عمران خان بھٹو

تحریر: جاوید چودھری
بشکریہ: جاوید چودھری ڈاٹ کام
عمران خان جیل ٹرائل کے دوران جج کو اردلی کہہ دیتے تھے‘ یہ منہ پر انہیں برا بھلا بھی کہتے تھے‘ جیل کے اندر یہ کرنل کا حوالہ بار بار دیتے رہے‘ عمران خان کی ملاقاتیں جب تک جاری رہیں پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کو اس وقت تک ملک‘ فوج‘ عدلیہ اور فیلڈ مارشل کے خلاف مواد ملتا رہا‘ ملاقات کے بعد ہر بار جنرل عاصم منیر کو ذہنی مریض قرار دیا جاتا تھا اور خوف ناک انجام کی دھمکیاں دی جاتی تھیں لہٰذا اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ملاقاتیں بند کرنے پر مجبور ہو گئی‘جج بھی ان کے خلاف ہو گئے‘ عمران خان کے اندر اگر ذوالفقار علی بھٹو نہ ہوتا تو کوئی نہ کوئی انہیں سمجھا لیتا‘ کوئی نہ کوئی ان کا ہاتھ اور زبان کنٹرول کر لیتا مگر یہ کرشماتی لیڈر ہیں لہٰذا کوئی ان کے سامنے دم نہیں مار سکا‘
ہمیں یہاں یہ اعتراف کرنا ہوگا عمران خان بلاشبہ ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں‘ یہ 2024ء کے الیکشن بھی جیت گئے تھے‘ الیکشنز میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو بے تحاشا مار پڑی‘ یہ حکومت بھی جعلی ہے لیکن سوال یہ ہے عمران خان نے کسی کے لیے گنجائش کہاں چھوڑی تھی؟ آپ کی حکومت 2023ء میں ختم ہو گئی‘ حکومتیں ہوتی ہی ختم ہونے کے لیے ہیں‘ اس کرہ ارض پر حضرت سلیمان ؑ اور حضرت دائود ؑ کی حکومتیں بھی ختم ہو گئی تھیں‘ عثمانیوں نے آدھی سے زائد دنیا پر 8 سو سال حکومت کی لیکن وہ سلطنت اور وہ حکومت بھی ختم ہو گئی۔ سپین اور برطانیہ کے بادشاہوں کی سلطنتوں پر سورج نہیں ڈوبتے تھے اور منگول اور تیموری جہاں سے گزر جاتے تھے وہاں دھرتی دہائیوں تک ماتم کرتی رہتی تھی لیکن وہ حکومتیں اور وہ سلطنتیں بھی ختم ہو گئیں‘ دنیا میں جب مدینہ‘ ویٹی کن اور یروشلم کی حکومتیں نہیں رہیں تو عمران خان کس کھیت کی مولی ہیں‘ یہ اور ان کی حکومت بھی بالآخر ختم ہو جانی تھی‘ ہم انسان جس طرح پیدائش کے بعد روزانہ موت کی طرف بڑھتے ہیں بالکل اسی طرح دنیا کی ہر حکومت کا پہلا دن اس کے اختتام کی شروعات ہوتا ہے‘ دن گزرتے جاتے ہیں اور حکومت خاتمے کے قریب پہنچتی جاتی ہے تاہم اقتدار کے اس ظالمانہ کھیل میں جمہوریت ایک معجزہ ہے‘ یہ ایک ایسا گھوڑا ہے جس پر سوار ہو کر حکمران دوبارہ اقتدار میں آ سکتے ہیں‘ آپ ڈونلڈ ٹرمپ کی مثال لے لیجیے‘ یہ 2021ء میں فارغ ہوئے‘ دوسرا الیکشن ہارے لیکن 2025ء میں الیکشن لڑ کر دوسری بار دنیا کی واحد سپر پاور کے صدر بن گئے‘ میاں نواز شریف تین بار وزیراعظم رہے اور چوتھی مرتبہ ان کے بھائی وزیراعظم‘ بیٹی وزیراعلیٰ‘ سمدھی ڈپٹی وزیراعظم اور بھتیجا وزیراعظم ہائوس چلا رہا ہے‘ کیسے؟ یہ صرف جمہوریت کا کمال ہے لیکن جمہوریت کے لیے برداشت‘ صبر‘ عاجزی اور اپنے وقت کا انتظار ضروری ہوتا ہے اور عمران خان میں یہ عناصر نہیں ہیں‘ یہ دروازے‘ کھڑکیاں اور دیواریں توڑ کر تخت تک پہنچنا چاہتے ہیں‘ یہ امیر تیمور کی طرح کھوپڑیوں کے مینار بنانا چاہتے ہیں اور آج کے زمانے میں یہ ممکن نہیں‘ ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا پاکستان تحریک انصاف خالصتاً اسٹیبلشمنٹ کی پارٹی ہے‘ یہ بنائی ہی فوج نے تھی‘ اس کے مصور جنرل حمید گل تھے اور اس کے پہلے سیکرٹری جنرل فوج کے ریٹائر جنرل مجیب الرحمن تھے جب کہ اس میں شامل زیادہ لوگ کسی نہ کسی فوجی کے بیٹے‘ بھتیجے اور بھانجے تھے‘ خواتین کا تعلق بھی فوجی گھرانوں سے تھا‘ جنرل عاصم منیر تک عمران خان کے بہت بڑے فین تھے‘خان کو اقتدار میں لانے میں ان کا بہت بڑا ہاتھ تھا‘ جنرل احمد شجاع پاشا‘ جنرل ظہیر الاسلام اور جنرل فیض حمیدنے انہیں کندھوں پر بٹھائے رکھا اور جنرل باجوہ ان کے سب سے بڑے محسن تھے‘
یہ انہیں اقتدار میں لانے‘ بچانے اور چلانے میں ساری حدیں پار کر گئے تھے‘ یہاں تک کہ ان کے زمانے میں آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور اور مریم نواز کو بیڈروم میں داخل ہو کر گرفتار کر لیا گیا تھا اور یہ وہ حرکت تھی جو کسی نے بھی کسی زمانے میں نہیں کی تھی‘ فوج عمران خان کے لیے اس حد تک چلی گئی تھی‘ 2018ء کے الیکشن میں ’’آر ٹی ایس‘‘ تک بٹھا کر عمران خان کو جتوایا گیا تھا‘ فوج 2023ء میں عمران خان کے نیوٹرل اور جانور کے بیانیے کو بھی پی گئی اور 9 مئی کے واقعات کے بعد بھی عمران خان کے ساتھ وہ سلوک نہیں ہوا جو اس سے 98 فیصد کم پر ذوالفقار علی بھٹو‘ الطاف حسین اور فاطمہ جناح کے ساتھ ہوا ‘ ہم اگر حالات اور وقت کا ٹھنڈے دماغ سے تجزیہ کریں تو ہم یہ ماننے پر مجبور ہو جائیں گے فوج کے دل میں آج بھی عمران خان کے لیے محبت موجود ہے ورنہ دوسری صورت میں ان کے لیے سانس لینا بھی ممکن نہ ہوتا لیکن عمران خان ہر روز اس محبت کا دائرہ کم سے کم کرتے چلے جا رہے ہیں‘ یہ کسی کے لیے بھی گنجائش نہیں چھوڑ رہے‘ آپ خود فیصلہ کیجیے آپ جب طاقتور لوگوں اور سسٹم کے لیے تھریٹ بن جائیں گے تو پھر آپ کے ساتھ کیا سلوک ہو گا؟ آج اگر عمران خان اور ان کی پارٹی دونوں موجود ہیں تو اس کی وجہ فوج ہے‘ یہ پارٹی اور عمران خان کو ختم نہیں کرنا چاہتی ‘ ورنہ مدت پہلے یہ پیک ہو چکے ہوتے مگر یہ بھی حقیقت ہے عمران خان بڑی تیزی سے یہ گنجائش ختم کرتے چلے جا رہے ہیں‘ یہ دن بہ دن بھٹو بنتے جا رہے ہیں لہٰذا مجھے خطرہ ہے وہ وقت دور نہیں جب اس بوجھ سے مکمل چھٹکارے کا فیصلہ کر لیا جائے گا اور یہ ملک کے لیے بہت برا ہو گا‘ سیاسی پارٹیاں بڑی مشکل سے بنتی ہیں‘ ان سے لوگوں کے جذبات وابستہ ہوتے ہیں لہٰذا انہیں بچنا چاہیے‘ عمران خان داد دیں اسٹیبلشمنٹ کے صبر اورحوصلے کی جس نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا ’’نو مور پرائم منسٹر‘‘ چناں چہ 1979ء میں بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد کسی وزیراعظم کو سزائے موت نہیں ہوئی‘ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو ملک سے جانے کی اجازت تک دے دی گئی اور یہ بار بار اقتدار میں واپس بھی آتے رہے‘ کاش عمران خان اس سے سبق سیکھ لیتے لیکن آپ جب کسی کی بھی نہیں سنیں گے‘ آپ جب شاہ محمود قریشی کے مشورے کو بھی غداری اور بزدلی قرار دیں گے تو پھر کیا نتیجہ نکلے گا؟۔
میں اب مذاکرات اور کے پی میں سہیل آفریدی کی حکومت کے خاتمے کی طرف آتا ہوں‘ اسٹیبلشمنٹ نے 2024ء کے الیکشنز میں پی ٹی آئی کو صوبے میں تیسری بار حکومت بنانے کا موقع دیا‘ مولانا فضل الرحمن اسی لیے اسٹیبلشمنٹ سے ناراض ہیں‘ یہ چاہتے تھے اسٹیبلشمنٹ صوبہ ان کے حوالے کر دے لیکن فیصلہ ہوا تمام پارٹیوں کو اقتدار میں شامل کیا جائے تاکہ پولرائزیشن میں کمی آ سکے اور ملک آگے بڑھ سکے ‘ عمران خان نے علی امین گنڈا پور کو وزیراعلیٰ بنا دیا‘ اسٹیبلشمنٹ نے یہ بھی قبول کر لیا‘ اس کی دو وجوہات تھیں‘ علی امین گنڈا پور کے والد امین اللہ گنڈا پور فوج میں میجر رہے تھے‘ علی امین کا بچپن مختلف چھائونیوں میں گزرا تھا‘ ان کے بچپن کے بے شمار دوست بھی فوج میں تھے‘ ریاست کا خیال تھا ان سے بات ہو سکے گی‘ یہ مسائل کو سمجھیں گے اور ان کے ذریعے مل جل کر آگے بڑھا جا سکے گا‘ یہ فارمولا کارگر بھی رہا‘ علی امین گنڈا پور کی درخواست پر عمران خان کو جیل میں بے شمار رعایتیں دی گئیں لیکن جب عمران خان نے علی امین گنڈا پور کو احتجاج پر لگا دیاتو وہاں سے معاملات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے‘ عمران خان اگر ایک سال صبر کر جاتے تو یہ رہا بھی ہو جاتے اور سیاست بھی کر رہے ہوتے لیکن خان صاحب غلطی پر غلطی کرتے چلے گئے۔
