سلمان اکرم راجہ کا حلف اور دست بریدہ

تحریر:وجاہت مسعود۔۔۔۔۔۔۔۔بشکریہ:روزنامہ جنگ
شرمائی، لجائی انتخابی مہم میں زندگی کے کچھ آثار پیدا ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی میدان میں ہیں۔ 28 جنوری سے تحریک انصاف بھی انتخابی مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ پاکستان کی شاید مختصر ترین انتخابی مہم ہو گی۔ ہماری طویل ترین انتخابی مہم دسمبر 1970ء کے انتخابات میں قریب ایک برس چلائی گئی تھی۔ 70ء کے انتخابات اور فروری 2024ء کے انتخابات میں بہت سے مشترک دھارے موجود ہیں۔ دو خبروں پہ توجہ درکار ہے۔ جہلم سے قومی اسمبلی کے زیر حراست امیدوار فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن کو لکھے ایک خط میں اپنے ’گروپ‘ سمیت انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف لاہور کے حلقہ این اے 128 سے تحریک انصاف کے امیدوار سلمان اکرم راجہ نے قرآن پاک پر حلف اٹھا کر عمران خان کا وفادار رہنے کا اعلان کیا ہے۔ فواد چوہدری کے خط کا عکس اور سلمان اکرم راجہ کے حلف کی ویڈیو سوشل میڈیا پر دستیاب ہے۔ فواد صاحب کے کسی قدر عجلت میں لکھے ہوئے اس خط میں تحریک انصاف یا عمران خان کا کوئی ذکر نہیں۔ دوسری طرف سلمان راجہ صاحب نے اپنے ’حلف‘ میں عمران خان سے وفاداری کا اعلان کیا ہے۔

ہماری تاریخ میں منتخب ارکان یا انتخابی امیدواروںکے حلف کی تاریخ پرانی ہے۔ 9 اپریل 1946ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے 500 منتخب ارکان نے مطالبہ پاکستان سے وابستگی کا حلف اٹھایا تھا۔ اس حلف کا متن حرف بحرف ہماری تاریخ میں محفوظ ہے۔ اس میں قائداعظم کا کوئی ذکر نہیں۔ خدا کو حاضر ناظر جان کر مطالبہ پاکستان پر قائم رہنے اور آل انڈیا مسلم لیگ کی تمام ہدایات پر کاربند رہنے کا عہد تھا۔ اس حلف سے پہلے حسین شہید سہروردی نے ایک قرارداد کے ذریعے ہندوستان کے شمال مشرقی منطقے میں بنگال اور آسام نیز شمال مغربی ہندوستان میں پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان کے مسلم اکثریتی صوبوں کی ایک ریاست کا مطالبہ پیش کیا تھا۔ گویا 1940ء میں مسلم اکثریتی ریاستوں کے مطالبے کو 1946ء میں ایک ریاست پاکستان کے مطالبے میں بدل دیا گیا تھا۔ منتخب نمائندوں کے حلف کی یہ روایت ٹھیک 45 برس بعد 3 جنوری 1971 کو ڈھاکہ کے ریس کورس گرائو نڈ میں پھر نمودار ہوئی جہاں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے 419 منتخب ارکان اسمبلی نے شیخ مجیب الرحمن کے سامنے چھ نکات سے وفاداری کا حلف اٹھایا تھا۔ اس مختصر حلف کا متن صدیق سالک کی کتاب ’میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘ میں محفوظ ہے۔ اس حلف میں مجیب الرحمن یا عوامی لیگ سے وفاداری کا کوئی ذکر نہیں۔ جنوری 1971ء پر54 موسم سرما گزر چکے۔ تب صدیق سالک کو تشویش تھی کہ 1946ء کا حلف تو ایک الگ ملک کے قیام کا مطالبہ تھا، کیا شیخ مجیب کے منتخب ارکان بھی علیحدگی کے پروانے پر حلف اٹھا رہے تھے۔ جنوری 1971ء میں عوامی لیگ ملک کی منتخب اکثریتی جماعت تھی۔ مغربی پاکستان سے علیحدگی کا مطالبہ تو شیخ مجیب الرحمن نے 7 مارچ 1971 کو رمنا ریس کورس گرائونڈ میں بھی نہیں کیا تھا۔ انہوں نے مارشل لا اٹھانے اور منتخب نمائندوں کو اقتدار منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ 3 جنوری 1971ء کے وسوسوں کو 16 دسمبر 1971ء کے حقائق تک پہنچنے میں بظاہر صرف ایک برس صرف ہوا لیکن اس مدت میں یکم مارچ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کا التوا اور 25 مارچ کو فوجی کارروائی کا آغاز بھی شامل تھے۔ مجیب مشرقی پاکستان کی علیحدگی چاہتا تھا یا نہیں، اس سوال پر حتمی فیصلہ تاریخ دے گی۔ تاہم نومبر 1971 میں چین کے دارالحکومت پیکنگ میں جنرل گل حسن اور ایئر مارشل رحیم خان کے گٹھ جوڑ کی تفصیلات ظاہر ہو چکیں۔ راولپنڈی میں بیٹھی قیادت کی یہ سوچ معلوم ہے کہ مشرقی پاکستان سے منتخب قیادت کو متحدہ پاکستان پر حکومت نہیں دی جائے گی نیز یہ کہ پرامن علیحدگی کی بجائے جنگ میں شکست کو ترجیح دی جائے گی کیونکہ پرامن سیاسی حل کی صورت میں اثاثوں اور واجبات کی تقسیم کا سوال درپیش تھا۔

اس پس منظر میں سلمان اکرم راجہ کے حلف پر غور فرمائیں۔ سلمان اکرم راجہ لاہور سے عون چوہدری کے مدمقابل ہیں۔ بظاہر ان کی کامیابی کا امکان کم ہے۔ سلمان اکرم ایک مستند قانون دان ہیں لیکن عملی سیاست میں ان کا تجربہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ تحریک انصاف کی سیاست سے اختلاف رکھنے والوں کا بنیادی نکتہ ہی یہ رہا ہے کہ اس جماعت کی سیاست جمہوریت یا کسی معاشی پروگرام کی بجائے ایک شخص کی ذات کے گرد گھومتی ہے۔ سلمان اکرم راجہ کے حلف سے اس تاثر کی تصدیق ہوتی ہے۔ آئندہ عام انتخابات کے نتائج پر گہری دھند چھائی ہے۔ یہ بہرصورت طے ہے کہ دفتری میزوں پر بننے والے سیاسی منصوبے دھرتی اور عوام کی قسمت بدلنے میں کامیاب نہیں ہوا کرتے۔ اس منزل کا درست راستہ تو شفاف سیاسی عمل ہی ہے۔ جھگڑا سلمان اکرم راجہ کی وفاداری کا نہیں، سوال جمہوریت کا ہے۔ ان پچیس کروڑ عوام کی سمت متعین کرنا ہے جن کے دو کروڑ باسٹھ لاکھ بچے سکول سے محروم ہیں۔ ان لاکھوں گھرانوں کا سوال ہے جو اب ’متروک کیے گئے ڈاکٹرائن‘ کے نتیجے میں غریب ہوئے ہیں۔

19 جولائی 1940ء کو برطانیہ کے سوا پورے یورپ پر قابض ہٹلر نے جرمن عوام سے خطاب میں سوال اٹھایا تھا کہ جنگ تو پولینڈ پر حملے سے شروع ہوئی تھی۔ پولینڈ سوویت یونین اور جرمنی میں بٹ چکا۔ اب چرچل کس لیے لڑ رہا ہے؟ اس جنگ کو جاری رکھنے کا کیا جواز باقی ہے؟ چرچل کا جواب بہت سادہ تھا۔ اس نے دارالعوام میں کھڑے ہو کر کہا کہ جنگ کا بنیادی سوال پولینڈ نہیں، خود ہٹلر ہے۔ آج کے پاکستان میں بھی بنیادی سوال عمران خان سے وفاداری یا کسی سیاسی جماعت کی انتخابی کامیابی نہیں۔ ہمارا بنیادی سوال شفاف جمہوری عمل کے ذریعے معاشی ترقی اور عوام کا معیار زندگی ہے۔ اس منزل کے لیے ہمیں کسی فرد سے وفاداری کا حلف درکار نہیں۔ ہمارا جمہوری دستور موجود ہے اور ہمارا اعلان دو ٹوک ہے۔

تو میرے دست بریدہ کا کنایہ تو سمجھ

ایران سے کس طرح بات کی جائے؟

یعنی تجھ کو مری بیعت نہیں ملنے والی

Related Articles

Back to top button