نئے صوبوں سے متعلق کوئی تجویز زیر غور نہیں: رانا ثنا اللہ

مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں سے متعلق کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا ایسا کوئی اجلاس نہیں ہوا جس میں نئے صوبوں کے قیام پر کوئی واضح فیصلہ یا مؤقف اختیار کیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت نئے صوبوں کا معاملہ حکومت کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پارلیمانی جمہوری نظام اور 1973 کا آئین ملک کے لیے مؤثر ہے اور اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں میں مختلف بحران، مارشل لا اور آمریت کے ادوار آئے، لیکن آئین نے وفاق کو متحد رکھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ آئین یا نظام میں نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد میں ہے۔ اگر آئین پر دیانت داری سے عمل کیا جائے تو یہی نظام بہتر نتائج دے سکتا ہے، جبکہ آئینی خلاف ورزیاں کسی بھی نظام کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں۔

علاوہ ازیں آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنائے گی، جبکہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق کوئی تجویز حکومت کے ایجنڈے پر نہیں۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پنجاب میں ہونے والی ترقی کے باعث آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی دوسرے مرحلے میں بھی انتخابی عمل پر پروپیگنڈا کرتی رہی، تاہم انہیں امید ہے کہ اگلے مرحلے میں 10 میں سے 7 نشستیں مسلم لیگ (ن) جیتے گی، جبکہ تیسرے مرحلے کے بعد پیپلز پارٹی بھی انتخابی نتائج تسلیم کر لے گی۔

 

بڑھتے عالمی تنازعات، کیا واقعی تیسری عالمی جنگ چھڑنے والی ہے؟

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بخوبی جانتے ہیں کہ آزاد کشمیر کے انتخابات آزادانہ اور شفاف انداز میں ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) کسی اتحادی حکومت کے بجائے اپنی حکومت تشکیل دے گی۔

Back to top button