وفاق کا گلگت اور کشمیر کی حکومتیں بدلنے کا فیصلہ

پیپلزپارٹی اور نوازلیگ کی اتحادی حکومت نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں بدلنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس منصوبے پر کام شروع کردیا گیا۔ با خبر حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پہلے مرحلے میں گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کے وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کے خلاف گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں حمزہ شہباز کی پنجاب حکومت نے پہلے ہی وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے خلاف کارروائی کیلئے وفاق کو ریفرنس ارسال کر دیا ہے۔
عوام کمر کس لیں تا کہ ہم ’چس‘ لیں
یاد رہے کہ 25 مئی کو عمران خان کے لانگ مارچ میں خیبر پختونخوا کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کے سرکاری وسائل استعمال ہونے کا الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید سمیت 50 سے زائد افسران کے خلاف عمران کے لانگ مارچ کے دوران اقدام قتل اور کارسرکار میں مداخلت کا مقدمہ درج ہوچکا ہے جس پر کارروائی شروع کی جا رہی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان میں ممکنہ سیاسی تبدیلی کے فارمولے کے مطابق وزارت اعلیٰ پیپلز پارٹی کے پاس جائے گی جبکہ ن لیگ گورنر شپ چاہتی ہے۔ اس حوالے سے اتحادی جماعتوں کی قیادت میں مشاورت ہورہی ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی گلگت بلتستان میں حکومت سازی کیلئے پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں پاور شیئرنگ فارمولہ طے ہوجائے گا۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان میں اپوزیشن لیڈر کا تعلق اکثریت کی بنیاد پر پیپلزپارٹی سے ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ کو سیاسی تبدیلی کے لیے ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔
حکومتی ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے علاوہ مخلوط حکومت آزاد کشمیر میں بھی وزیر اعظم کی تبدیلی کیلئے متحرک ہوگئی ہے جہاں سردار عبدالقیوم کی بے دخلی کے بعد سردار تنویر الیاس وزیراعظم تو بن چکے ہیں لیکن ان کے خلاف سیاسی کھچڑی بھی پک کر تیار ہو چکی ہیں۔ آزاد کشمیر میں بھی تبدیلی کی صورت میں وزارت عظمیٰ پیپلزپارٹی کے پاس جائے گی کیونکہ پیپلز پارٹی آزادکشمیر اسمبلی میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ اس وقت اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی 13 نشستیں ہیں اور اپوزیشن لیڈر کی نشست بھی پیپلزپارٹی کے پاس ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومت سازی کیلئے اتحادی حکومت میں امور کشمیر کی وزارت حاصل کی تھی اب آزاد کشمیر میں نئے چیف سیکرٹری کی تقرری بھی پیپلزپارٹی کی سفارش پر کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی آزاد کشمیر اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ناراض ارکان اسمبلی سے رابطے کر رہی ہے اور ایسے ارکان جن کو کابینہ میں نظر انداز کیا گیا ہے وہ پیپلزپارٹی کے ساتھ رابطے میں آ چکے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پیپلزپارٹی اس وقت صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود سے بھی رابطے میں ہے اور ان کے ساتھ بھی آزاد کشمیر میں تبدیلی کیلئے بات چیت ہورہی ہے۔
