مولانا فضل الرحمٰن کی اسٹیبلشمنٹ سے توقعات پوری نہیں ہوئیں: حامد خان

سینئر قانون دان اور رہنما پی ٹی آئی حامد خان ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی اسٹیبلشمنٹ سے جو توقعات تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں، مولانا فضل الرحمٰن جو کہہ رہے ہیں وہ فرسٹریشن میں کہہ رہے ہیں۔

عمران خان سے جو ملاقات کرتے ہیں وہ ان سےملنے والی ہدایات کی مختلف تشریح کرتےہیں،کچھ لوگ اپنی ذاتی تشہیر کےلیے ایساکرتے ہیں،کچھ لوگ ایسے ہیں جن سےمتعلق تشویش اور شک ہےکہ وہ پارٹی سےمخلص نہیں،ایسے کچھ اوربھی ہیں جو پارٹی کےاندر اختلافات بڑھانے کےلیے بیانات دیتےہیں۔

چیف جسٹس کو جان سے مارنے کی دھمکی پر رہنما ٹی ایل پی کےخلاف مقدمہ درج

حامد خان کاکہناتھا مولانا فضل الرحمٰن سےمتعلق کچھ نہیں کہناچاہتا کیوں کہ ان سے بات چل رہی ہے، مولانا فضل الرحمٰن کی اسٹیبلشمنٹ سے جو توقعات تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں، مولانا فضل الرحمٰن جو کہہ رہے ہیں وہ فرسٹریشن میں کہہ رہے ہیں۔

رہنما پی ٹی آئی حامد خان کاکہنا تھاجو پارٹی کےلیے نقصان دہ تھے ان کوکافی حد تک سائیڈ لائن کردیاہے،چند کاتو پتا چل گیا ہےجن میں سے ایک شیر افضل مروت ہےجو کسی اور مقصد کےلیے آیا تھا، شیر افضل مروت ذاتی تشہیر کرتےتھے،انہوں نےبیانات دےکر پارٹی کونقصان بھی پہنچایا۔

حامد خان کاکہناتھا ہمارے نزدیک سب بڑی زیادتی عدم اعتماد کےوقت اسمبلیوں سے استعفے دینا تھا،شاہ محمود اور پرویز الہیٰ نےبتایاکہ فواد چوہدری اور شیخ رشید نے عمران خان کو استعفوں پر مجبور کیاتھا۔

Back to top button