تھا اور اس کیلئے اس نے کسی لڑکی کے نام سے فیک اکاؤنٹ بنایا یوا تھا.

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف الزام عائد کر رہی ہے کہ عمران خان کے سوشل میڈیا فوکل پرسن اظہر مشوانی کو 23 مارچ جمعرات کو لاہور میں اپنی رہائش گاہ سے زمان پارک جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغواہ کر لیا ہے۔اس حوالے سے تھانہ گرین ٹاون میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی ہے تاہم ایف آئی آر ابھی تک درج نہیں ہو سکی ہے۔اظہر مشوانی نہ صرف عمران خان کے ترجمان ہیں بلکہ پارٹی کی دیگر سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ اس سے پہلے وہ پی ٹی آئی کی یوتھ وِنگ کے چیئرمین بھی رہے ہیں اور حال ہی میں وزیرِ اعلی پنجاب کے میڈیا کوآرڈینیٹر بھی رہ چکے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ایک ٹویٹ میں اظہر مشوانی کے مبینہ اغوا کی مذمت کی ہے۔ ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔اظہر مشوانی کی اہلیہ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’وہ جمعرات کی سہ پہر کو گھر سے زمان پارک کے لیے نکلے تو نہ وہ عمران خان کی رہائش گاہ پہنچے اور نہ ہی واپس گھر آئے۔ ان کا موبائل نمبر بھی بند جا رہا ہے۔‘

سوشل میڈیا پر انتہائی متحرک اظہر مشوانی کا نمبر جمعے کو مختلف واٹس ایپ گروپس سے اچانک نکلنا شروع ہو گیا۔ بعد ازاں ان کا واٹس ایپ نمبر بھی ڈی ایکٹیویٹ ہو گیا۔ان کی اہلیہ نے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا ہے جس میں ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ابھی تک پولیس یا دیگر کسی ادارے نے ان کی گرفتاری سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

خیال رہے کہ اظہر مشوانی کا تعلق خیبر پختونخوا کے شہر مانسہرہ کے مشوانی قبیلے سے ہے۔ وہ سنہ 2008 میں لاہور تعلیم کی غرض سے آئے اور ایک نجی ادارے میں چارٹر اکاؤنٹنٹ بننے کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔اسی دوران وہ پاکستان تحریک انصاف کے سٹوڈنٹ ونگ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن آئی ایس ایف سے وابستہ ہو گئے۔

پی ٹی آئی کے سب سے پرانے ورکروں میں سے ایک محمد اشتیاق نے بتایا کہ ’اظہر مشوانی جب آئی ایس ایف میں تھے تو ان کے بارے میں زیادہ لوگ نہیں جانتے تھے۔ البتہ جب سنہ 2011 کا لاہور جلسہ ہوا اور اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے اپنے سوشل میڈیا ونگ کی بنیاد رکھی تو وہ اس ٹیم میں شامل ہو گئے۔ یہ ٹیم ڈاکٹر ارسلان خالد کے زِیراثر کام کر رہی تھی۔ بہت جلد اظہر مشوانی نے سوشل میڈیا ٹیم میں اپنا لوہا منوایا، اور وہ ارسلان خالد کے نمبر ٹو کے طور پر مشہور ہو گئے۔‘سنہ 2018 میں جب پی ٹی آئی حکومت میں آئی تو اس وقت اظہر مشوانی اپنی جماعت کے پنجاب کے سوشل میڈیا کے انچارج تھے۔ڈاکٹر ارسلان پی ٹی آئی کے مرکزی سوشل میڈیا کے سربراہ تھے۔ حکومت میں آنے کے بعد ڈاکٹر ارسلان خالد اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے سوشل میڈیا فوکل پرسن کے عہدے پر براجمان ہو گئے تو اظہر مشوانی کے حصے میں اس وقت کے وزیراعلٰی پنجاب عثمان بزادر کے سوشل میڈیا فوکل پرسن کا عہدہ آیا۔

محمد اشتیاق کے مطابق ’اظہر مشوانی کو پارٹی کے اندر ٹوئٹر کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ جس طریقے سے انہوں نے پارٹی کے بیانیے کو سوشل میڈیا خاص طور پر ٹوئٹر پر منوایا اس کی مثال نہیں ملتی۔ وہ عام زندگی میں پیچھے رہ کر کام کرنے والے اور کم گُو اور شرمیلے انسان ہیں۔ البتہ گزشتہ ایک دو برسوں سے وہ ٹوئٹر پر بذات خود سامنے آ کر اتنے متحرک ہوئے کہ اب ان کو ہر کوئی جانتا ہے۔‘’ ان کا شمار پی ٹی آئی کے ان رہنماوں ہوتا ہے جو پارٹی کی سوشل میڈیا حکمت عملی طے کرتے ہیں۔‘

کیا پنجاب میں الیکشن کا التواء آئینی ہے یا غیر قانونی؟

Back to top button