نائن زیرو کی طاقت سے سٹیٹ لائف کے فٹ پاتھ تک، MQMکمزور کیسےہوئی؟

ایک وقت تھا جب کراچی میں ایم کیو ایم کی ایک کال پورے شہر کی رفتار بدل دیتی تھی۔ بازار بند ہو جاتے، سڑکیں سنسان ہو جاتیں اور سیاسی جماعتیں اس کے فیصلوں کو نظر انداز کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں۔ لیکن آج وہی جماعت میڈیا سے گفتگو کے لیے جگہ اور اجازت کی محتاج دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل تھے جنہوں نے ایم کیو ایم کو اقتدار کے ایوانوں سے سیاسی دفاعی پوزیشن تک پہنچا دیا؟ اندرونی اختلافات، قیادت کی کشمکش، دھڑے بندی، متنازع فیصلے اور تنظیمی تبدیلیاں اس زوال کی کہانی کے اہم ابواب بن چکے ہیں۔
مبصرین کے مطابق کراچی کی سیاست میں ایم کیو ایم کا نام کبھی طاقت، تنظیم اور اثر و رسوخ کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ شہر میں ہڑتال کی کال ہو یا حکومت سازی کا معاملہ، ایم کیو ایم کا کردار اکثر فیصلہ کن ہوتا تھا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ جماعت نہ صرف اپنی سیاسی قوت کھوتی گئی بلکہ اندرونی طور پر بھی مختلف دھڑوں اور قیادت کے تنازعات کا شکار ہوتی چلی گئی۔
22 اگست 2016 کے بعد جب ایم کیو ایم پاکستان وجود میں آئی تو بظاہر لندن کی قیادت سے علیحدگی ایک نئے آغاز کے طور پر پیش کی گئی، لیکن اسی لمحے ایک بنیادی سوال جنم لے چکا تھا: جماعت کا اصل فیصلہ ساز کون ہے؟ یہی سوال آنے والے برسوں میں تنظیمی بحران کی بنیاد بنتا گیا۔ مختلف رہنما، رابطہ کمیٹی کے حلقے اور بااثر شخصیات پارٹی فیصلوں میں اثر انداز ہونے لگیں، جس سے مرکزی قیادت کی گرفت کمزور ہوتی گئی۔
سنہ 2018 کے سینیٹ انتخابات اس بحران کا پہلا بڑا موڑ ثابت ہوئے۔ کامران ٹیسوری کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر ڈاکٹر فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے۔ اختیارات کی یہ کشمکش اس حد تک بڑھی کہ فاروق ستار جماعت سے الگ ہو گئے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ صرف ایک شخص کی علیحدگی نہیں تھا بلکہ ایم کیو ایم کی تنظیمی وحدت میں پہلی واضح دراڑ تھی۔
بعد ازاں پاک سرزمین پارٹی کے ایم کیو ایم میں انضمام کو ابتدا میں جماعت کی مضبوطی قرار دیا گیا۔ مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کی واپسی نے کارکنوں میں نئی امید پیدا کی، لیکن ٹکٹوں کی تقسیم اور تنظیمی اختیارات کے معاملات نے اختلافات کو مزید گہرا کر دیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق 2024 کے عام انتخابات کے دوران بعض حلقوں کی سفارشات اور فیصلوں پر سینیئر رہنماؤں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ خواجہ اظہار الحسن سمیت کئی رہنما مبینہ طور پر ان فیصلوں سے ناخوش دکھائی دیے، جبکہ کارکنوں میں یہ سوال گردش کرنے لگا کہ جماعت کے اہم فیصلے آخر کہاں ہو رہے ہیں۔
اسی دوران سامنے آنے والی مبینہ آڈیو لیکس نے پارٹی کو مزید دباؤ میں ڈال دیا۔ انتخابات کے بعد ان لیکس نے ایم کیو ایم کی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور قیادت پر سوالات اٹھنے لگے۔ نتیجتاً تاریخی رابطہ کمیٹی تحلیل کر دی گئی، کنوینر کا عہدہ ختم ہوا اور چیئرمین کا نیا منصب قائم کیا گیا جس پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم پارٹی کے تمام حلقوں نے اس تبدیلی کو یکساں طور پر قبول نہیں کیا۔
ناقدین کے مطابق آج صورتحال یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں سے وابستہ کارکن کھلے عام ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک گروپ ’ڈرائنگ روم کے فیصلوں‘ کو مسترد کرتا ہے جبکہ دوسرا مخالفین پر بغاوت اور بے وفائی کے الزامات عائد کرتا ہے۔ یہ اختلافات صرف قیادت تک محدود نہیں رہے بلکہ تنظیمی ڈھانچے اور کارکنوں تک پھیل چکے ہیں۔ پارٹی کے اندر موجود بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے زوال کی بنیادی وجہ کوئی بیرونی قوت نہیں بلکہ برسوں سے موجود یہی سوال ہے کہ جماعت کا اصل اختیار کس کے پاس ہے۔ جب فیصلہ سازی واضح نہ ہو، مختلف مراکز طاقت ابھر آئیں اور قیادت مسلسل تنازعات کا شکار رہے تو تنظیمی استحکام برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔مبصرین کے بقول وہ جماعت جو کبھی کراچی کی سیاست کی سب سے طاقتور قوت سمجھی جاتی تھی، آج اپنی بات عوام تک پہنچانے کے لیے بھی مناسب جگہ تلاش کرتی نظر آتی ہے۔ ایم کیو ایم کی موجودہ صورتحال اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ سیاسی قوت صرف عوامی حمایت سے نہیں بلکہ مضبوط تنظیم، واضح قیادت اور متفقہ فیصلہ سازی سے بھی قائم رہتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایم کیو ایم کا زوال کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل عمل ہے۔ لندن سے علیحدگی کے بعد قیادت کا بحران، 2018 کی دھڑے بندی، پی ایس پی انضمام کے بعد بڑھتے اختلافات اور آڈیو لیکس کے بعد تنظیمی تبدیلیوں نے مل کر جماعت کی سیاسی طاقت کو کمزور کیا۔ آج بھی بنیادی سوال یہی ہے: ایم کیو ایم کا اصل فیصلہ ساز کون ہے؟
