بجلی 10 روپے یونٹ تک سستی ہو سکتی ہے : وزیر توانائی

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہاہے کہ آئی پی پیز سے بات چیت اور جامع اصلاحات کےبعد بجلی کےنرخ بتدریج 10 روپے فی یونٹ کم ہوسکتے ہیں۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہےکہ پاور سیکٹر کو بہت س مسائل کا سامنا ہے، ریفارمز کی ضرورت ہے،پاکستان کو آئی پی پیز کےحوالے سے تحفظات ہیں،بجلی مہنگی ہونے کی وجہ حکمت عملی کافقدان ہے،گردشی قرضوں اور بلند شرح سود کابوجھ صارفین پر پڑرہا ہے۔
وزیر توانائی اویس لغاری کاکہنا تھاکہ بجلی مہنگی ہونےکی وجہ حکمت عملی کا فقدان ہے،سرکلرڈیٹ اور بلند شرح سود کا بوجھ صارفین پر پڑرہا ہے، ای وی چارجنگ اسٹیشن ملک بھر میں بنائیں گے،پیڑول امپورٹ میں کمی ہوگی، انہوں نے کہاکہ رواں سال کےاختتام پر 10پاور کمپنیو ں کی نجکاری ہو جائےگی، ریفارمز کے ذریعےبجلی 10 روپے یونٹ تک سستی ہوسکتی ہے،بجلی کی قیمت کو انڈسٹری کےلیے کم کیا جاسکتا ہے، پاور سیکٹر میں ذمہ داریاں دےکر مسائل حل کرنےکی کوشش کی،ماضی میں بیورو کریسی، پاور ڈویژن کےپاس کام کرنےکی اہلیت نہیں تھی،پاور سیکٹر کےچند ماہ میں مکمل ہونے والے پراجیکٹ سالوں نہ ہو سکے۔ ان کاکہنا تھاکہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں سیاسی معاملات بہت خراب تھے، ماضی میں حکومت کے احکامات پرعمل درآمدنہیں کیا جاتا تھا، 9 ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو سبسڈی دی جاتی تھی جسے بند کردیا گیا۔
وزیر توانائی نےبتایا کہ فنانشل ایڈوائزر اور نجکاری کمیشن کے ساتھ رابطےمیں ہیں، 3 سرکاری ڈسکوز کو نجی شعبےکے حوالےکرنے کےلیے ایک ماہ میں مالی مشیر کا تقرر ہوگا، 70 فیصد پاور پلانٹس حکومتی سرپرستی میں چل رہےہیں۔انہوں نے اقدامات کےحوالے سےکہا کہ بجلی کی پیداواری قیمتوں میں کمی کی کوشش کر رہے ہیں،پاور پلانٹس اور آئی پی پیز کےمعاہدوں کا جائزہ لےرہے ہیں، پاور ریفارمز کے تحت این ٹی ڈی کو 3 حصوں میں تقسیم کر رہے ہیں۔
اویس لغاری کاکہنا تھا کہ کمزور طبقے کو بجلی کےبلوں میں 500 ارب کی سبسڈی دی،بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی تجاویز زیرغور ہیں جب کہ آئی پی پیز کےمعاہدوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں، 2034 تک 2700 میگاواٹ اضافی بجلی کی ضرورت ہے،ہائیڈل پاور اور سولر انرجی سےمزید بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔
اویس لغاری کاکہنا تھاکہ الیکٹرک گاڑیوں کی ری چارجنگ کےلیے ملک بھر میں اسٹیشن قائم کیےجائیں گے۔ ملک میں برقی گاڑیوں کو فروغ ملےگا تو پیٹرول کی درآمد میں کمی واقع ہوگی،مشاورت سےاور جامع حکمتِ عملی طے کر کے صنعتوں کےلیے بجلی کی قیمت کو کم کیا جاسکتا ہے۔
