عمرانڈو صحافی جمیل فاروقی کی بہادری ہوا بن کر خارج

پچھلے کافی عرصے سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو براہ راست للکارتے ہوئے تڑیاں لگانے والے بول ٹی وی چینل کے عمرانڈو اینکر جمیل فاروقی کی دادا گیری تب ہوا کی طرح خارج ہو گئی جب موصوف کو کراچی سے گرفتار کر کے اسلام آباد لے جایا جارہا تھا لیکن اس نے ایئرپورٹ پر ہی رونا دھونا شروع کر دیا۔ جمیل فاروقی کو عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل پر دوران حراست تشدد کیے جانے کے ’جھوٹے الزامات لگانے‘ پر کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ فاروقی کے خلاف اسلام آباد کیپٹل پولیس پر جنسی تشدد کرنے کا جھوٹا الزام لگانے کا مقدمہ تھانہ رمنا میں درج کیا گیا تھا، یاد رہے کہ فاروقی نے اپنے وی لاگ میں اسلام آباد کیپٹل پولیس پر جھوٹا الزام لگایا تھا کہ شہباز گل پر پولیس نے جسمانی اور جنسی تشدد کیا اور ایسا کرنے کے لئے مرچوں والا ایک ڈنڈا استعمال کیا جو گل کے جسم کے مختلف حصوں میں گھسیڑا گیا۔ پولیس نے یہ موقف اختیار کیا کہ شہباز گل نے بار بار عدالتی پیشیوں کے دوران ایسا کوئی الزام عائد نہیں کیا لہذا فاروقی کی طرف سے ان نظامت کا مقصد صرف کیپٹل پولیس کی ساکھ خراب کرنا تھا تاکہ ملزم کے خلاف تفتیش میں رکاوٹیں ڈالی جا سکے۔

یاد رہے کہ جمیل فاروقی کا شماران جید عمرانڈو صحافیوں میں ہوتا ہے جو کپتان کی محبت میں آخری حد تک جاتے ہوئے بے پر کی اڑانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ جمیل فاروقی سے پہلے ایک اور عمرانڈو صحافی عمران ریاض خان کو بھی گرفتار کیا گیا تھا اور اب موصوف اپنی زبان کو لگام دے چکے ہیں۔ اسکے علاوہ ارشد شریف اور صابر شاکر جیسے عمرانڈو صحافی کریک ڈاؤن کے خطرات کے پیش نظر ملک چوڑ کر فرار ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب خبط عظمت میں مبتلا جمیل فاروقی ہرزہ سرائی کرتے ہوئے نہ صرف کئی مرتبہ آرمی چیف کو گالی گلوچ کر چکے ہیں بلکہ اپنے ایک پروگرام کے دوران جوتا اتار کر زور زور سے زمین پر مارتے بھی دکھائی دیے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ یہ تاثر دے رہے تھے کہ جیسے وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی دھلائی کر رہے ہوں۔ تاہم اب اسٹیبلشمنٹ نےفاروقی کی دھلائی کا فیصلہ کیا ہے۔ 23 اگست کو فاروقی کو کراچی سے لاکر اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں جسمانی ریمانڈ میں توسیع کے لیے پیش کیا گیا۔ فاروقی کو ایک روز قبل اسلام آباد پولیس نے کراچی سے گرفتار کیا تھا۔

قومی اسمبلی کی 40 سیٹوں پر ضمنی الیکشن کرانے کا فیصلہ

اس کے بعد کراچی کے ایک جج نے جمیل فاروقی کو دارالحکومت منتقل کرنے کے لیے تین روزہ عبوری ریمانڈ منظور کرنے کے بعد اسلام آباد پولیس کی تحویل میں دے دیا تھا۔تاہم پولیس حراست میں اسلام آباد جاتے ہوئے جمیل فاروقی نے کراچی ایئرپورٹ پر ایک ساتھی صحافی کو دیکھ کر رونا دھونا شروع کر دیا اور انکے گلے لگ کر بلکنے لگے۔ اس موقع پر فیصل عزیز خان نے اسے اپنے گلے سے لگا کر تھپکی دی تو فاروقی نے پولیس پر الزامات کی بارش کر دی۔ موصوف نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے انہیں الف ننگا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا اور چپیڑیں بھی ماریں۔ تاہم پولیس نے مبینہ الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ جب انہیں کراچی کی عدالت میں پیش کیا گیا تو انہوں نے ایسا کوئی الزام نہیں لگایا تھا۔

اسلام آباد عدالت میں پیشی کے دوران جمیل فاروقی کے وکیل نے کہا کہ جمیل کا جرم یہ ہے کہ اس نے ایک پروگرام میں شہباز گل کی جانب سے خود پر ہونے والے پولیس تشدد کی تصدیق کی تھی۔ تاہم پولیس کا موقف تھا کہ جمیل فاروقی نے شہباز گل کےحوالے سے بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگائے۔ پولیس حکام کے مطابق شہباز گل بیہودہ گوئی میں اس حد تک آگے نکل گیا کہ اس نے پولیس پر یہ الزام لگا دیا کہ مرچوں والے ڈنڈے کے ساتھ شہباز گل کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔

جمیل فاروقی کے خلاف اتوار کو رمنا پولیس اسٹیشن میں تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ شکایت کنندہ ایک مجسٹریٹ ہیں، جنہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے فون پر مختلف گروپس میں گردش کرتی ایک ویڈیو دیکھی تھی جس میں جمیل فاروقی نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک وی لاگ میں اسلام آباد پولیس کے پی ٹی آئی رہنما پر مبینہ تشدد کی تصویری تفصیلات شیئر کی تھیں۔ شکایت میں کہا گیا کہ صحافی نے جھوٹے الزامات لگا کر پولیس کو بدنام کرنے کی کوشش کی، جو تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔ مزید کہا گیا کہ نام نہاد صحافی نے پولیس کی توجہ ہٹانے، انتشار پھیلانے اور عوام کو اہلکاروں کے خلاف اکسانے کی کوشش کی۔

Back to top button