اگر عمران مخالف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو کیا ہو گا؟

اگرچہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے والی اپوزیشن جماعتیں اپنی کامیابی کے پر جوش دعے کر رہی ہیں تاہم سیاسی مبصرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر یہ موو ناکام ہوئی تو کیا پھر کوئی نیا بندوبست سامنے آئے گا؟ سینیئر صحافی نصرت جاوید اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ گزشتہ دنوں ایسے چند سیاستدانوں سے تفصیلی بات چیت ہوئی جو عمران حکومت کی مخالف اور حامی جماعتوں میں بہت متحرک ہیں اور دیانت داری سے سیاسی معاملات پر اپنی ذاتی رائے کھل کر بیان کر دیتے ہیں۔
لیکن میری طرح وہ لوگ بھی اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں ناکام رہے کہ عمران کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمیٰ سے ہٹانے والے آئیڈیا کی طویل عرصے تک مخالفت کے بعد نواز شریف نے اسکی حمایت کا ’’اچانک‘‘ اعلان کیوں کردیا۔
بقول نصرت جاوید میں تو یہ سوال بھی کروں گا کہ کیا عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد باقاعدہ انداز میں پیش ہوگی بھی یانہیں۔ ذاتی طور پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ تحریک پیش کرنا محض ’’دھمکی‘‘ ہوتی تو آصف علی زرداری اپنے فرزند کے ہمراہ شہباز شریف سے ملاقات کرنے ان کے گھر جانے کی زحمت نہ اٹھاتے۔ اس ملاقات میں مریم نواز کی موجودگی کو بھی یقینی نہ بنایا جاتا۔ بعدازاں شہباز شریف بھی چودھری شجاعت حسین کی ’’عیادت‘‘ کے لئے ان کے لاہور والے گھر نہ جاتے۔
اس طرح کی ’’آنیوں جانیوں‘‘ کے باوجود اگر اپوزیشن جماعتیں آخری لمحات میں تحریک عدم اعتمادپیش کرنے سے ’’بکری‘‘ ہوئی نظر آئیں تو ان کی اجتماعی ساکھ کو شدید دھچکا لگے گا۔ لیکن میں اب بھی محسوس کررہا ہوں کہ تحریک عدم اعتماد جب رائے شماری کے لئے قومی اسمبلی میں آئے گی تو اپوزیشن جماعتیں اس کی بدولت عمران کو وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹا نہیں پائیں گی۔
نصرت جاوید یاد دلاتے ہیں کہ 1989میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تو محترمہ اور ان کے وفاداروں کو کامل یقین تھا کہ ان دنوں کے صدر اور آرمی چیف اس تحریک کو کامیاب ہوتا دیکھنا چاہ رہے ہیں۔اس حقیقت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے انہوں نے پیپلز پارٹی کی نشستوں پر بیٹھے افراد میں سے ’’مشکوک‘‘ ایم این ایز پر توجہ مرکوز رکھی۔
اگر عمران مخالف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو کیا ہو گا؟
انہیں ’’مہمان‘‘ بناکر کراچی پہنچادیا گیا۔ وہاں کی صوبائی حکومت پیپلز پارٹی کے پاس تھی۔ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے دو روز قبل حکمران جماعت کے تمام حامیوں کو سوات لے جاکر ایک ہوٹل تک محصور کردیا گیا۔آفتاب احمد شیر پائو وہاں کے وزیر اعلیٰ تھے۔
انہوں نے کمال مہارت سے کسی ایک رکن اسمبلی کو بھی وہاں سے کھسکنے نہیں دیا۔ محترمہ کو وزارت عظمیٰ سے فارغ کروانے کے لئے پنجاب کی صوبائی حکومت اور اس کے وسائل پر کلیدی انحصار کیا جارہا تھا۔ اپوزیشن کے ’’مشکوک‘‘ افراد کو وفاقی حکومت کے اثر سے بچانے کے لئے مری منتقل کردیا گیا۔
قومی اسمبلی میں اگرچہ تحریک عدم اعتماد رائے شماری کے لئے پیش ہوئی تو مری میں محصور رکھے ایک رکن نے ووٹ کا باقاعدہ آغاز ہونے سے قبل سپیکر ملک معراج خالد کو آگاہ کیا کہ وہ اپنی جماعت یعنی پیپلز پارٹی کے ساتھ بیٹھنا چاہ رہے ہیں۔ موصوف کی اسی خواہش کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں کو بہت سبکی محسوس ہوئی اور بالآخر محترمہ کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بھی ہوگئی۔
تاہم نصرت جاوید کے خیال میں محترمہ کے برعکس ان دنوں عمران خان کی جماعت فقط وفاق ہی نہیں بلکہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں بھی برسراقتدار ہے۔جدید ترین آلات جاسوسی سے لیس انٹیلی جنس بیورو حکومتی صفوں میں سے ’’مشکوک‘‘ افراد کو بآسانی ڈھونڈ سکتا ہے۔وہ ’’پیار محبت‘‘ سے اپنا رویہ بدلنے کو آمادہ نہ ہوئے تو ایف آئی اے اور صوبائی حکومتیں ان کے خلاف جھوٹی سچی بنیادوں پر مقدمات قائم کرسکتی ہیں۔
آٹھ سے 10 حکومتی رکن قومی اسمبلی تحریک عدم اعتماد والے دن ایوان میں موجود ہونے کے بجائے جیل میں بھی رکھے جاسکتے ہیں۔اپوزیشن جماعتوں میں سے اس تعداد سے دگنے افراد کو بھی اسی انداز میں منیج کیا جاسکتا ہے۔تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے بعد اس کی حمایت میں ’’بندے پورے کرنا‘‘ فقط اپوزیشن جماعتوں کی ذمہ دار ہوگی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بآسانی انہیں مطلوبہ تعداد سے محروم رکھ سکتی ہیں۔
بقول نصرت جاوید سوال اٹھتا ہے کہ سیاسی حساب کتاب کا محض شاہد اور طالب علم ہوتے ہوئے تحریک عدم اعتماد والے منصوبے کو میں جس نگاہ سے دیکھ رہا ہوں وہ نواز شریف اور آصف علی زرداری جیسے گھاگ سیاست دانوں کو کیوں نظر نہیں آرہا۔ مگر یہی سوال جب اپوزیشن کے متحرک رہ نمائوں کے روبرو اٹھاتا ہوں تو وہ معنی خیز مسکراہٹ سے اسے نظرانداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کی مسکراہٹ مجھ جیسے چند صحافیوں کو یہ سوچنے کو مجبور کررہی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی آڑ میں درحقیقت کوئی اور سیٹ اپ لانے کی امید باندھی جارہی ہے۔ پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کی جانب سے دی لانگ مارچ کی تاریخیں کہیں ممکنہ منظر نامے کو نگاہ میں رکھتے ہوئے ہی طے کردی گئی ہیں۔
