حوثیوں کے سعودیہ پر حملوں سے پاکستان مشکل میں کیوں؟

یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر تازہ میزائل حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان کو ایک نہایت نازک سفارتی اور دفاعی دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف اسلام آباد سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کا پابند ہے، جبکہ دوسری جانب وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ ایسے میں اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو پاکستان کے لیے اپنے دونوں اہم شراکت داروں کے درمیان توازن برقرار رکھنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو سکتا ہے، جبکہ توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سے وابستہ خدشات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل حملوں نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے بلکہ پاکستان کو بھی ایک پیچیدہ سفارتی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں اسے اپنے دفاعی وعدوں، سفارتی ذمہ داریوں اور قومی مفادات کے درمیان انتہائی محتاط توازن قائم رکھنا ہوگا۔

خیال رہے کہ پاکستان گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے عبوری معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کر چکا ہے، جبکہ گزشتہ برس سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ بھی طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط ہوا، جبکہ ہزاروں پاکستانی فوجی پہلے ہی سعودی عرب میں مختلف ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ پاکستانی فضائیہ کا ایک اسکواڈرن بھی سعودی عرب میں تعینات ہے، جس سے دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کی اہمیت مزید نمایاں ہوتی ہے۔

حوثیوں نے سعودی عرب پر میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ کارروائی سعودی حملوں کے جواب میں کی گئی، تاہم اس پیش رفت نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان چار سال سے جاری جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اگرچہ فی الحال کشیدگی محدود دکھائی دیتی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق حالات کسی بھی وقت مزید سنگین رخ اختیار کر سکتے ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ سعودی عرب پر کسی بڑے حملے کو پاکستان اپنی سلامتی سے بھی جوڑ کر دیکھے گا۔ ایک اعلیٰ پاکستانی ذریعے کے مطابق سعودی عرب پاکستان کی "سرخ لکیر” ہے، جس سے اسلام آباد کے دفاعی مؤقف کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سب سے زیادہ تشویش اس بات کی ہے کہ اگر حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان جنگ میں شدت آئی تو سعودی سرحد کے قریب تعینات پاکستانی فوجی بھی براہِ راست خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بحیرہ احمر اور دیگر اہم بحری راستوں میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی تجارت اور پاکستان کی درآمدات و برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت بڑی حد تک مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی تیل اور گیس کی سپلائی پر انحصار کرتی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز یا بحیرہ احمر میں کشیدگی مزید بڑھی تو توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایندھن کی قلت، مہنگائی اور معاشی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد ایران کی اندرونی سیاسی صورتحال پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ایران کی سیاسی قیادت اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان پالیسی اختلافات کے تاثر نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بعض دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ ایران میں فیصلہ سازی پر عسکری اداروں کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے، جس سے مستقبل کی علاقائی پالیسیوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے سب سے بڑا امتحان سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھنا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب دیرینہ دفاعی اور معاشی شراکت دار ہے، جبکہ دوسری جانب ایران پاکستان کا اہم ہمسایہ ملک ہے اور دونوں کے درمیان سرحدی، تجارتی اور علاقائی سلامتی کے معاملات جڑے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے اسلام آباد اب بھی ثالثی کے عمل کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے یہ بحران صرف سفارتی آزمائش نہیں بلکہ توانائی کے تحفظ، علاقائی استحکام، دفاعی ذمہ داریوں اور قومی مفادات کا بھی امتحان ہے۔ اگرچہ اسلام آباد کی پہلی ترجیح جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی ہے، تاہم اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو پاکستان پر کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑے ہونے کا دباؤ غیر معمولی حد تک بڑھ سکتا ہے۔

Back to top button