بالآخر وہ خبر آگئی

تحریر: نصرت جاوید
گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ وطن عزیز میں مئی 1988ء سے اپریل 2022ء تک متعدد حکومتوں کو فارغ ہوتے دیکھا ہے۔ ان میں سے ایک بھی ’’اچانک‘‘ فارغ نہیں ہوئی۔ اسے گھر بھیجنے کی ہانڈی پکانے میں ہمیشہ کئی ماہ لگے۔ اکثر حکومتیں اگرچہ اپنے اختتام کے دن تک ’’ستے خیراں‘‘ کے گماں میں مبتلا نظر آتی رہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے ساتھ 6اگست 1990ء کے دن ایسے ہی ہوا۔
اس روز کے مشاہدات بیان کرنے سے قبل لکھنا ضروری ہے کہ جنرل ضیاء الحق کی 17اگست 1988ء کے روز فضائی حادثے میں وفات کے بعد طاقتور حلقے نئے انتخابات کروانے کو مجبور تھے۔ واضح وجوہات کی بناء پر انہیں کامل یقین تھا کہ صاف، شفاف انتخابات کے نتیجے میں محترمہ بے نظیر بھٹو بھاری اکثریت کے ساتھ وزیر اعظم منتخب ہوجائیں گی۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد حکومتی تجربے سے محروم ہوتے ہوئے پاکستان کی تاریخ کی نوجوان ترین اور مسلم دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیر اعظم جذبہ انتقام سے مغلوب ہوئی اپنے والد کو پھانسی کے پھندے کی جانب دھکیلنے والے افراد کو عبرت کا نشان بنانے پر تل جائیں گی۔ مذکورہ خدشے کے پیش نظر راتوں رات مختلف الخیال سیاسی جماعتوں کو یکجا کرتے ہوئے اسلامی جمہوری اتحاد کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یوں پولنگ کے دن کو ذوالفقار علی بھٹو کے مخالف اور حامیوں کے درمیان براہِ راست مقابلہ بنادیا گیا۔ محترمہ اس کے نتیجے میں بھاری اکثریت حاصل نہ کرپائیں۔ آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے میں ان کی جماعت سادہ اکثریت سے بھی محروم رہی۔
انتخابی نتائج آجانے کے فوری بعد ان دنوں آئین کی آٹھویں ترمیم کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس وزیر اعظم کو منتخب کرنے کے لئے بلوانا لازمی نہیں تھا۔ صدر اپنی صوابدید کے مطابق کسی بھی شخص کو اس منصب کے لئے نامزد کرسکتا تھا۔ نامزدگی کے بعد وہ اپنی اکثریت دکھاتا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے بجائے ان دنوں کے قائم مقام صدر غلام اسحاق خان نے وزیر اعظم نامزد کرنے میں تاخیر سے کام لیا۔ دریں اثناء غیر رسمی رابطوں کے ذریعے مقتدر حلقوں نے محترمہ سے وزیر اعظم کے عہدے پر نامزدگی سے قبل چند ضمانتیں طلب کیں۔ انہیں فراہم کرنے کو وہ رضا مند ہوگئیں تو انہیں وزارت عظمیٰ کے عہدے کیلئے نامزد کردیا گیا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ الگ داستان ہے۔
6اگست 1990ء کے دن تک آنے سے قبل یاد دلانا ضروری ہے کہ سندھ میں اپنے آبائی حلقے سے قومی اسمبلی کی نشست کے لئے ہارے غلام مصطفیٰ جتوئی مرحوم کو پنجاب کے نارووال سے منتخب کروالیا گیا۔ قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہوتے ہی وہ مسلم لیگ سمیت حکومت مخالف نشستوں پر بیٹھی دیگر جماعتوں پر مشتمل اتحاد کے سربراہ کی حیثیت میں قائد حزب اختلاف تسلیم کرلئے گئے۔ یہ منصب سنبھالتے ہی انہوں نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی تیاری شروع کردی۔
اکتوبر1989ء میں پاکستان کی وزیر اعظم دولت مشترکہ کے رکن ممالک کے سربراہان کی کانفرنس میں شریک ہوئیں۔ 18اکتوبر سے شروع ہونے والی یہ کانفرنس ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں منعقد ہوئی۔ بطور رپورٹر میں بھی وہاں موجود تھا۔ ان کے ملائیشیا میں قیام کے دوران مسلم خواتین کی بے پناہ تعداد ان کی جھلک دیکھنے کو کنونشن سنٹر کے گردمنڈلاتی رہی۔ ان کے خطاب کو دارالحکومت کے مختلف چوراہوں پر نصب ٹی وی سکرینوں پر براہِ راست دکھایا گیا۔ وہاں کھڑا ہجوم ہر اس لمحے جوش جذبات میں بھرپور تالیوں کی آواز سے ان کے سرپر دوپٹہ جمائے رکھنے کے انداز کو سراہتا۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد بھی ان کی آمد سے بہت خوش ہوئے۔ ان سے نجی ملاقات کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر لاہور کے کنگ ایڈورڈ کالج کا ایک کیمپس تعمیر کرکے اسے ملائیشیا سے آئی بچیوں کو طب کی تعلیم دینے کے لئے وقف کردیا جائے تو وہ اس کی تعمیر اور بعدازاں انتظامی اخراجات برداشت کرنے کو تیار ہیں۔ عورتوں کی تعلیم کا جنونی حامی ہونے کی وجہ سے میں اس پیشکش کی خبر سن کر بہت دلشاد ہوا۔
کوالالمپور سے اسلام آباد پہنچتے ہی لیکن پہلی خبر یہ ملی کہ وہ وزیر اعظم کے خلاف قومی اسمبلی کے دفتر میں تحریک عدم اعتماد جمع کروادی گئی ہے۔ اس پر رولنگ کے لئے یکم نومبر کا دن بھی طے ہوچکا ہے۔ کنگ ایڈورڈ کالج میں ملائیشیا کی بچیوں کی تعلیم ورہائش کا منصوبہ بھول کر محترمہ کو اپنی حکومت بچانے کی فکر لاحق ہوگئی۔ بالآخر اپوزیشن سے کچھ بندے توڑ کر وہ 12اراکین کی اکثریت ثابت کرتے ہوئے اپنی حکومت بچانے میں کامیاب ہوگئیں۔
تحریک عدم اعتماد ناکام ہوجانے کے بعدبھی لیکن ان کی حکومت کے بارے میں ’’صبح گیا یا شام گیا‘‘ والی فضاء پھیلنا شروع ہوگئی۔ دریں اثناء تنہائی میں ان سے بطور رپورٹر دو ملاقاتیں ہوئیں۔ ایک ملاقات کے دوران انہیں خبردار کرنے کی جرأت دکھادی کہ فروری 1989ء میں سوویت یونین کی افغانستان بھیجی فوجوں کے کامل انخلاء کے بعد واشنگٹن ان کی حکومت بچانے میں دلچسپی نہیں دکھائے گا۔ میری رائے انہوں نے تبصرہ کئے بغیر متانت سے سن لی۔ 1990ء کا آغاز ہوتے ہی مگر امریکی اخبارات میں واویلا مچ گیا کہ پاکستان نے یورینیم کو ایٹم بم کی تیاری کے قابل بنالیا ہے۔ بھارتی لابی نے بھی دنیا میں دہائی مچانا شروع کردی کہ ’’افغان جہاد‘‘ سے فارغ ہونے کے بعد ’’پاکستانی دہشت گرد‘‘ مقبوضہ کشمیر میں متحرک ہوگئے ہیں۔ فضایہ بنائی کہ اگر پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں ’’افغان جہاد کا تجربہ دہرانے‘‘ کی کوشش کی تو فیصلہ کن پاک-بھارت جنگ لازمی ہوجائے گی۔ مبینہ جنگ رکوانے کے لئے بش انتظامیہ متحرک ہوگئی۔ بعدازاں امریکہ کا وزیر دفاع ہوا رابرٹ گیٹس ان دنوں امریکی صدر کا قومی سلامتی امور کے بارے میں نائب معاون تھا۔ امریکی تشویش پاکستانی قیادت تک پہنچانے کے لئے وہ 20مئی 1990ء کے روز اسلام آباد کے ہنگامی دورے پر آیا۔ محترمہ اس کی آمد کا مقصد بھانپتے ہوئے غیر ملکی دورے پر روانہ ہوگئیں۔ ان کی عدم موجودگی میں گیٹس نے صدر غلام اسحاق خان اور ان دنوں کے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کے ساتھ براہِ راست ملاقاتوں کے دوران پاکستان کو امریکہ کی جانب سے اس کے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے اقتصادی پابندیوں میں جکڑنے کی دھمکی دی۔ عالمی امور کا ادنیٰ طالب علم ہوتے ہوئے میں نے طے کرلیا کہ واشنگٹن کی نگاہ میں محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی بااختیار وزیر اعظم نہیں ہیں۔ حتمی فیصلہ سازی صدر اور آرمی چیف کی مشاورت کے ذریعے ہوتی ہے۔ یہ طے کرنے کے بعد صدر اسحاق کی جانب سے منتخب حکومت کی فراغت کا انتظارکرنا شروع ہوگیا۔اشاروں کنایوں میں اپنے خدشات ’’دی نیشن‘‘ کے لئے لکھی پریس گیلری میں بتدریج اظہار کردیا۔ میرے خدشات کو پیپلز پارٹی کے اہم وزراء بے بنیاد قیاس آرائیاں قرار دیتے ہوئے حقارت سے رد کرتے رہے۔
عارف نظامی مرحوم ان دنوں ’’دی نیشن‘‘ کے مدیر ہوا کرتے تھے۔ہمہ وقت جبلی رپورٹر کی طرح خبروں کی جستجو میں مبتلا رہتے۔ میرے کالموں سے چوکنا ہوکر میرے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر تازہ ترین معلومات کا تبادلہ کرتے رہے۔ بالآخر ان کی جانب سے تحریر ہوئی ایک خبر ’’دی نیشن‘‘ کے صفحہ اوّل پر 6اگست کی صبح چھاپی گئی۔ اس میں دعویٰ ہوا کہ صدر غلام اسحاق خان محترمہ کو وزارت عظمیٰ سے فارغ کرکے غلام مصطفیٰ جتوئی کو عبوری وزیر اعظم نامزد کرنے والے ہیں۔صوبائی اسمبلیاں بھی توڑدی جائیں گی۔ بالآخر نوے دنوں کے بعد نئے انتخابات ہوں گے۔
ان دنوں میں ’’دی نیشن‘‘ کے اسلام آباد بیورو کا انچارج تھا۔ دفتر پہنچا تو ٹیلی فون ایک لمحے کو بھی بند نہ ہوا۔ خبر کی تصدیق کے نام پر وقت ضائع کرنے والوں سے جندچھڑانے کے لئے پارلیمان ہائوس چلا گیا۔ وہاں قائم وزراء کے دفاترمیں جھانکتے ہوئے میں نے لاہور کے حوالے سے قریبی دوست ہوئے خواجہ احمد طارق رحیم صاحب کو اپنے کمرے میں تنہا بیٹھے دیکھا۔ اندر گھسا تو چھوٹتے ہی انہوں نے مجھے اطلاع دی کہ ’’تمہارے ا خبار میں چھپی خبر غلط ہے‘‘۔ میں اپنی بات پر ڈٹا رہا تو آف دی ریکارڈ کے وعدے کے بعدموصوف نے فرمایا کہ ’’دی نیشن‘‘ کی خبر پڑھتے ہی وزیر اعظم نے اپنے ایک معاونِ خصوصی ہیپی منوالا کوصدر غلام اسحاق خان سے ملنے بھیجا تھا۔ غلام اسحاق خان نے پیغام دیا ہے کہ ان سے کسی ’’غیر آئینی‘‘ قدم کی توقع نہ رکھی جائے۔ خواجہ صاحب وزیر پارلیمانی امور تھے۔ تگڑے وکیل بھی تھے۔ مسکراکر میں انہیں یاد دلانے کو مجبور ہوا کہ صدر کو وزیر اعظم اور اس کی پارلیمان برطرف کرنے کا اختیار آئین کی آرٹیکل 58-2Bہی نے فراہم کررکھا ہے۔ خواجہ صاحب معنی خیز انداز میں مسکرادیئے اور ہم دونوں شام کو خبر آنے کا انتظار کرنے کے لئے جدا ہوگئے اور بالآخر6اگست 1990ء شام گزرتے ہی وہ ’’خبر‘‘آگئی جس کا میں مارچ 1990ء سے منتظر تھا۔
