سیکیورٹی پالیسی بارے وفاق کا آفریدی سرکار کو منہ توڑ جواب

خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرے اور وفاق و صوبے کے درمیان سکیورٹی پالیسی پر اختلاف نے سیاسی کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی اور انسدادِ دہشتگردی کے معاملے پر صوبائی سطح پر الگ پالیسی اختیار نہیں کی جاسکتی، جبکہ خیبرپختونخوا حکومت اپنے بعض مؤقف اور مطالبات پر قائم ہے۔ ایسے میں اصل سوال یہ ہے کہ سکیورٹی پالیسی کا اختیار کہاں تک صوبائی حکومت کے پاس ہے اور وفاق نے پی ٹی آئی کو آخر کیا واضح پیغام دیا ہے؟

وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پر واضح کیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف قومی پالیسی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا اور خیبرپختونخوا حکومت وفاق سے الگ سکیورٹی پالیسی اختیار نہیں کرسکتی۔ وفاق کا مؤقف ہے کہ ملک کو درپیش دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ قومی حکمت عملی ضروری ہے اور صوبوں کو اسی پالیسی کے مطابق تعاون کرنا ہوگا۔

حالیہ سیاسی کشیدگی کے دوران خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف کارروائی اور وفاق کے ساتھ تعاون کا معاملہ بھی مذاکرات میں اہم اختلافی نکتہ بن کر سامنے آیا۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے معاملات کو صوبائی اور وفاقی سیاسی اختلافات سے الگ رکھنا ہوگا، کیونکہ دہشتگردی کا مقابلہ ایک مربوط قومی حکمت عملی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

وفاق کے مطابق ملک کو بیرونی خطرات اور دہشتگردی کے مسلسل چیلنج کا سامنا ہے، اس لیے سکیورٹی پالیسی کا بنیادی ڈھانچہ قومی سطح پر طے ہونا چاہیے۔ صوبائی حکومتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس پالیسی پر عمل درآمد میں سکیورٹی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے محکموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہوگیا ہے جب خیبرپختونخوا حکومت اور وفاق کے درمیان سیاسی اختلافات پہلے ہی شدت اختیار کرچکے ہیں۔ ایک طرف پی ٹی آئی اپنے سیاسی مطالبات اور عمران خان سے مشاورت کو اہم قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب وفاق دہشتگردی کے خلاف پالیسی اور سکیورٹی تعاون کو بنیادی معاملہ قرار دے رہا ہے۔

یوں موجودہ تنازع صرف سیاسی اختلاف تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں قومی سلامتی، صوبائی اختیار اور وفاقی پالیسی پر عمل درآمد جیسے بنیادی سوالات بھی شامل ہوگئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا دونوں حکومتیں سیاسی اختلافات کے باوجود سکیورٹی کے معاملے پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کر پاتی ہیں یا یہ اختلاف مزید وسیع سیاسی بحران کا سبب بنتا ہے۔

Back to top button