شہبازاورحمزہ کا مستقبل ضمنی الیکشن سے کیوں جڑا ہے؟

17 جولائی کو پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات وزیراعلیٰ حمزہ شہباز شریف کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے اور ساتھ ہی ان کے والد شہباز شریف کی وزارتِ عظمیٰ کی مدت بھی طے کر دیں گے، یعنی جنرل الیکشنز کا ٹائم فریم بھی یہ ضمنی انتخاب طے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ضمنی انتخابات یہ اشارہ بھی کر دیں گے کہ اگلے عام انتخابات کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ حماد یاد دلاتے ہیں کہ الیکشن 2018 میں مسلم لیگ نون ان 20 سیٹوں میں سے ایک بھی نہیں جیتی تھی۔ لہذا پاکستانی تاریخ میں کوئی ضمنی انتخابات اتنے ہمہ گیر اور دور رس نتائج کے حامل نہیں رہے ہوں گے۔ غالباً اسی کو اُم الانتخابات کہا جاتا ہے۔

تہمینہ درانی نے شہباز کے پرواز کرنے کی دعا مانگ لی

روزنامہ جنگ کے لئے سیاسی تجزیے میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اسوقت ہماری سیاست میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ ہوش ربا مہنگائی کی حالیہ لہر سے اتحادی حکومت بالخصوص مسلم لیگ نون کی عوامی حمایت پر کیا منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، کیا عوام یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ مہنگائی کے بیج عمران خان کے آئی ایم ایف سے کیے گےبمعاہدے نے بوئے تھے یا وہ مسلم لیگ نون کی کارکردگی سے مایوس ہو رہے ہیں؟ اس سوال کا سو فی صد درست جواب آپ کو کوئی تجزیہ کار نہیں دے گا بلکہ 17 جولائی کو پنجاب میں 20 صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخاب دیں گے۔ یاد رہے کہ یہ نشستیں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے حمزہ شہباز کو وزارت اعلی کے لیے ووٹ دینے والے پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو نااہل قرار دینے سے خالی ہوئی ہیں۔

معاشی منظر نامہ پر تبصرہ کرتے ہوئے حماد غزنوی کہتے ہیں کہ کُھلا دھوکا دینے والے بازی گر آج کل ماہرِ معاشیات کہلاتے ہیں، ایک ہی رومال ہے جسے یہ ماہرین کبھی کبوتر بنا دیتے ہیں کبھی طوطا، اور دیکھنے والے پورے جوش و خروش سے تالیاں پیٹتے ہیں حالانکہ ہوتا سب دھوکہ ہے، یعنی بصری دھوکا، لیکن نئے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل تو امامِ بازی گراں نکلے کہ اچھے اچھے سمجھ ہی نہیں پائے کہ لڑکی ہوئی ہے یا لڑکا، بجٹ مجنوں ہے کہ لیلیٰ، اچھا ہے کہ بُرا؟ حالت یہ ہے کہ سیاسی مخالفین بھی ٹھیک طرح سے طے نہیں کر پائے کہ تنقید کا محور کیا ہونا چاہیے۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ جب پچھلی حکومت کے وزیرِ خزانہ شوکت ترین عمران حکومت کے دفاع میں فرما رہے ہوں کہ ہم پر الزام ہے کہ آج تک کل ملکی قرضے کا 80 فی صد ہمارے دور میں لیا گیا ہے حالانکہ یہ بہتان ہے کیونکہ ہمارے دور میں تو صرف 76 فی صد قرض لیا گیا تھا، ایسے میں وہ اس بجٹ پر کیا سنجیدہ تنقید کر پائیں گے، موجودہ حکومت کے بجٹ کا جو بھی خسارہ ہو گا وہ بھی پچھلی حکومتوں کی طرح قرض لے کر پورا کر لیا جائیگا، کیوں کہ یہ حکومت بھی اسی چھید زدہ کشتی میں سوار ہے جس میں کہ پچھلی حکومتیں تھیں اس سے اور اگلی حکومت بھی ہو گی۔
ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ عوام پر بالواسطہ ٹیکس لگتا ہے اور امراء کو سبسڈی دی جاتی ہے، یعنی غرباء امراء کو پال رہے ہیں، یعنی الٹی گنگا بہہ رہی ہے، UNDP کی رپورٹ کہتی ہے کہ رعایتوں اور سہولتوں کی مد میں پاکستانی اشرافیہ ہر سال 17.4 ارب ڈالر ہڑپ کر جاتی ہے، اور یہ سلسلہ آج بھی خشوع و خضوع سے جاری ہے۔ ہماری معاشی حالت راتوں رات تو نہیں بگڑی، یہ سفر تو دہائیوں سے جاری ہے، اور ہم کب سے ریت میں سر دئیے دُم ہلا رہے ہیں، وہ طوفان جو سال ہا سال سے ہماری طرف بڑھ رہا تھا آخر شائیں شائیں کرتا آن پہنچا ہے۔اب یہ حکومتوں کا بحران نہیں رہا، اب یہ ریاست کا بحران ہے،ـ یعنی ’’اب نہیں کوئی بات خطرے کی، اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے‘‘۔

حماد غزنوی کہتے ہیں مختصراً یہ کہ ابن مریم ہونے کے سب دعویٰ داروں سے ایک مشترکہ درخواست ہے، سب کرتبی مل کر، یعنی مفتاح اسماعیل، شوکت ترین، حفیظ شیخ، سب مل کر 25 ہزار روپے ماہانہ کمانے والے کے گھر کا بجٹ بنا دیں، ہم بہ صد خوشی آپکو اقتصادیات کا مہا گرو تسلیم کر لیں گے۔ یہ جو سیاست دان ہوتے ہیں ان کا رویہ بجٹ کی طرف عوام سے کچھ مختلف ہوتا ہے، بجٹ پیش کرنے والوں کی کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ یہ میزانیہ کسی بڑے عوامی ردِ عمل کا باعث نہ بنے، عوام کو ریلیف کے نام پر کوئی چھوٹی بڑی ٹافی دے دی جائے، اور پھر ’ان حالات میں اس سے بہتر بجٹ ممکن نہیں تھا‘ کا الاپ شروع کر دیا جائے، جب کہ دوسری طرف اپوزیشن ہر حال میں بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتی ہے۔ عمران خان بجٹ پر تنقید تو کر رہے ہیں مگر یک سوئی سے اونچے سروں میں نہیں، وہ ابھی تک روسی پٹرول نہ لینے کے غصے میں جل رہے ہیں، اور اسی کو حکومت کا سب سے بڑا معاشی گناہ ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان میں روسی سفیر کہتے ہیں کہ عمران کے دورہ کے دوران پاکستان اور روس کے مابین ایسا کوئی معاہدہ تو کیا، کسی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط نہیں ہوئے تھے، عمران کے روسی دورے کے کئی دن بعد، جب عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوچکی تھی، حماد اظہر نے ایک خط روس کو لکھا تھا جسکا جواب نہیں آیا، اگر لمحے بھر کو فرض بھی کر لیں کہ عمران جو طلسمِ ہوش رُبا سنا رہے ہیں درست ہے تو پھر بھی اصحابِ ہوش یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ روس سے سستا تیل لے کر، چھ ارب ڈالر بچا کر، امریکا اور آئی ایم ایف سے جو 17 ارب آتے ہیں ان کا کیا بنے گا، یعنی ’عقل کی توہین پر کیا آپ کا اِجارہ ہے‘۔ اور پھر غیر ملکی سازش کے بیانیے کو شیخ رشید نے یہ کہہ کر مزید صدمہ پہنچایا ہے کہ ’مجھے حکومت کے خلاف سازش کا چار ماہ پہلے سے علم تھا‘، ایسے میں سوال یہ ہے کہ پھر وہ دھمکی آمیز مراسلہ کیا تھا جسے خان صاحب نے اپنے نئے بیانیے کے پرچم کے طور پر لہرایا تھا؟

Back to top button