سرکاری سطح پر مفت خوری کو ختم کیا جائے،لیاقت بلوچ

جماعت اسلامی مذاکراتی کمیٹی کے رکن لیاقت بلوچ کاکہنا ہے کہ سرکاری سطح پر مفت خوری کو ختم کرکے عوام کو ریلیف دیا جائے۔
جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کی کمشنر راولپنڈی کے دفتر کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہنا ھا کہ آج ہمارے مذاکرات کا دوسرا دور تھا، ہم 6 روز سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ہمارے کارکنان دھوپ، بارش اور حبس میں موجود ہیں ۔ہم نے یہ دھرنا عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے دے رکھا ہے۔صنعت کار اور تاجر ہمارے ساتھ ہے، ملک میں سیاسی بحران بھی ہے۔ملک میں دہشت گردی بڑھتی جارہے ہے، عوام ان چیزوں سے لاتعلق ہیں۔
لیاقت بلوچ نے کہاکہ لوگ آئین، سیاست اور موجودہ حالات سے مایوس ہو چکے ہیں۔حکومت مے مذاکرات کی پیشکش کی تھی جسے ہم نے قبول کیا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا مذاکرات بھی جاری رہیں گے اور دھرنا بھی جاری رہے گا۔حکومت کی مذاکراتی کمیٹی نے کہا تھا کہ ٹیکنیکل کمیٹی نے مطالبات کا جائزہ لیا ہے۔کمیٹی کے چاروں ممبران نے ہمارے مطالبات کا جائزہ لیا اور اتفاق کیا۔بجلی کے بل ادا کرنا اب عوام کے لئے مشکل ہو چکا ہے، حکومت ٹیکسسز کا خاتمہ کرے۔
نائب امیرجماعت اسلامی نے کہاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو فوری کم کیا جائے۔تنخواہ دار طبقے پر اضافے بوجھ کو کم کیا جائے۔حکومت کو ہر ادارے میں بدنامی کا سامنا ہے، انتظامی اخراجات کی وجہ سے لاوا پھٹنے کو تیار ہے۔بیوروکریسی کے نمائندوں سے بھی کہا یے کہ اب نفرتوں کے پہاڑ کھڑے ہو چکے ہیں۔آئی پی پیز کے معاہدوں کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔آئی پی پیز کے معاہدوں کا فرانزک آڈٹ کیا جائے، حکومت کو ہمارے کسی نقطے پر اختلاف نہیں۔حکومت کو واضح کر دیا ہے کہ دھرنا جاری رکھا جائے گا۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ کمیٹی میں سے کمیٹی نکلے گی تو پھر کمیٹی چوک ہی نکلے گا۔اب کمیٹی کمیٹی نہیں چلے گی، پٹرولیم مصنوعات اور زراعت پر ریلیف دیا جائے۔اگر حکومت کی غیر سنجیدگی نظر آئے تو ہم مذاکرات سے سائیڈ پر ہو جائیں گے۔حکومتی کمیٹی نے وقت لیا ہے،یہ دھرنا جاری رکھا جائے گا۔
عمران خان کا تو اللہ کو پتہ ہے کس سے مذاکرات کریں گے ،محسن نقوی
۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ پورے عالم اسلام کے لیے صدمہ ہے، حماس سربراہ اسماعیل ہانیہ کو شہید کر دیا گیا۔اسرائیل نے شیطانی واردات کا اعتراف کر لیا ہے، فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔
