کیا سپریم کورٹ کا فیصلہ فائز عیسی اور منصور شاہ کی جنگ کا نتیجہ ہے؟

باخبر ذرائع کا دعوی یے کہ سپریم کورٹ کے 8 ججز کی جانب سے پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں مخصوص نشستوں کا حق دار قرار دینے کا فیصلہ دراصل چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور سینیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ کے مابین جاری کشمکش کا نتیجہ ہے، اسی وجہ سے 8 ججز نے پی ٹی آئی کے حق میں جب کہ پانچ ججز نے اسکے خلاف فیصلہ دیا ہے جسے فائز عیسی کی شکست اور منصور علی شاہ کی جیت سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فائز عیسی اور منصور علی شاہ کے مابین یہ چپقلش تب شروع ہوئی جب حکومتی ذرائع سے یہ خبریں آنا شروع ہوئیں کہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں دو سے تین برس کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ایسی خبروں کی تردید کی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ سینیئر ترین جج ہونے کے ناطے جسٹس منصور علی شاہ ان خبروں سے کافی پریشان تھے۔ پریشانی کی بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ حکومت چیف جسٹس کی مدت ملازمت بڑھانے کے لیے ائینی ترمیم لانے کا سوچ رہی تھی جس کے لیے پارلیمنٹ میں اس کے پاس دو تہائی اکثریت بھی موجود تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اسی وجہ سے جسٹس منصور علی شاہ نے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہ دینے کا فیصلہ معطل کر دیا۔ یوں حکومت آئینی ترمیم لانے کی پوزیشن میں نہیں رہی کیونکہ اس کی دو تہائی اکثریت ختم ہو گئی۔ اس کے بعد قاضی فائز عیسی کو مخصوص نشستوں کے حوالے سے حتمی فیصلے کے لیے فل کورٹ بنانا پڑی۔ کہا جاتا ہے کہ اس دوران جسٹس منصور علی شاہ نے جسٹس منیب اختر اور جسٹس اطہر من اللہ جیسے عمرانڈو ججز کے ساتھ مل کر اکثریت حاصل کر لی اور پھر ایک ایسا فیصلہ دیا جو کہ ناقابل یقین ہے، آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ عدالت میں پٹیشنر کوئی اور جماعت تھی اور فیصلہ کسی اور جماعت کے حق میں دے دیا گیا۔ جسٹس منصور شاہ اور ان کے ساتھی ججز کی جانبداری کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایسا فیصلہ دیا جسے آئینی تشریح کی بجائے آئین کو دوبارہ لکھنا قرار دیا جا رہا ہے۔

جہاں ایک طرف سپریم کورٹ کے فیصلے پر حکومتی اتحادی جماعتیں ناراض دکھائی دیتی ہیں وہیں دوسری جانب سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی شکست سے تعبیر کیا جا رہا ہے کیونکہ عمومی طور پر چیف جسٹس صاحبان اکثریتی فیصلے کا حصہ ہوتے ہیں تاہم مخصوص نشستوں کے کیس میں چیف جسٹس اقلیتی بینچ کا حصہ تھے۔

خیال رہے کہ 8 کے مقابلے میں 5 کے تناسب سے یہ اکثریتی فیصلہ جسٹس منصورعلی شاہ نے سنایا جس کے مطابق پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کو دینے اور پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے اسے برقرار رکھنے والے دونوں فیصلے بھی کالعدم قرار دے دیے گئے ہیں۔

فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ سپریم کورٹ کے اس اہم فیصلے کے سیاسی اثرات کیا ہونگے اور اس کے بعد کیا کچھ تبدیل ہو سکتا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا یے کہ مخصوص نشستوں کے حوالے سے فیصلہ جس صورت میں بھی آتا اس سے ملکی سیاست ہل کر رہ جاتی۔ اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کو کھوئی ہوئی پہچان اور مجصوص نشستیں دونوں واپس ملنے جا رہی ہیں جس کے بعد وہ قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت بن جائے گی۔ ائینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درامد کے بعد جب پی ٹی آئی کو کے پی اسمبلی میں بھی سیٹیں ملیں جائیں گی تو وہ سینیٹ میں بھی بڑی جماعت بن جائے گی۔ اس کے علاوہ صدارتی انتخابات کو بھی چیلنج کیا جاسکے گا کیونکہ تب ایوان مکمل ہی نہیں تھا۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد کی 2 تہائی اکثریت بھی ختم ہو جائے گی جس کے بغیر آئین میں ترمیم نہیں ہو سکتی۔ یاد رہے کہ دو تہائی نشستوں کے بغیر کوئی بھی حکومت صرف عام نوعیت کی قانون سازی ہی کر سکتی ہے۔

انتخابی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق ابھی 15 روز میں یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ کیا تمام آزاد امیدوار تحریک انصاف میں ہی شمولیت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں تو تحریک انصاف کی سب سے بڑی جماعت بننے کی خواہش پوری ہو سکے گی۔ دوسری جانب حکومت کے پاس صرف ایک ہی آپشن باقی ہے کہ وہ نظرِ ثانی کی درخواست دائر کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکاری ہوتی ہے تو پھر ملک میں ایک نیا پی سی او بھی لایا جا سکتا ہے لیکن اس بات کا امکان بہت کم ہے۔

 وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا ایکس پر پیغام

سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر سیاسی تجزیہ کار و مبصرین بھی تقسیم نظر آتے ہیں۔ سینئیر صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق ’یہ عدالت کا ایک سیاسی فیصلہ ہے کیونکہ مدعی کوئی تھا اور فیصلہ کسی کے حق میں آگیا۔‘ان کے مطابق عدالت نے ایک سیاسی بحران کا سیاسی حل نکالنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم اس فیصلے سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی ہے کہ سیاسی قوتوں کا راستہ روکا نہیں جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے سیاسی تناؤ اور ٹکراؤ بڑھے گا اور پارلیمنٹ میں ایک نئی محاذ آرائی شروع ہو گی۔سلمان غنی کی رائے میں یہ معاملہ اب پاکستان میں قبل از وقت انتخابات کی طرف جاتا نظر آتا ہے کیونکہ حکومت پہلے ہی عوام میں معیشیت کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات سے غیر مقبول ہوتی جا رہی ہے۔ان کی رائے میں جمہوریت وہاں مضبوط ہوتی ہے جہاں حکمران عوام کی امیدوں پر پورا اترتے ہوں جبکہ صرف اس ماہ کے بجلی کے بل نے عوام اور حکومت میں بڑی خلیج پیدا کر دی ہے۔

 سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اس عدالتی فیصلے سے پی ٹی آئی کو ایک سیاسی جماعت تسلیم کیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ جمہوریت پر جو سوال اُٹھ رہے تھے وہ بھی کم ہوئے ہیں اور ثابت ہوا کہ ملک میں لولی لنگڑی ہی سہی لیکن جمہوریت موجود ہے۔‘ان کے مطابق ’اس فیصلے کے بعد عمران خان کا مؤقف مزید تلخ اورمضبوط ہو گا اور انھیں اسے بیچنا بھی آتا ہے۔ اس سے ماحول میں کشیدگی اور تلخی بڑھے گی۔‘ تاہم سہیل وڑائج کا کہنا کھا تھا کہ عدالتی فیصلے سے حکومت کی ساخت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا چونکہ اگر پی ٹی ائی کو مخصوص نشستیں مل بھی جائیں تو اس کے حمایتی اراکین کی کل تعداد 109 بنے گی جبکہ حکومتگی اتحاد کی تعداد 209 بنتی ہے۔

صحافی اور تجزیہ نگار طلعت حسین کے مطابق سنی اتحاد کونسل کی اپیل کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے 13 رکنی بینچ میں ایک واضح تقسیم نظر آئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دورانِ سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مؤقف کی حمایت کرنے والے ججز آئین اور قانون کے مطابق اس اپیل کا فیصلہ کرنے کے حق میں نظر آئے جبکہ دوسری جانب کچھ ججز کا موقف رہا کہ لوگوں کو معلوم ہے کہ انھوں نے 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں کس جماعت کو ووٹ دیا ہے لہذا مخصوص نشستیں متناسب نمائندگی کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے اسی جماعت کو ملنی چاہییں۔طلعت حسین کے مطابق سنی اتحاد کونسل کی اپیل منظور ہونے کے بعد جہاں ایک طرف حکمراں اتحاد کی دو تہائی اکثریت ختم ہو گئی ہے وہیں آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات کے نتائج پر اٹھائے جانے والے سوالات شدت اختیار کر گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ نواز نے جو نشستیں جیتی ہیں اس میں سے بھی ہر دوسری نشست کے نتیجے کو الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کیا جائے گا۔

Back to top button