سیاہ فیصلے کرنے والے سیاہ پوش ججز کا کیا انجام ہونے والا ہے؟

سینیئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان میں سیاہ پوش ججز کا ایک مخصوص ٹولہ ہر ادارے کو چیلنج کر رہا ہے، یہ وہی ججز ہیں جو کروڑوں عوام کے منتخب کردہ وزیراعظم کو ایک منٹ میں نااہل قرار دے کر گھر بھیج دیتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ 70 برس تک یہ سیاہ پوش جج حضرات، خاکی پوش وردی والوں سے ملے ہوئے تھے اور اپنے باہمی مفادات کی خاطر پاکستان کا نقصان کر رہے تھے۔ لیکن آج یہ سیاہ پوش اور خاکی پوش دست گریبان ہیں اور نقصان پھر پاکستان کا ہو رہا ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اس فیصلہ کن جنگ کا نتیجہ چند ہی دنوں میں نکلنے والا ہے۔ فرض کریں سپریم کورٹ کے مخصوص جج فتح یاب ہوتے ہیں تو الیکشن کمیشن کا خاتمہ یو جائے گا، شہباز حکومت اور موجودہ پارلیمنٹ کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ جائے گا اور پھر  بات فوج تک پہنچے گی۔ دوسری صورت میں عدلیہ کے مخصوص ججز کے فیصلے کو پارلیمان بے اثر بنا دے گی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت مخصوص ججز کے فیصلے ماننے سے انکار کر دیں گے۔ تاہم ان دونوں صورتوں میں نقصان پاکستان کا ہو گا۔ سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ 75 برسوں میں ہم نے جو آئین بنایا اور جو آئینی ادارے تشکیل دیے، ان کا کچھ نہ کچھ بھرم بھی قائم ہے، دنیا بھی ہمارے اس بھرم پر یقین رکھتی ہے مگر اس لڑائی کے نتیجے میں یہ بھرم ٹوٹ جائے گا۔ ہماری فوج کمزور ہو یا عدلیہ، دونوں صورتوں میں ملک کا نقصان ہو گا۔ کاش دونوں طرف کے عالی دماغ کوئی راستہ نکالیں ۔

سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ معروف فلسفی اور ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر نے ایک زمانے میں ڈنمارک کی سیاسی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہاں کا نظام گل سڑ چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج کے پاکستان کی صورت حال بالکل ڈنمارک جیسی ہے جہاں کے سیاہ پوشوں کو ملک و ملت کے آخری فیصلوں کا اختیار حاصل ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ گلی کے بچوں کی طرح لڑ رہے ہیں۔ یہ سیاہ پوش ججز اپنے ہی چیف جسٹس کے خلاف صف آرا ہیں اور دونوں جانب سے حملے جاری ہیں۔ وہ ججز جن کے فیصلوں سے ملک نے چلنا تھا وہ خود اپنے ہی فیصلے نہیں کر پا رہے۔ ڈنمارک کی طرح منتخب ایوان میں سازشیں عروج پر ہیں۔ ایوان واضح طور پر تقسیم کا شکار ہے اور قانون کے بلند ترین ستونوں اور دانش کے برجوں کو یہ توفیق تک نہیں ہے کہ ساتھ والے کمروں میں بیٹھے ساتھیوں سے مکالمہ کر کے بحران کا حل نکالیں۔ ملک کو نام نہاد انا اور اصولوں کی سولی پر چڑھانے والے ان فیصلہ سازوں میں ایک بھی ایسا سربلند نہیں جو سمجھ پائے کہ ان لڑائیوں نے پورے پاکستان کو ایک گہرے گڑھے میں دھکیل دیا ہے۔ اب یا نام نہاد اصول بچیں گے یا پھر کنٹرول نہ ہونے والی طاقت بچے گی اور پاکستانی دونوں طرف سے خسارے میں رہیں گے۔

سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ اگر کوئی ایسا سانحہ ہوا تو تاریخ کل سیاہ پوش ججز سے یہ سوال ضرور کرے گی کہ آپ نے پاکستانی عوام کو اس گڑھے میں دھکا کیوں دیا تھا؟ ان کے مطابق پاکستان میں ججز کا رتبہ گھر جوائی یا گھر داماد کا سا ہے۔ پاکستان کے قیام سے لےکر آج تک کسی بھی جج کا احتساب نہیں ہوا۔ اگر کسی جج پر لگا الزام ثابت بھی ہو جائے تو وہ مستعفی ہو کر گھر بیٹھ کر باعزت اور باثروت زندگی گزارتا ہے جب کہ جگادری سیاست دان، جرنیل اور جگے بیوروکریٹ تک سب جیلیں بھگتتے رہے ہیں۔ پاکستان میں ان سیاہ پوش گھر جوائیوں کو ہمیشہ سے بڑے لاڈ پیار سے پالا گیا ہے۔ ججز کا حلقہ اشرافیہ میں داخلے کا طریقہ نہایت آسان ہے کیوں کہ انہوں نے ملک کے اہم ترین فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ ایسے میں ہر کسی کو داغدار ترین سیاہ پوش کو "می لارڈ” یعنی میرے آقا کہہ کر عزت دینا ہڑتی یے۔ ظلم تو یہ ہے کہ کالا چوغہ پہنے انصاف کی کرسی پر براجمان ہو کر بھٹو کی پھانسی جیسے سیاہ ترین فیصلے کرنے والے یہ مخصوص ججز جب چلتے ہیں تو چوبدار مغل شہنشاہوں کی طرح ان کی آمد کا اعلان کرتےہیں۔ ہٹو اور بچو کی صدائیں لگتی ہیں تا کہ ان کا راستہ صاف کیا جا سکے۔

سہیل وڑائچ یاد دلاتے ہیں یہ وہی مخصوص ججز ہیں جنہوں نے 70 برس تک ملکی آئین روند کر مارشل لا نافذ کرنے والے ڈکٹیٹرز کا ساتھ دیا۔ یہ وہی ججز ہیں جو ہر غیر آئینی مارشل لا کو وسیع تر قومی مفاد میں جائز قرار دیتے تھے اور پھر ہر ڈکٹیٹر برس ہا برس تک اقتدار پر براجمان رہتا تھا۔ یہ وہی ججز ہیں جو عوام کے منتخب نمائندوں اور ان کی اسمبلیوں پر تلواریں چلانے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ صعف اتنا ہی نہیں بلکہ ان مخصوص ججز کو اختیار اور اقتدار کی چمک سے پیار ہو گیا اور جاہ طلبی کی خواہش نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔ چیف جسٹس افضل ظلہ کے دور میں اس کی ابتدائی علامات نظر آئیں مگر اس جاہ طلبی کا مکمل اظہار جسٹس افتخار چودھری دور میں کھل کر سامنے آ گیا۔ اس کے بعد سے تو اب سیاہ پوش مخصوص ججز کھلے عام ہر ادارے کو چیلنج کر رہے ہیں۔ انتہا یہ ہے کہ کروڑوں عوام کے منتخب وزرائے اعظم کو پانچ غیر منتخب سیاہ پوش ججز ایک منٹ میں گھر بھیج دیتے ہیں۔ ایسا کرنے کےلیے ان ججز نے آئین اور قانون کی ایسی ایسی من مانی تشریحات کیں کہ خدا کی پناہ۔ سپریم ترین پارلیمان کے بنائےگئے قوانین کو ججز کی جانب سے تشریح کے نام پر اپنی مرضی کے معانی پہنائے گئے۔

سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ پاکستان کے عوام نے اپنے سیاہ پوش گھر دامادوں کی یہ سب چیرہ دستیاں بڑے صبر سے برداشت کیں کیونکہ اس وقت خاکی پوش وردی والے بھی ان کے ساتھ تھے، چنانچہ کسی کی جرات ہی نہیں تھی کہ سیاہ پوشوں کی تجاوزات پر انگلی اٹھائے۔ لیکن خدا کی کرنی یہ ہوئی ہے کہ کل کے دوست آج کے دشمن بن گئے۔ اب خاکی پوش بھی سیاہ پوشوں کی جاہ طلبی سے تنگ آ چکے ہیں اور دونوں کے مابین خانہ جنگی کی صورت حال ہے۔ سیاہ پوش مخصوص ججز کا مرتبہ تو یہ ہے کہ صورتحال کا حل نکالتے ہوئے ایسے فیصلے کرتے کہ بحران ختم ہوتا، مگر وہ بظاہر کسی غلط فہمی کا شکار ہو کر انقلاب کے راستے پر چل نکلے ہیں۔ یہ راستہ ملک کو ایسی گہرائیوں تک لے جائے گا جس سے واپسی بہت مشکل ہو گی۔ کوئی ان سیاہ پوش ججز سے پوچھے آپ ہر وقت سیاست میں تو مداخلت کرتے رہتے ہیں کبھی اپنے ادارے کے ماضی کے داغ مٹانے کی بھی کوشش کی؟ بھٹو کی پھانسی کو تو غلط قرار دے دیا مگر ان ججز کے بارے میں کوئی فیصلہ کیوں نہیں دیا، جنہوں نے یہ غلط فیصلہ کیا تھا؟ کم از کم ان ججوں کی تصویریں ہی سپریم کورٹ سے ہٹا دیں کیا کبھی افتخار چودھری کو بلا کر پوچھا گیا ہے کہ جناب آپ آئین سے ہٹ کر پورے ملک کو چلانے پر قادر کیسے ہو گئے تھے، کیا کسی نے میاں ثاقب نثار سے پوچھا ہے کہ وہ کس برتے پر ملک بھر کے دورے کر کے احکامات دیتے پھرتے تھے، کیا وہ وزیر اعظم تھے یا انہیں صدر کے اختیارات حاصل ہو گئے تھے، کیا کسی نے جسٹس کھوسہ، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز کو بلا کر پوچھا ہے کہ آپ نے نفرت اور مخالفت سے مغلوب ہو کر نواز شریف کی نااہلی کا جو فیصلہ سنایا تھا وہ آئین اور قانون سے سراسر متصادم تھا؟ اور کیا کسی نے جسٹس عطا بندیال اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا کہ آپ نے تو خود ہی عمران خان کے اسمبلی توڑنے کے اقدام کو غلط قرار دیا تھا، تو پھر کیا ہوا کہ آپ شہباز حکومت کے پیچھے پڑ گئے ؟

ججز کی جنگ میں آخری جیت فائز عیسی کی ہوگی یا منصور شاہ کی؟

سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ ماضی کے تجربے کو دیکھتے ہوئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ سیاہ پوش ججز کبھی اپنے بڑوں کا احتساب نہیں کریں گے کیوں کہ اس سے ان کی اپنی جاہ طلبی کے احتساب کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ کوئی اسے اصول پسندی قرار دے، آئین پر عملداری کا معاملہ قرار دے یا اسے عوامی مینڈیٹ اور جمہوریت کا نام دے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مخصوص ججز اس وقت غصے میں ہیں، اور وہ کام جو غصے سے شروع ہو اس کا انجام شرم پر ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں اکثر فیصلے غصے میں کئے گئے ہیں اسلئے ان کی اہمیت دیرپا نہیں ہے اور یہ فیصلے تاریخ کے سنہرے میناروں کی بجائے تاریخ کے کوڑے دانوں کی نذر ہوں گے۔

Back to top button