سیاست چھوڑنے والے فواد چودھری دوبارہ متحرک کیوں ہوئے؟

چند ہی دن قبل پی ٹی آئی کو چھوڑ کر سیاست سے بریک لینے کا اعلان کرنے والے رہنما فواد چوہدری کے بدھ کی شام منظرعام پر آنے کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا وہ کوئی نئی جماعت بنا رہے ہیں یا کسی جماعت کا حصہ بن رہے ہیں؟ اسی حوالے سے ’مائنس ون‘ یعنی عمران خان کے بغیر پارٹی کا ذکر بھی چل پڑا ہے۔
فواد چوہدری نے اڈیالہ جیل کے باہر کھڑے ہو کر دعویٰ کیا تھا کہ ان کی شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی کے چھ اہم رہنماؤں سے بات چیت ہوئی ہے۔
مبصرین حیران اس بات پر ہیں کہ ایسا کیا ہوا ہے کہ چند دن قبل ’سیاست چھوڑنے‘ کا اعلان کرنے والے فواد چوہدری نے یکدم سیاسی قلابازی کھائی اور کہا کہ ’ہم ملک کو پی ڈی ایم کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم کوئی حل نکالیں گے۔‘
سینیئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار افتخار احمد کا کہنا ہے کہ ’مائنس ون کے نام سے جو کچھ کیا جا رہا ہے۔ یہ غلط فیصلہ ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’پہلے ایک شخص کو 2011 سے 2022 تک ہیرو بنائے رکھا گیا اور اس پر سرمایہ کاری کی گئی۔ اب سیاسی عمل میں اور طرح کی اکھاڑ پچھاڑ کی جا رہی ہے۔‘’اس وقت جن لوگوں کو عمران کے مقابل یا متبادل کے طور پر سامنے لایا گیا ہے وہ وہی ہیں جو ماضی قریب میں ہونے والے واقعات کے ایک طرح سے آرگنائزر تھے۔‘’یہ وہی فواد چوہدری ہیں جو کہتے تھے کہ عمران خان کو اقتدار سے باہر کیا گیا تو سول نافرمانی ہو گی، ملک میں خون خرابہ ہو گا۔‘فواد چوہدری کے اچانک متحرک ہو جانے پر افتخار احمد کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں فواد چوہدری اور ان کے کچھ دوستوں نے اپنے طور پر زیادہ سمارٹ بننے کی کوشش کی ہے۔‘
سینیئر تجزیہ کار ضیغم خان کی رائے قدرے مختلف ہیں۔ وہ نئی پیش رفت کو بھی پی ٹی آئی کی تحلیل کے عمل کا حصہ سمجھتے ہیں۔ضیغم خان کا کہنا تھا کہ ’’فواد چوہدری کی پریس کانفرنس پی ٹی آئی کے خلاف جاری عمل کا پارٹ ٹُو ہے۔ پہلے پارٹی سے لیڈرز باہر نکالے گئے اور پھر اب ووٹر کو باہر لانے کے لیے انہی لوگوں کو دوبارہ جوڑا جا رہا ہے۔‘’یہ پارٹی کے مختلف گروپس ہیں۔ چونکہ کرنی تو انہوں نے سیاست ہی ہے۔ اس لیے یہ آپشن تلاش کر رہے ہیں اور دی گئی ہدایات کے مطابق کام کر رہے ہیں۔‘
مائنس عمران خان فارمولا کیا شکل اختیار کر سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ضیغم خان نے کہا کہ ’اگر مائنس ون کا مطلب ایسی مکمل پی ٹی آئی ہے جس کی قیادت عمران خان کے پاس نہ ہو اور دیگر لوگ اس پر قبضہ کر لیں۔ ظاہر ہے اس کا امکان تو نہیں ہے۔‘’ہاں، اب یہی ہو سکتا ہے ایک یا ایک سے زائد گروپس ہوں جس میں پی ٹی آئی چھوڑنے والے جمع ہوں گے۔‘
جہانگیر خان ترین فیکٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے ضیغم خان کا کہنا تھا کہ ’جہانگیر ترین بااثر شخص ہیں۔ ایک تو ان کا سیاسی اثر ہے جیسا کہ وہ بڑی تعداد میں الیکٹ ایبلز کو پی ٹی آئی میں لائے تھے۔‘’دوسرا ان کا مالی اثرورسوخ ہے۔ پاکستان میں الیکشن کے لیے مالی طور پر مضبوط ہونا اہم ہوتا ہے۔ جہانگیر ترین نے 2018 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کو بہت زیادہ مالی سپورٹ فراہم کی تھی۔‘’مجھے لگتا ہے کہ وہ اب بھی الیکٹ ایبلز کی بڑی تعداد جن پر انہوں نے سرمایہ کاری کر رکھی، ساتھ رکھنے میں کامیاب
عمران خان کا سیاسی مستقبل تاریک کیوں ہے؟
ہوں گے جو انتخابی سیاست پر کافی اثر ڈالے گا۔‘
