کیا امریکہ کو چھوڑ کر چین اور روس سے دوستی سود مند ہو گی؟

امریکہ سے روایتی تعلقات بحال کرنے میں ناکامی کے بعد وزیراعظم عمران خان نے روس اور چین سے دو طرفہ تعلقات بڑھانے کی سٹریٹیجی اپنائی ہے اور چین کے بعد اب روس کا دورہ کرنے والے ہیں۔ تاہم دوسری جانب شنید ہے کہ فوجی قیادت سٹریٹجک مفادات کے پیش نظر امریکہ کے ساتھ ہی گرمجوشی والے تعلقات بحال کرنے کے لئے کوشاں ہے اور آرمی چیف جلد امریکہ کے دورے پر روانہ ہو سکتے ہیں۔ تاہم حکومتی ذرائع یہ دعوی کر رہے ہیں کہ آرمی چیف کا دورہ واشنگٹن 20 فروری کو شروع ہونا تھا جسے اب منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ایسے میں سفارتی ماہرین اس سوال پر بحث کر رہے ہیں کہ کیا چین اور روس جیسے ممالک 70 سال پرانے دوست ملک امریکہ کا سود مند متبادل ہو سکتے ہیں؟
واضح رہے کہ حال ہی میں چین کے چار روزہ سرکاری دورے کے بعد وزیرِاعظم عمران خان فروری کے آخر میں روس کا دورہ کریں گے جو 23 برس بعد کسی بھی پاکستانی وزیرِاعظم کا ماسکو کا پہلا سرکاری دورہ ہو گا۔ عمران خان کے حالیہ دورۂ چین کے بعد رواں ماہ روس کے دورے پر جانے کے اعلان کے بعد اب یہ تاثر اُبھر رہا ہے کہ پاکستان شاید چین کے بلاک میں شامل ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے 1999 میں روس کا دورہ کیا تھا جبکہ سابق صدر پرویز مشرف نے 2003 میں اور سابق صدر آصف زرداری 2011 میں روس کا سرکاری دورہ کر چکے ہیں۔
وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق وزیر اعظم عمران خان روس کے صدر ولادی میر پوتن کی دعوت پر روس کا ایسے وقت دورہ کریں گے جب اسلام آباد اور ماسکو کے تعلقات میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن سمیت دیگر معاہدوں میں پیش رفت کے امکانات ہیں۔
بعض مبصرین بیجنگ کے دورے کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان کے دورۂ ماسکو کو خاص اہمیت دے رہے ہیں۔ عمران خان نے ایک ایسے وقت میں بیجنگ کا دورہ کیا تھا جب امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک نے ونٹر اولمپکس کی افتتاحی تقریب کا سفارتی بائیکاٹ کیا تھا۔
پاکستان کئی مواقع پر واضح کر چکا ہے کہ وہ کسی بھی بلاک کا حصہ نہیں بنے گا اور امریکہ ہو یا چین، سب ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے گا۔ البتہ حالیہ پیش رفت کے بعد بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی بیجنگ اور ماسکو کے ساتھ قربتیں بڑھ رہی ہیں جس کی بنیادی وجہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو جھنڈی دکھانا ہے۔
سابق ISI چیف کی اولاد کے خفیہ اکاؤنٹس پکڑے گئے
یاد رہے کہ عمران خان کے حالیہ دورۂ چین سے قبل امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ پاکستان امریکہ کا اسٹرٹیجک شراکت دار ہے۔ اُن کے بقول امریکہ نے پاکستان کے نامزد سفیر مسعود خان کی سفارتی اسناد بھی قبول کر لی ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی بہتر ہو رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اسلام آباد اور ماسکو کے تعلقات سابق سوویت یونین دور میں انتہائی کشیدہ رہے تھے۔
سوویت یونین کی 70 کی دہائی میں افغانستان میں مداخلت کے دوران پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا تھا۔ لیکن گزشتہ کئی برسوں سے اسلام آباد، ماسکو کے ساتھ پائیدار تعلقات استوار کرنے کے لیے کوشاں ہے جب کہ چین کے ساتھ پہلے ہی پاکستان کے تعلقات ٹھوس بنیادوں پر استوار ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا یے کہ پاکستان چین، روس اور امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن رکھنا چاہے گا۔ درحقیقت امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد صدر بائیں کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے میں کوئی پیش رفت نطر نہیں آئی اور انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو ایک فون تک کرنا گوارا نہیں کیا۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں امریکہ اب بھی چاہتا ہے کہ پاکستان اس کا ویسے ہی ساتھ دے جیسے انسدادِ دہشت گردی کی جنگ کے دوران دیا تھا لیکن اب پاکستان کے لیے بھی ایسا کرنا ممکن نہیں جس کی بنیادی وجہ افغانستان میں طالبان کا برسر اقتدار آ جانا ہے۔ لیکن اسکے باوجود بھی پاکستان دنیا کے بڑے ممالک بشمول امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن رکھنا چاہے گا۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی مخاصمت کے باوجود پاکستان اپنے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے چاہے گا کہ اس کا کسی ایک ملک کی طرف مکمل جھکاؤ نہ ہو بلکہ اسلام آباد کی یہ کوشش ہو گی کہ وہ امریکہ اورچین کے درمیان تعلقات کو بہتر کرنے میں کردار ادا کر سکے۔
سکیورٹی تجزیہ کار اور تھنک ٹینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر امتیاز گل کے مطابق امریکہ اور چین کے درمیان ایک سرد جنگ جاری ہے اور چین کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اس خطے میں موجود ممالک کے تعلقات بہتر ہونے چاہئیں اور چین نے ہی روس کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرے اور اس میں دونوں ممالک کو ساتھ لانے میں چین کا اہم کردار ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ کی نظر میں بین الاقوامی سیاست کا بِیڈ بوائے روس تھا جبکہ آئندہ دہائیوں میں امریکہ کی نظر میں عالمی سیاست کا بیڈ بوائے چین ہے، اسی تناظر میں اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان تعلقات بہتر ہونا انتہائی اہم ہیں۔
سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ پاکستان نہ صرف دونوں ممالک بلکہ اس خطے کے لیے بڑی پیش رفت ہوگی۔ پاکستان نے ماضی میں کبھی روس کی اہمیت کو نظر انداز کیا اور ہماری حماقتوں کے باعث ہم روس سے دور ہوگئے لیکن دیر آئے درست آئے۔ بقول شمشاد احمد پاکستان کو کبھی کسی بلاک کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
ایک دفعہ ہم نے ایک بلاک میں شامل ہو کر بھگت لیا ہے، جب ہم نئے نئے آزاد ہوئے تھے اور اپنے وجود کو یقینی بنانے کے لیے مغرب کا اتحادی بننا پڑ گیا تھا اور اس کی پاکستان نے بھاری قیمت چکائی ہے۔ شمشاد احمد کے مطابق یہ غلط سوچ ہے کہ روس کے ساتھ تعلقات بہتری سے امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب ہوں گے اور اس بارے میں پاکستان کو ہرگز نہیں سوچنا چاہیے۔ کسی تیسرے ملک کی پالیسی کو دیکھ کر اپنی خارجہ پالیسی نہیں بنانی چاہیے۔
