نیٹ میٹرنگ ختم ہونے سے صارفین کے بجلی بل بڑھنے کا امکان

 

 

 

 

وفاقی حکومت نے سولر صارفین پر بڑا حملہ کرتے ہوئے ملک بھر میں رائج نیٹ میٹرنگ سسٹم مکمل طور پر ختم کر کے نیا گراس میٹرنگ فارمولا رائج کر دیا ہے۔ نئے نظام کے تحت سولر صارفین کو اضافی بجلی کے عوض سرچارج کے بجائے فی یونٹ تبادلہ دیا جائے گا، جبکہ نئی پالیسی کے تحت سولر سے بجلی پیدا کر کے حکومت کو فروخت کرنے والے صارفین کے لیے نئے نرخ مقرر کیے گئے ہیں۔ نیٹ بلنگ کے تحت فی یونٹ قیمت خرید 22 روپے سے کم کر کے تقریباً 11 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔ ناقدین کے مطابق نیپرا کی جانب سے کی گئی اس تبدیلی کے نتیجے میں صارفین کو مالی اعتبار سے واضح فرق محسوس ہوگا۔

 

پالیسی میں ایک اور اہم تبدیلی کے تحت سولر معاہدے کی مدت 7 سال سے کم کر کے 5 سال کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اب 25 کلو واٹ سے کم لوڈ رکھنے والے صارفین کو بھی نیپرا سے لائسنس لینا لازم ہوگا، جبکہ اس سے قبل گھریلو، صنعتی اور کمرشل صارفین 25 کلو واٹ تک لائسنس سے استثنیٰ حاصل تھا۔

 

خیال رہے کہ بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پاکستان میں گذشتہ چند برسوں میں شمسی توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گھریلو سطح پر صارفین نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے سولر پینل استعمال کرتے ہیں بلکہ اضافی بجلی کو نیٹ میٹرنگ کے ذریعے قومی گرڈ میں شامل کر کے اس کی قیمت بھی وصول کرتے ہیں۔ تاہم اب حکومت نے نیٹ میٹرنگ کے نرخوں میں کمی کر دی ہے، جس کے بعد سولر صارفین کو گرڈ بجلی کے استعمال پر وہی قیمت ادا کرنا ہو گی جو عام صارفین ادا کرتے ہیں۔ نئے ضوابط کے تحت نیٹ میٹرنگ صارفین کو بجلی کی فروخت کے عوض اوسط قومی انرجی پرچیز پرائس دی جائے گی، جس کے نتیجے میں فی یونٹ ادائیگی 22 روپے کی بجائے تقریباً 11 روپے رہ جائے گی۔ اس کے علاوہ ڈسکوز کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ زیادہ نیٹ میٹرنگ والے فیڈرز پر مزید درخواستیں مسترد کر سکیں گے۔

 

نیپرا حکام کے مطابق اس وقت سسٹم سے منسلک سولر نیٹ میٹرنگ کی مجموعی صلاحیت تقریباً 6 ہزار میگاواٹ ہے، جبکہ آف گرڈ سولر کو شامل کیا جائے تو یہ صلاحیت 13 ہزار میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ اقدامات کے نتیجے میں شمسی توانائی کی قابلِ استعمال صلاحیت میں تقریباً 50 فیصد کمی آ سکتی ہے۔

 

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں لاکھوں صارفین سولر سسٹم نصب کر چکے ہیں اور ملک میں بجلی کے حصول کیلئے قومی گرڈ پر انحصار کم ہو رہا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ موجودہ نیٹ میٹرنگ سسٹم سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو مالی نقصان ہو رہا ہے جس کا بوجھ بالآخر عام صارفین پر منتقل ہوتا ہے۔ اس لیے حکومت اب نیٹ میٹرنگ ختم کر کے اس کی جگہ پر ’نیٹ بلنگ‘ کا نظام لا رہی ہے۔

 

واضح رہے کہ نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر صارف دن کے وقت اپنی اضافی پیدا ہونے والی بجلی قومی گرڈ کو فراہم کرتا ہے اور رات یا ضرورت کے وقت گرڈ سے بجلی استعمال کرتا ہے۔ مہینے کے اختتام پر صارف کے برآمد شدہ یونٹس اور امپورٹ شدہ یونٹس کو آپس میں منہا کیا جاتا ہے۔ اگر صارف نے زیادہ بجلی گرڈ کو دی ہو تو اس کا بل کم ہو جاتا ہے یا بعض صورتوں میں صفر بھی آ جاتا ہے۔موجودہ نظام میں سولر صارفین کو برآمد شدہ بجلی پر وہی ریٹ ملتا ہے جو انہیں بجلی خریدنے پر ادا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم حکومت اب نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ کا نظام متعارف کرانے جا رہی ہے۔ اس نئے نظام کے تحت سولر صارف کی درآمد شدہ بجلی پر قومی ٹیرف لاگو ہو گا جبکہ برآمد شدہ بجلی کے یونٹس کو ایک علیحدہ مقررہ ریٹ یعنی 11 روپے فی یونٹ پر خریدا جائے گا۔نئے بلنگ فارمولے کے مطابق سب سے پہلے صارف کے استعمال شدہ یونٹس پر قومی ٹیرف کے مطابق بل بنایا جائے گا۔ اس کے بعد سولر صارف کی جانب سے گرڈ کو دی گئی بجلی کے یونٹس کا بل 11 روپے فی یونٹ کے حساب سے منہا کیا جائے گا۔ اگر منفی کرنے کے بعد بل باقی رہتا ہے تو صارف کیلئے اس کی ادائیگی لازمی ہو گی۔

 

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کو گراس میٹرنگ سے تبدیل کرنے کا کیا مطلب ہے؟ ماہرین کے مطابق سادہ الفاظ میں نیٹ میٹرنگ سے مراد یہ ہے کہ جن افراد کے گھر میں سولر سسٹم نصب ہوتا ہے وہ سولر سسٹم سے بننے والی بجلی براہ راست گرڈ کو فروخت کرتے ہیں اور گرڈ کی بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اس میں صارف اپنی گھریلو ضرورت کی بجلی استعمال کر کے باقی بچنے والے یونٹس حکومت کو بیچ دیتے ہیں اور اس سارے عمل کے لیے ایک ہی میٹر استعمال ہوتا ہے۔گراس میٹرنگ میں دو میٹر لگتے ہیں۔ ایک میٹر وہ ہوتا ہے جو صارف کے گھریلو استعمال کے لیے گرڈ سے لی گئی بجلی کے استعمال شدہ یونٹس کے حساب سے بل بھیجتا ہے جبکہ دوسرا میٹر سولر سے بجلی پیدا کر کے اسے گرڈ کو ایکسپورٹ کرتا ہے۔نیپرا کی مجوزہ ریگولیشنز کے مطابق سولر سے جو بجلی بن کر گرڈ کو دی جائے گی اُس کے تحت جو رقم حکومت کے ذمے بنے گی وہ اسے ماہانہ یا سہ ماہی بنیادوں پر صارف کو ادا کرے گی۔نیپرا کی طرف سے متعارف کرائے گئے نئے نظام کے تحت بجلی کی خرید اور فراہمی کے لیے الگ الگ نرخ مقرر کیے جائیں گے۔ بجلی کمپنیاں صارفین سے فی یونٹ بجلی نیشنل ایوریج انرجی پرائس  کے مطابق خریدیں گی، جبکہ صارفین کو گرڈ سے بجلی لینے پر علیحدہ ٹیرف ادا کرنا ہو گا۔نئے سولر منصوبوں کے لیے گراس میٹرنگ کے تحت بجلی فروخت کرنے کا مجوزہ نرخ 11 روپے 30 پیسے فی یونٹ رکھا گیا ہے جبکہ وہ صارفین جو پہلے ہی نیٹ میٹرنگ کے معاہدوں کے تحت حکومت کو بجلی فروخت کر رہے ہیں، وہ اپنی معاہدہ مدت پوری ہونے تک اضافی بجلی 22 روپے فی یونٹ کے حساب سے فروخت کرتے رہیں گے۔

پی آئی اے کی نجکاری سے حکومت کو 55 ارب روپے حاصل ہوں گے : وفاقی وزراء

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ کا نیا نظام کے لاگو ہونے کے بعد سولر صارفین کے بجلی کے بلوں میں کیا تبدیلی ہو گی؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے شمسی توانائی سیکٹر سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اس بات کو ایسے سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر ایک عام گھریلو صارف ماہانہ 300 یونٹ بجلی استعمال کرتا ہے اور اس نے 10 کے وی کا سولر سسٹم لگا رکھا ہے۔ موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام میں فرض کریں صارف نے 300 یونٹ استعمال کیے اور 250 یونٹ گرڈ کو برآمد کیے۔ اس صورت میں بل صرف 50 یونٹ کا بنتا ہے جس پر ٹیکسز سمیت اندازاً تین سے چار ہزار روپے بل آتا ہے، بعض اوقات یہ بل اس سے بھی کم ہو سکتا ہے۔‘’نئے نیٹ بلنگ نظام میں 300 یونٹ پر قومی ٹیرف کے مطابق بل بنایا جائے گا، جو تقریباً 12 سے 15 ہزار روپے تک ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد 250 یونٹ برآمد شدہ بجلی کو 27 روپے فی یونٹ کے حساب سے منہا کیا جائے گا یعنی تقریباً چھ سے سات ہزار روپے بنے گا۔ اس طرح صارف کو باقی رقم ادا کرنا ہو گی جو اندازاً پانچ سے سات ہزار ہو سکتی ہے۔‘دوسرے لفظوں میں اب نئے نظام میں وہ صارف جو پہلے بہت کم بل ادا کرتا تھا، اسے اب نمایاں طور پر زیادہ رقم ادا کرنا پڑے گی۔

Back to top button