ایمرجنسی اور صدارتی نظام کا نفاذ ممکن کیوں نہیں؟

ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور صدارتی نظام لانے کے امکانات کو سختی سے رد کرتے ہوئے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ 2007 میں ایمر جنسی لگانے والے جنرل مشرف کو غداری کے الزام میں سزائے موت سنائے جانے کے بعد اب یہاں دوبارہ کبھی ایمرجنسی نہیں لگائی جا سکتی۔ انکا کہنا ہے کہ صرف منتخب پارلیمنٹ ہی ایمر جنسی کے نفاذ کی توثیق کرسکتی ہے اور اسی پلیٹ فارم سے صدارتی نظام نافذ کیا جاسکتا ہے، تاہم موجودہ اسمبلیوں میں اپوزیشن کی بڑی تعداد کی موجودگی کے پیش نظر ایسا ہونا ناممکن نظر آتا ہے۔

یاد رہے کہ ملک میں ان دنوں صدارتی نظام حکومت لانے کے لیے ممکنہ ایمرجنسی کے نفاذ کی خبریں گرم ہیں۔ لیکن اس تجویز کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مروجہ قانون اور آئین کو بھی دیکھا جانا چاہیے جس میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ پاکستان میں ماضی میں بھی صدارتی نظام حکومت رائج رہا ہے اور ہر مرتبہ بری طرح ناکام ہوا ہے۔

ماضی میں بھی صدارتی نظام کے ذریعے طالع آزما اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے استعمال کرتے رہے اور اب بھی ایسا ہی منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں ایمرجنسی کسی بھی طور نافذ نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ صرف ایک وقتی اقدام ہوتی ہے اور کسی بھی وفاقی اکائی میں محدود عرصے کے لیے ہی لگائی جا سکتی ہے۔ معروف قانون دان شاہ خاور کا کہنا ہے کہ اب آئین میں مشرف کی جانب سے لگائی گئی ایمرجنسی جیسی کسی ہنگامی حالت کے نفاذ کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مشرف نے جس طرح کی ایمرجنسی نافذ کی تھی، اب اس کی کوئی گنجائش نہیں رہی اور نہ ہی آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مشرف کو اس ایمر جنسی کے نفاذ کی وجہ سے غداری کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں اس جرم میں سزائے موت سنا دی گئی۔ اس لیے جن ججوں نے ایمر جنسی کے بعد حلف اٹھائے تھے، ان کی تعیناتی کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔

بقول شاہ خاور آئین پاکستان ایمرجنسی کے نفاذ کی اجازت دیتا ہے لیکن یہ پورے ملک کے لیے نہیں بلکہ صرف کسی ایک وفاقی اکائی کے لیے ہو سکتی ہے اور وہ بھی اس صورت میں جب وہاں کی اسمبلی کسی باقاعدہ قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت سے اس کا مطالبہ کرے۔ سنیئر قانون دان بیرسٹر اکرم شیخ کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 232، 233 اور 234 ایمر جنسی کے نفاذ کا تذکرہ کرتے ہیں لیکن یہ محدود وقت کے لیے ہوتی ہے اور پورے ملک کے لیے نہیں ہو سکتی۔ یہ صرف کسی ایک علاقے کے لیے ہو سکتی ہے۔ اس کا اعلان وزیر اعظم کرتا ہے اور پارلیمان کو اس کی منظوری دینا ہوتی ہے۔

بیرسٹر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ جہاں تک صدارتی نظام حکومت کا تعلق ہے، اس کی آئین میں کوئی گنجائش ہی نہیں، پاکستان کا طرزِ حکومت وفاقی پارلیمانی ہے اور صدارتی طرز حکومت کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ ہاں اگر کسی سیاسی جماعت کے پاس اکثریت ہو، تو آئین میں ترمیم کے ذریعے ایسا کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آئینی ترمیم کے بغیر نظام کو بدلا نہیں جا سکتا۔ موجودہ صورت حال میں مجھے نہیں لگتا کہ ایسا قطعی طور پر ممکن ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر لطیف آفریدی کے مطابق پارلیمنٹ کو ہرطرح کا اختیار حاصل ہے البتہ پارلیمنٹ کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی جوآئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کے خلاف ہو یا قرآن و سنت کے منافی ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی طرح کی قانون سازی کی جا سکتی ہے۔ پارلیمان ایسی ترامیم کو ختم بھی کر سکتی ہے، جو ماضی میں آئین میں کی گئی تھیں۔ وہ آئین کو تبدیل کر کے اس کو صدارتی طرز کا بھی بنا سکتی ہے لیکن صرف اور صرف پارلیمنٹ کو ہی یہ اختیار حاصل ہے۔ کوئی اور ادارہ یا شخص ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ ملک کے وفاقی پارلیمانی نظام حکومت کو بدل کر صدارتی نظام حکومت بنا دے۔

عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے معافیاں مانگتے پھر رہے ہیں

کئی ماہرین قانون کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں فوجی آمروں ایوب خان اور جنرل پرویز مشرف نے ہی پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان میں صحیح معنوں میں صدارتی نظام حکومت صرف ایوب خان کے دور میں نافذ ہوا، جو 1958 میں ملک میں مارشل لاء نافذ کر کے اقتدار میں آئے تھے۔ انہوں نے اس نظام حکومت کو چلانے کے لیے بنیادی جمہوریتوں کا قانون منظور کروایا اور بنیادی جمہوریتوں کے انتخابات جیتنے والوں پر مشتمل انتخابی کالج بنایا، جو صدر کو منتخب کرتا تھا۔ جولائی 1977 میں اقتدار میں آنے والے جنرل ضیاالحق نے ملکی آئین کا نقشہ ہی بگاڑ دیا۔

وہ طویل عرصے تک ایک آمر کی طرح ملک پر حکومت کرتے رہے۔ اس کے بعد انہوں نے 1985ء میں صدارتی ریفرنڈم کرایا اور اپنے آپ کو منتخب کروا لیا۔ جنرل ضیاالحق کے دور میں کی گئی آئینی ترامیم کی وجہ سے ملکی سیاسی نظام میں صدر کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں اور انہی اختیارات کے بل پر دو مرتبہ صدر غلام اسحاق خان اور ایک مرتبہ صدر فاروق لغاری نے منتخب حکومتوں کو چلتا کر دیا۔ 199

کی دہائی میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے مشترکہ طور پر صدر کے اس اختیار کو ختم کر دیا۔ اس  اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے ملک میں پارلیمانی طرز حکومت کو مزید مضبوط کیا، ممکنہ مارشل لاء کا راستہ روکا اور اعلیٰ عدلیہ کے اس اختیار کو بھی ختم کر دیا کہ وہ کسی بھی مارشل لا کو کوئی قانونی جواز فراہم کرے۔ ایسے میں قانونی ماہرین سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے بغیر نہ تو ایمرجنسی نافذ کی جاسکتی ہے اور نہ ہی پارلیمانی نظام کو

صدارتی نظام سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

Back to top button