ریاست اور عوام کا ساتھ

تحریر: مجیب الرحمٰن شامی
بشکریہ: روزنامہ دنیا
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات ہو چکے‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وہ کچھ ہو گیا جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ کھسیانی بلی نے فی الفور کھمبا یوں نوچا کہ ٹویٹ کر دیا‘ میرا نام بیلٹ پر نہیں تھا اگر ہوتا تو شاندار کامیابی ملتی‘ حالانکہ موصوف درجنوں بار ووٹرز کو یہ باور کرا چکے تھے کہ میرا نام پرچی پر لکھا ہے‘ یعنی کہ میں خود امیدوار ہوں۔ اس لیے کسی ریپبلکن امیدوار کو ووٹ دینا مجھ کو ووٹ دینا ہے۔ جس جس امیدوار کے حلقے میں جلسہ کیا اسے شکست سے ہمکنار کرنے کا سبب بنے۔ وہ جو کہا جا رہا تھا‘ مختلف سروے اور پول اس کی بار بار یاد دہانی کرا رہے تھے کہ حضرت غیرمقبولیت کی انتہا کو چھو رہے ہیں‘ یعنی کہ بہت نیچے گر چکے ہیں‘ وہ سچ ثابت ہوا۔ وہ سروے کرنے والوں کا مذاق اڑاتے‘ میڈیا اداروں کو ”بکاؤ مال‘‘ قرار دیتے اپنی دھن میں اپنی سی کیے جا رہے تھے۔ آخری دنوں میں یہ تک کہہ دیا کہ اگر ڈیمو کریٹ جیت گئے تو میں مسٹر ”ویٹو‘‘ بن جاؤں گا‘ ان کی قانونی موشگافیوں کو اُدھیڑ کر رکھ دوں گا۔ آں جناب نے بہت کچھ کہا‘ بہت کچھ کیا۔ مسلمان امیدواروں پر برسے‘ ووٹروں کے لتے لیے‘ اسلاموفوبیا کو بھی اُبھارنے کی کوشش کی لیکن کچھ ہاتھ نہ آیا۔ اب ہاتھ مل رہے ہیں لیکن ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھے۔ کچھ نہ کچھ کر گزرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں یا یہ کہیے کہ خیالی پلاؤ پکا رہے ہیں۔ ایوان نمائندگان پر ان کے حریفوں کی گرفت انتہائی مضبوط ہو چکی‘ سینیٹ میں بھی انہیں اکثریت حاصل ہو گئی۔ وہ بلا روک ٹوک ان کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر سکتے‘ ان کے جملہ امور کی تحقیقات کا ڈول ڈال سکتے‘ یہاں تک کہ مواخذے کی تحریک بھی پیش کر سکتے ہیں۔ ان کے وزیر جنگ بھی زد میں ہیں اور وزیر خارجہ بھی۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے تو نتیجہ آتے ہی ہاتھ کھڑے کر دیے اور اعلان کر دیا کہ ایران سے جنگ اور اسرائیل کی حد سے بڑھی ہوئی قربت ہمیں لے ڈوبی۔ ایران کے ساتھ بے مقصد جنگ نے تیل مہنگا کیا اور اس کے بعد ہر شے مہنگی ہوتی چلی گئی۔ مہنگائی کا طوفان اٹھتا گیا اور ٹرمپ کی ساکھ بیٹھتی گئی۔ جناب نائب صدر آئندہ صدارتی انتخاب لڑنا چاہتے ہیں‘ اس لیے وہ اپنے صدر سے فاصلہ بڑھا رہے ہیں کہ جو موصوف کے قریب ہو گا وہ ریپبلکنز کی حمایت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ جناب ٹرمپ اپنے حریفوں سے تو کیا نبٹتے ان کی اپنی پارٹی میں ان کے دشمنوں کی تعداد بڑھ چکی ہے۔ وہ ان کے جسدِ خاکی کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں ہیں۔
امریکی انتخابات کے بے شمار تجزیے‘ بے شمار تجزیہ کاروں اور مبصروں نے کیے ہیں۔ مسلمان ووٹروں کے جوش و خروش کا سب کو اعتراف ہے۔ سینیٹ میں مصری نژاد عرب مسلمان عبدالرحمن محمد السیّد نے جگہ بنا کر نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ امریکی تاریخ میں پہلی بار ایک مسلمان سب سے بڑے پالیسی ساز ادارے کا رکن بن گیا ہے۔ کئی دوسری نشستوں پر بھی مسلمان کامیاب ہوئے ہیں‘ پاکستانی نژاد بھی اپنا آپ منوا رہے ہیں۔ اسرائیل کے خلاف جذبات زوروں پر ہیں‘ جو نسل کشی اس نے غزہ میں کی ہے‘ ہزاروں بے گناہ خواتین‘ بچوں‘ جوانوں اور بزرگوں کا خون بہایا ہے‘ وہ رنگ لا رہا ہے۔ امریکی یہودیوں کی بڑی تعداد نے بھی نیتن یاہو اور اس کی خون آشامی کو رد کر دیا ہے۔ تل ابیب میں نیتن یاہو کے لیے اقتدار حاصل کرنا ممکن نظر نہیں آ رہا‘ وہاں بھی اس کے مخالف نیا حوصلہ پکڑ چکے ہیں۔ امریکہ میں اسرائیلی لابی سر توڑ کوشش کے باوجود پیش قدمی نہیں کر سکی۔ ڈالر پانی کی طرح بہائے گئے لیکن ووٹروں نے ثابت کر دیا کہ وہ بکاؤ مال نہیں ہیں۔ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکہ کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ اس کی شناخت اور قدریں انہیں عزیز ہیں۔ صدر ٹرمپ جو ہر دوسرے‘ تیسرے روز نیتن یاہو سے راز و نیاز کرتے تھے اور اس کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بنے ہوئے تھے‘ امریکی ووٹروں کی نظروں سے ایسے گرے ہیں کہ اٹھنے کے قابل نہیں رہے۔
امریکہ میں جو کچھ بھی ہوا ہے‘ اس نے امریکہ کا چہرہ اُجلا کر دیا ہے۔ اس کے اندر اور باہر رہنے والوں کو اس کا اعتراف کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جمہوریت کے رعب داب میں اضافہ ہوا ہے کہ پُرامن اور خاموش انقلاب اس ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ اگر ووٹ کی پرچی کا آزادانہ اور ذمہ دارانہ استعمال ہو تو پھر برج الٹنے کے لیے کسی برچھی کی ضرورت نہیں رہتی۔ پاکستان اور اس جیسے دوسرے ممالک کو بھی یہ سبق حاصل کرنے اور اسے یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ووٹ ہی کے ذریعے تخلیق ہوا تھا۔ اس کے حصول کے لیے کوئی مسلح جدوجہد نہیں کی گئی تھی۔ اس لیے اس کی زندگی اور توانائی بھی ووٹ ہی سے وابستہ ہے۔ ووٹ کی طاقت بندوق کی طاقت سے بڑھ کر ہے کہ اس کے ذریعے وہ کچھ بآسانی حاصل کیا جا سکتا ہے جو ثانی الذکر کے ذریعے بصد مشکل بھی حاصل نہیں ہو پاتا۔ ووٹ کو فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے تو نظم برقرار اور استوار رہتا ہے۔ پاکستان کی مشکلات بھی اسی راستے پر چل کر کم ہو سکتی ہیں۔ عوام ریاست کے ساتھ جڑے رہیں تو ریاست کی توانائی کم نہیں ہوتی۔ عوام اور ریاست ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوں تو پھر دونوں کسی کام کے نہیں رہتے۔ عوام ریاست کے بغیر اور ریاست عوام کے بغیر؛ ہر چند کہیں کہ ہے‘ نہیں ہے۔
شوکت خانم ہسپتال، کراچی میں
شوکت خانم کینسر ہسپتال کو پاکستان تو کیا دنیا بھر میں لوگ جانتے اور مانتے ہیں۔ اس کے اولوالعزم بانی کی والدہ کینسر سے انتقال کر گئیں تو انہوں نے کینسر کے مریضوں کے لیے بین الاقوامی معیار کا ہسپتال لاہور میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت تک نجی تو کیا سرکاری شعبے میں بھی ایسا ادارہ موجود نہیں تھا۔ عمران خان کرکٹ کا ورلڈکپ جیتنے کے بعد اس کام کے لیے وقف ہو گئے اور اہلِ پاکستان کے تعاون سے کرشمہ کر دکھایا۔ اپنی نوعیت کا پہلا ہسپتال قائم کیا جہاں کم وسیلہ لوگ بھی بے دھڑک آتے اور شفا یاب ہوتے ہیں۔ ان کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوتا۔ لاہور کے بعد پشاور میں ایسا ہی شفا خانہ قائم ہوا اور اب کراچی میں تیسرا شوکت خانم ہسپتال تعمیر کے آخری مراحل میں ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا کینسر ہسپتال ہو گا۔ شوکت خانم کی لیبارٹریز بین الاقوامی معیار کے مطابق تصدیق شدہ ہیں‘ ان سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی مریضوں کے علاج پر خرچ ہوتی ہے۔ ہسپتالوں کا یہ سلسلہ جہاں اہلِ پاکستان کے ایثار اور اخوت کی دلآویز کہانیاں سناتا ہے‘ وہیں اس کے بانی کا نام بھی اس کی بدولت جگمگا رہا ہے۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال کراچی کی طرف متوجہ ہو جائیے‘ دل کھول کر اس کا ساتھ دیجیے اور اس سے جڑے ہر شخص کے لیے دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ تاقیامت اس پر اپنی رحمت اور برکت کا سایہ رکھے۔ بے شک اللہ ہر شے پر قادر ہے۔
