ہم پاکستانی بطور قوم شہبازگل جیسے کیوں بن چکے ہیں؟

معروف صحافی اورتجزیہ نگارجاوید چوہدری نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ بنا ہوا ہے کہ شہباز گل سے جنسی زیادتی ہوئی ہے یا نہیں حالانکہ اس وقت ہماری پہلی اور آخری ترجیح پاکستان میں معاشی اور سیاسی استحکام لانا ہونی چاہئے۔ تاہم افسوس کہ ہم سب من حیث القوم شہباز گل بن چکے ہیں؟

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے ‘کیا ہمیں قوم کہلانے کا حق ہونا چاہیئے؟ کیا قومیں ایسی ہوتی ہیں جیسے ہم بن چکے ہیں؟ آپ ایک طرف ملک کے مسائل دیکھیے‘ ہم چالیس سال سے بھیک پر گزارہ کر رہے ہیں اور آج اگر سعودی عرب اپنے پیسے واپس مانگ لے تو ہم ڈیفالٹ کر جائیں گے اور دوسری طرف ہم عمران خان اور عمران خان ہمارے پیچھے لگا ہوا ہے۔ شہباز گل کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی یا نہیں ہوئی یہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہم خود اپنے ہاتھوں سے ملک میں استحکام نہیں آنے دے رہے۔ ہم ہر دو تین چار سال بعد اپنی ٹانگ دوبارہ توڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ہم پوری دنیا کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں لیکن ہم میں سے ہر خوش حال شخص دوسرے ملک میں جا کر بسنا چاہ رہا ہے‘ کیوں؟ آخر کیوں؟ آخر ہمارا مسئلہ کیا ہے‘ ہم کیوں من حیث القوم شہباز گل بن چکے ہیں؟آپ نے کبھی سوچا!

جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ اسرائیل کے سائنس دانوں نے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ وہ ایک ایسا ائیرکنڈیشن مارکیٹ میں لے آئے ہیں جو ہر قسم کی بجلی کے بغیر چلتا ہے اور اس کے لیے کسی نوعیت کا کرنٹ درکار نہیں ہوتا۔ آپ بس بٹن آن کریں اور یہ ہوا میں موجود گیسز سے چلنا شروع کر دے گا اور آدھ گھنٹے میں کمرے کا ٹمپریچر پندرہ ڈگری نیچے لے آئے گا۔ یہ ایک حیران کن ایجاد ہے۔ اس سے قبل جون میں اسرائیل نے دیوار کے پیچھے دیکھنے کی ٹیکنالوجی لانچ کی تھی۔ آپ اس ٹیکنالوجی سے نہ صرف دیوار کے پیچھے موجود لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں بلکہ ان کی عمر‘ سائز اور حرکات وسکنات بھی نوٹ کر سکتے ہیں۔ اسرائیل نے 2018 میں ایسی ڈیوائس بنائی جو سونگھ کر مریض کے امراض بتا دیتی ہے۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ آپ 92 لاکھ کے اس چھوٹے سے ملک کو دیکھیں اور اس کے بعد پاکستان کو دیکھیں‘ ہمارے صرف ایک شہر لاہور کی آبادی اسرائیل کی کل آبادی سے زیادہ ہے لیکن ہم اپنی ضرورت کی خوراک تک پیدا نہیں کر پا رہے‘ ہم کھانے کا تیل‘ گندم‘ دالیں‘ پٹرول اور گیس تک امپورٹ کرتے ہیں‘ ہمارے ملک میں ہماری ضرورت کے مطابق پٹرول اور گیس دونوں موجود ہیں لیکن ہم میں اسے نکالنے کی اہلیت نہیں ہے اور ہم اگر اسے نکال بھی لیں تو ہمارے اپنے لوگ پائپ لائن کو بم سے اڑا دیتے ہیں‘ ہم اس ملک میں فوج کی پوری ڈویژن کے بغیر گیس اور پٹرول کے لیے ڈرلنگ نہیں کر سکتے۔

عمران کے دوست جاوید آفریدی کا اربوں کا کرپشن سکینڈل

بقول جاوید چودھری، پاکستان کا 70 فیصد رقبہ زرعی ہے‘ ملک میں دو درجن بڑے دریا ہیں‘ مون سون میں صرف آٹھ بارشیں ہوئی ہیں اور ہمارا تیس فیصد رقبہ پانی میں ڈوب گیا‘ بلوچستان اور سندھ میں ایمرجنسی کی صورت حال ہے‘ لوگ دہائیاں دے رہے ہیں اور ہم مدد کے لیے عالمی برادری کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہم آج بھی میٹرو‘ اوورہیڈ برجز‘ ریلوے‘ پی آئی اے‘ موٹرویز اور انٹرسٹی بس سروس پر لڑ رہے ہیں‘ ہم اپنی ویکسین تک نہیں بنا پا رہے‘ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے تک پلانے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ہمارے اندر گلیوں کا کوڑا تک اٹھانے کی اہلیت نہیں ہے‘ آپ ملک کا کوئی ایک صاف ستھرا کونا دکھا دیں یا کوئی ایک شہر بتا دیں جس کے شہریوں کو صاف پانی اور اصلی خوراک مل رہی ہو‘ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں ہمارے صدر‘ وزیراعظم اور آرمی چیف بھی خوراک کے نام پر زہر کھا رہے ہوں گے اور یہ پانی کے نام پر کیمیکل پی رہے ہوں گے۔

پاکستان کا یہ نقشہ کھینچنے کے بعد جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میری اس ملک کے مقتدر طبقوں سے درخواست ہے کہ پلیز آنکھیں کھول لیں اور چند بنیادی فیصلے کر لیں ورنہ یہ ملک ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ ہمیں پہلا فیصلہ یہ کرنا ہو گا کہ دنیا اِدھر سے اُدھر ہو جائے لیکن ہم اپنی ضرورت کی خوراک اسی ملک میں پیدا کریں گے‘ اگر گندم کم پیدا ہو گی تو ہم کم گندم کھا لیں گے لیکن گندم امپورٹ نہیں کریں گے‘ کوکنگ آئل ہو‘ دالیں ہوں‘ چاول ہوں یا پھر پھل ہوں ہم اس ملک میں اگائیں گے‘ آدھا خود کھائیں گے اور آدھا ایکسپورٹ کریں گے‘ پانچ سال میں اری گیشن کے نئے سسٹم بنائیں گے اور پھر زمین کا کوئی چپہ بھی خالی نہیں رہے گا‘ ہم گملوں میں بھی سبزی اگائیں گے‘ حکومت زرعی کالجوں کے تمام طالب علموں کو زمین دے گی اور یہ طالب علم ان زمینوں پر مہنگی اجناس اگائیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کو لیدر انڈسٹری ہی بنا لیں تو بھی ہم اربوں روپے سالانہ کما سکتے ہیں‘ دوسرا یہ کہ ہم دس سال میں اپنی ضرورت کی گیس‘ پٹرول اور بجلی پیدا کر لیں‘ ہم گیس‘ پٹرول اور بجلی کی صنعت کو اوپن کر دیں۔ باہر سے کمپنیاں آئیں‘ کام کریں‘ تیل اور گیس نکالیں‘ ہمیں بھی بیچیں اور باہر بھی بیچ دیں۔

جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ پاکستان میں میٹرک تک تعلیم اور اس کے بعد کوئی ہنر سیکھنا لازمی ہونا چاہیے۔ اس وقت ہم ہر سال ملک میں لاکھوں کی تعداد میں بے ہنر ایم اے ڈگری ہولڈرز پیدا کر رہے ہیں؟ آخر اس تعلیم کا کیا فائدہ جو ڈگری ہولڈر کو دو وقت کا کھانا بھی نہیں دے سکتی۔ آخری چیز یہ کہ خدا کے لیے ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کر دیں۔ قانون کی نظر میں جج سے لے کر جنرل تک ہر شخص برابر ہونا چاہیے‘ کوئی عمران خان یا شہباز گل نہیں ہونا چاہیے‘ ہم میں سے جو بھی قانون توڑے‘ جو بھی غلطی کرے قانون اپنا راستہ لے اور اسے اس کے کیے کی سزا دے‘ ملک میں یہ سیاسی تھیٹر بند ہونے چاہییں‘ ہم آخر کب تک جلسہ‘ جلسہ اور لانگ مارچ‘ لانگ مارچ کھیلتے رہیں گے؟ ہمیں اب مان لینا چاہیے یہ ملک اس طرح نہیں چل سکے گا‘ آپ اب اس پر ترس کھائیں‘ سیدھے ہو جائیں اور سیدھا کر دیں ورنہ ہم گئے‘ ہم اس طرح مزید نہیں چل سکیں گے۔

Back to top button