پاکستان میں سابق وزرائے اعظم کب کب گرفتار ہوئے؟

پاکستان میں وزارت عظمیٰ پر رہنے والے افراد کو گرفتار اور قید کیے جانے کی ایک تاریخ موجود ہے۔ہفتے کو اسلام آباد کی ٹرائل کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو ’کرپٹ پریکٹسز‘ میں ملوث ہونے پر مجرم قرار دیا جس کے فوری بعد پنجاب پولیس نے عمران خان کو زمان پارک لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا۔یہ گزشتہ 3 ماہ کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی دوسری گرفتاری ہے۔ اس سے قبل انہیں 9 مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا گیا تھا۔
عمران خان گرفتار ہونے والے یا مقدمات کا سامنا کرنے والے پہلے سابق وزیر اعظم نہیں ہیں۔ پاکستان میں وزارت عظمیٰ پر رہنے والے افراد کو گرفتار اور قید کیے جانے کی ایک تاریخ موجود ہے۔ڈان کی ایک رپورٹ میں ان سابق وزرائے اعظم کی ایک ٹائم لائن پیش کی گئی ہے جنہوں گرفتاریوں اور قید کا سامنا کیا۔
حسین شہید سہروردی پاکستان کے پانچویں وزیر اعظم تھے۔ انہوں نے جنرل ایوب خان کی جانب سے اقتدار پر قبضے کی توثیق سے انکار کردیا تھا۔ ان پر پہلے الیکٹیو باڈیز ڈسکوالیفیکیشن آرڈر (ای بی ڈی او) کے تحت سیاست کرنے پر پابندی عائد کی گئی اور بعد ازاں جولائی 1960ء میں ان پر ای بی ڈی او کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ جنوری 1962ء میں انہیں 1952ء کے سیکیورٹی آف پاکستان ایکٹ کے تحت ’ریاست مخالف سرگرمیوں‘ کے من گھڑت الزامات کے تحت گرفتار کرکے کسی مقدمے کے بغیر کراچی کی سینٹرل جیل میں قید تنہائی میں ڈال دیا گیا۔
ذوالفقار علی بھٹو اگست 1973ء سے جولائی 1977ء تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے۔ ستمبر 1977ء میں انہیں 1974ء میں ایک سیاسی مخالف کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔انہیں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خواجہ محمد احمد صمدانی نے اس بنا پر رہا کیا کہ ان کی گرفتاری کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا۔ لیکن 3 دن بعد ہی مارشل لا ریگولیشن 12 کے تحت ذوالفقار علی بھٹو کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ اس ریگولیشن کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی شخص کو گرفتار کرسکتے ہیں جو سلامتی، امن و امان، یا مارشل لا کے بلا روک ٹوک چلنے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہو۔ اس قانون کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔بلآخر ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنائی گئی اور انہیں 4 اپریل 1979ء کو پھانسی دے دی گئی۔
بے نظیر بھٹو دو مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم رہیں ۔ جنرل ضیا الحق کی آمریت میں بے نظیر بھٹو اپوزیشن لیڈر رہیں۔ وہ اگست 1985ء میں اپنے بھائی کے جنازے میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچیں اور 90 دن تک گھر میں نظر بند رہیں۔اگست 1986ء: بے نظیر بھٹو کو کراچی میں یوم آزادی کے موقع پر ایک ریلی میں حکومت کی مذمت کرنے پر گرفتار کیا گیا۔
مئی 1998ء میں لاہور ہائی کورٹ کے احتساب بینچ نے بے نظیر بھٹو کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔جون 1998ء میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بے نظیر بھٹو کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔
جولائی 1998ءمیں احتساب بینچ نے بے نظیر بھٹو کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔اپریل 1999ءمیں احتساب بینچ نے کسٹم فراڈ سے نمٹنے کے لیے رکھی گئی ایک سوئس کمپنی سے کِک بیکس لینے کے جرم میں بےنظیر بھٹو کو 5 سال قید کی سزا سنائی اور عوامی عہدہ رکھنے کے لیے نااہل قرار دیا۔ اس وقت بےنظیر بھٹو ملک میں موجود نہیں تھیں، بعد ازاں اس سزا کو ہائی کورٹ نے قلعدم قرار دے دیا تھا۔اکتوبر 1999ءمیں احتساب بینچ نے ایسَٹ ریفرنس کیس میں عدم حاضری کی بنیاد پر بےنظیر بھٹو کے دوبارہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔
1999ء میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے جلا وطن کیے جانے کے بعد نواز شریف وطن واپس لوٹے۔ ان کی واپسی پر اسلام آباد ایئرپورٹ کو سیل کردیا گیا تھا۔ ستمبر 2007ء میں واپسی کے چند گھنٹوں کے اندر ہی انہیں گرفتار کرلیا گیا اور 10 سالہ جلاوطنی کے باقی 3 سال پورے کرنے کے لیے سعودی عرب کے شہر جدہ بھیج دیا گیا۔
نومبر 2007 میں بےنظیر بھٹو کو پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر لطیف کھوسہ کے گھر ایک ہفتے کے لیے نظر بند کردیا گیا تاکہ انہیں جنرل مشرف کی آمرانہ حکومت کے خلاف لانگ مارچ کی قیادت سے روکا جائے۔
جولائی 2018ء میں قومی احتساب بیورو کی جانب سے نواز شریف کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ان کے ساتھ ان کی بیٹی مریم نواز کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ نواز شریف کو دو ماہ بعد اس وقت رہا کیا گیا جب عدالت نے ہائی کورٹ کی جانب سے حتمی حکم آنے تک ان کی سزا کو معطل کیا۔
دسمبر 2018ء میں نواز شریف کو ایک بار پھر گرفتار کیا گیا اور ان کے خاندان کی سعودی عرب میں ایک اسٹیل مل کی ملکیت کے حوالے سے مقدمے میں 7 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ نومبر 2019ء میں انہیں علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی۔ وہ اس کے بعد سے پاکستان واپس نہیں آئے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی جنوری 2017ء سے مئی 2018ء تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے۔ 19 جولائی 2019ءکو انہیں 12 رکنی نیب ٹیم نے گرفتار کیا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے 2013ء میں وزیر پیٹرولیم ہوتے ہوئے ایل این جی کی درآمد کے اربوں روپے کے ٹھیکے میں مبینہ کرپشن کی ہے۔ انہیں 27 فروری 2020ء کو ضمانت ملنے پر اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا۔
منی لانڈرنگ کے حوالے سے نیب کیس میں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت منسوخ ہونے پر موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کو 28 ستمبر 2020 کو گرفتار کیا گیا۔ انہیں تقریباً 7 ماہ بعد لاہور کی کوٹ لکھپت سینٹرل جیل سے رہا کیا گیا۔
9 مئی 2023 کو عمران خان کو القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے متعلق کرپشن کے کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا گیا۔ دو دن بعد سپریم کورٹ نے ان کی گرفتاری کو ’غیر قانونی اور ناجائز‘ قرار دیا جس کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔
اگست 2023ء میں القادر ٹرسٹ کیس میں اپنی گرفتاری اور رہائی کے تقریباً 3 ماہ بعد سابق وزیر اعظم عمران خان کو پنجاب پولیس نے لاہور کے علاقے زمان پارک میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا۔عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے توشہ خانہ تحائف کی تفصیلات چھپانے پر عمران خان کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی اور پولیس نے انھیں زمان پارک
کامیڈی فلم باربی نے رواں ہفتے کے دوران مزید 5 کروڑ 30 لاکھ ڈالرزکمالئے
سے گرفتار کر لیا۔
