عدم اعتماد پرووٹنگ میں حکومت ریت کی دیوار کیوں ثابت ہو گی؟

 معروف صحافی اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ جب کسی حکومت کیخلاف عوامی نفرت انتہا تک بڑھ جائے، جب اس حکومت کو لانے والے اپنے کیے پر پچھتانا شروع کر دیں، اور جب وزیر اعظم کو لوگ جھولیاں اٹھا کر بدعائیں دینا شروع کر دیں تو جان لیجئے اس حکومت کا دردناک انجام دور نہیں اور اب ان گرتی ہوئی دیواروں کو صرف آخری دھکا دینے کی ضرورت ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ ہر گزرتا دن اس حکومت کی ہزیمت میں اضافہ کر رہا ہے۔ لوگوں کی نفرت ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر روز مہنگائی کے نئے طوفان کا مژدہ عوام کا نصیب ہوتا ہے۔ ہر روز حکومت وقت عوام کی توہین کا نیا طریقہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ عوام کی بے بسی روز کا معمول ہے۔ اس حکومت کے مظالم پر عوام کا ماتم اب روز کا وطیرہ ہے۔

یہ بات اب اہم نہیں ہے کہ کپتان حکومت اب کتنے دن چلتی ہے۔ ون پیج والی قوتیں ساتھ ہیں کہ نہیں؟ بیساکھیاں ہٹ گئی ہیں یا ابھی بھی اس حکومت کے جسد خاکی کو اٹھائے ہوئے ہیں؟ اب ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی کیونکہ لوگ اتنے پریشان ہو چکے ہیں کہ انہیں گلے شکوے کی مہلت میسر نہیں ۔

وہ اسعمار کہتے ہیں کہ عوام اب غریبوں کی قاتل حکومت سے نجات چاہتے ہیں۔ اس نجات کی قیمت چاہے کچھ بھی ہو، اس الم انگیز کیفیت سے نکلنے کا جرمانہ کچھ بھی ہو۔ لوگوں کی ہمت جواب دے گئی ہے۔ عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ لوگ خود کشیوں پر مجبور ہو گئے ہیں۔ امن و امان گھر سے بازار تک تہہ و بالا ہو چکا ہے۔ اس حکومت سے عوامی نفرت اب عروج پر پہنچ چکی ہے۔

ہر گزرتا دن عوام کو نواز شریف کے دور حکومت کی یاد دلا رہا ہے۔ اس وقت کی یاد دلا رہے جب حکومت عوام کی فلاح کا سوچتی تھی۔ جب پٹرول کی قیمت عذاب نہیں لگتی تھی۔ جب بجلی کے بلوں سے گھروں میں ماتم کی کیفیت نہیں ہوتی تھی۔ جب ملک بھر میں میٹروز بن رہی تھیں۔ جب اورنج لائن بچھائی جا رہی تھی۔ جب ترقیاتی منصوبے لگ رہے تھے۔ جب لوڈ شیڈنگ ختم ہو رہی تھی۔ جب طالبعلموں کو وظیفے اور لیپ ٹاپ دیئے جا رہے تھے۔ جب بیرون ممالک ہمیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ جب ڈالر کی قیمت سو روپے سے نیچے تھی۔

نئے ہسپتال، نئے سکول، کالج بن رہے تھے۔ عوام کی بات سنی جا رہی تھی۔ جب ہم اتنے مقروض نہیں تھے اور دنیا ہمیں سر عام بھکاری نہیں کہتی تھی۔ ہمارے وزیر اعظم کا باعزت استقبال ہوتا تھا۔ برابری کی بنیاد پر ڈائیلاگ ہوتا تھا۔ بیرون ملک دوروں کی کامیابی اس وقت صرف ایک سیلفی نہیں ہوتی تھی۔ اس وقت زمانے میں ہر روز کی بنیاد پر پٹرول، بجلی، اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوتا تھا۔ لوگ ایک بہتر پاکستان ایک بہتر مسقبل کی امید رکھے ہوئے تھے۔

خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی جمع

عمار مسعود کا کہنا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام پر یہ سازش بے نقاب ہوتی جا رہی ہے کہ کس طرح ایک منتخب حکومت کو چلتا کیا گیا۔ کس طرح ایک بدکردار جج نے فرعون بن کر منتخب عوامی نمائندوں کے خلاف فیصلے دیئے۔ کس طرح زر خرید میڈیا اور بے ضمیر تجزیہ کار ایک سازش کے تحت نواز شریف کی حکومت کے خلاف صف آرا ہوئے۔ کس طرح ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر سگار کے کش لگاتے ٹھٹھے لگاتے اس ملک کے آئین کو پیروں تلے روندنے کا فیصلہ کیا گیا۔

کس طرح جج ، جرنیل اور جرنلسٹ کی ملی بھگت سے اس ملک کو برباد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ کس طرح اس معاشرے میں نفرت کو پروان چڑھایا گیا۔ کس طرح ننگی وڈیوز دکھا کر ججوں سے فیصلے لیے گئے۔ کس طرح عوامی نمائندوں کی تضحیک کی گئی۔ کس طرح انصاف کے ترازو کو اپنے مذموم مقاصد کے اپنی جانب جھکایا گیا۔ کس طرح اس معاشرے کو دوبارہ دہشت گردی میں نہلایا گیا۔ کس طرح ایک سوچے سمجھے طریقے سے ہر ملک میں اس وطن پاک کی عزت کو ایک کٹھ پتیلی حکومت کے ذریعے نیلام کروایا گیا۔ کس طرح اس سارے سماج کو ان دیکھی نفرت کی جانب دھکیل دیا گیا۔

بقول عمار مسعود، ہر گزرتے دن کے ساتھ اس حکومت کو لانے والوں کی شرمندگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کے اتحادیوں کی شرمندگی میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس حکومت سے ہاتھ ملانے والوں کی شرمندگی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اس حکومت کے وزیر اعظم کے گھر کا خرچہ چلانے والوں کی شرمساری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حکومت کے ممبران اسمبلی شرمندگی سے نظریں اٹھا نہیں سکتے۔ کوئی اس حکومتی جماعت کا ٹکٹ قبول کرنے کو تیار نہیں۔

کوئی اس ناکامی کا وارث بننے کو تیار نہیں۔ نادیدہ دباو کے تحت چلنے والے چینلز میں کام کرنے والوں کے علاوہ کوئی انکی نااہلی کو برادشت نہیں کرپا رہا۔ پورے ملک کی سڑکوں ، گلیوں ، کوچوں ، قصبوں اور شہروں میں جا کر پوچھ لیں کہ اس حکومت کی کارکردگی سے آپ کتنے مطمئن ہیں؟

سوال یہ ہے کہ حکومت نے عوامی فلاح کے لیئے کیا کیا ہے؟ جب یہ سوال کیا جائے کہ کیا آپ اس حکومت کو دوبارہ ووٹ دیں گے تو ساری بات ایک لمحے میں واضح ہو جائے گی۔ آپ کو کسی پروگرام، کسی وزیر یا کسی تجزیہ کار کے عمیق تجزیئے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ عوام اپنے لہجے میں وہ گفتگو کریں گے کہ لوگ اس حکومت کے انجام سے تھر تھر کانپنے لگیں گے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگوں کی امید بڑھتی جاتی ہے کہ کسی طرح اس حکومت سے نجات ملے۔ عدم اعتماد ہو یا الیکشن کمیشن سے فارن فنڈنگ کا فیصلہ آئے، اس حکومت کے اپنے ارکان میں پھوٹ پڑے یا اتحادی روٹھ جائیں۔ اسمبلیاں ٹوٹیں یا پھر سینٹ میں کوئی جنبش ہو ، اپوزیشن کا کوئی بڑا جلسہ ہو ، پی ڈی ایم کا احتجاج ہو، مولانا فضل الرحمن کا دھرنا ہو۔ جو بھئی ہو بس کسی طرح اس حکومت کے ظلم سے نجات ملے۔ غریبوں کے قاتلوں سے نجات ملے۔ پاکستان اور پاکستانی عوام کے ان دشمنوں سے نجات نصیب ہو ۔

کے اکٹھ کو ذریعہ نجات جان رہے ہیں۔ لوگوں کو اس سے غرض نہیں کہ یہ حکومت کیسے جاتی ہے۔ وہ طریقہ جمہوری ہوتا ہے یا غیر جمہوری۔ لوگ بس اب نجات چاہتے ہیں۔ وہ اس حکومت کو اب ایک لمحہ برداشت نہیں کرنا چاہتے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ غریب کش حکومت کچھ اور دن ان پر مسلط رہی تو چیخیں تو نکل رہی ہیں اب گھر گھر سے جنازے بھی نکلنے شروع ہو جائیں گے۔ لہذا عمران خان کی عوام دشمن حکومت کے خاتمے کا معاملہ اب دور کی بات نہیں۔ بس اب گرتی ہوئی ریت کی دیواروں کو آخری دھکا دینے کی ضرورت ہے۔

Back to top button