عمران نے ملک ریاض کو 50 ارب روپے کا فائدہ کیوں دیا؟

اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران عمران خان نے بحریہ ٹاؤن کے کھرب پتی مالک ملک ریاض کو 50 ارب روپے کا فائدہ دینے کے عوض سینکڑوں کنال اراضی اپنے اور اپنی اہلیہ کے نام الاٹ کروائی جس کے دستاویزی ثبوت سامنے آچکے ہیں۔ وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ خان نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ یہ دعوی کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے ایما پر بحریہ ٹاؤن کی برطانیہ میں ضبط کی گئی رقم بارے تصفیہ کر کے ملک ریاض کو بھاری فائدہ پہنچایا گیا۔ اس معاہدے کے بدلے بحریہ ٹاون کی جانب سے اربوں روپے کی اراضی سابق خاتون اول بشری بی بی کے نام منتقل کی گئی جس کے دستاویزی ثبوت بھی سامنے آ چکے ہیں ہیں۔

کیا شہباز شریف سازشی عمران کا مقابلہ کر پائیں گے؟

ان دستاویزات میں وزیر اعظم کے تب کے معاون خصوصی برائے احتساب اور ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر کا عمران خان کو لکھا گیا نوٹ بھی شامل ہے جس کے تحت خان صاحب نے برچانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی، بحریہ ٹاون اور ایسیٹ ریکوری یونٹ کے درمیان خفیہ معاہدے کی منظوری دی تھی۔ اس نوٹ کے مطابق ’14 دسمبر 2018 کو برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی یعنی این سی اے نے پاکستانی شہریت رکھنے والے علی ریاض ملک اور مبشرہ ملک کے 20 ملین برطانوی پاؤنڈ مشکوک ٹرانزیکشن کے تحت منجمند کیے۔ جس کے بعد این سی اے نے مذکورہ شہریوں کے خلاف کیسز، انکوائریز اور تحقیقات کے حوالے سے تفصیلات کے لیے رابطہ کیا۔ ایسیٹ ریکیوری یونٹ اور دیگر متعلقہ اداروں نے برطانوی ایجنسی کو متعلقہ ریکارڈ اور تفصیلات فراہم کیں۔‘ شہزاد اکبر کی جانب سے عمران خان کو لکھے گئے نوٹ کے مطابق ’نیشنل کرائم ایجنسی نے مذکورہ خاندان کے بینک اکاؤنٹس اور حال ہی میں لندن میں خریدی گئی وین ہائیڈ پراپرٹی سے متعلق تفتیش کا آغاز کیا۔ نتیجتاً 12 اگست 2019 کو این سی اے نے مذکورہ خاندان کے برطانیہ کے مختلف بینک اکاؤنٹس میں موجود 119 ملین برطانوی پاؤنڈز بھی منجمند کر دیے۔‘  وزیراعظم کو لکھے گئے نوٹ میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس دوران سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے خلاف قواعد زمین کے حصول سے متعلق کیس کا فیصلہ بھی دیا۔ جس میں بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کو مقررہ مدت میں رقم جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔ اسی فیصلے کی روح کے مطابق مدعی بحریہ ٹاؤن نے این سی اے سے برطانیہ میں اپنی لیگل ٹیم کے ذریعے رابطہ کیا اور عدالت سے باہر تصفیہ کی پیشکش کی جس کے تحت تمام منجمند شدہ اکاؤنٹس میں موجود  139.7 ملین برطانوی پاؤنڈز سپریم کورٹ کے فیصلے کے روشنی کے مطابق واجب الادا رقم کی صورت میں پاکستان واپس لانے کی پیشکش کی۔

نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ معاہدے کے مطابق مدعی ملک ریاض خاندان لندن کی ون ہائیڈ پارک کی پراپرٹی بھی فروخت کے لیے ایک آزاد ایجنٹ کے حوالے کرے گا اور اس سے حاصل کی گئی تمام رقم دو سال کے اندر ریاست پاکستان کے حوالے کرے گا اور یہ رقم بھی مذکورہ بالا معاہدے کی طرح سپریم کورٹ کے فیصلے کے کے تحت واجب الادا رقم میں جمع ہوگی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2018 میں بحریہ ٹاؤن کراچی کی جانب سے خلافِ قواعد زمین کے حصول کے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کو سات برس کی مدت میں 460 ارب روپے جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔ سابق وزیراعظم کو لکھے گئے نوٹ کے مطابق ’تفتیش اور قانونی چارہ جوئی میں اس کیس کو طے ہونے میں پانچ سے سات سال لگ سکتے ہیں جبکہ وکلا کے اخراجات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ اس بات کی بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ اس طویل قانونی چارہ جوئی کا نتیجہ این سی اے یا حکومت پاکستان کے حق میں آتا ہے یا نہیں۔ حکومت پاکستان پہلے ہی یہ درخواست کر چکی ہے کہ یہ رقم پاکستان واپس بھیجی جائے اور این سی اے مدعی کے ساتھ معاہدے کے تحت رقم پاکستان واپس بھیجنے پر راضی ہوچکی ہے۔‘ نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’این سی اے کی پالیسی کے مطابق معاہدے کی شرائط اور تفصیلات خفیہ ہیں اور قانونی مجبوری کے بغیر منظرعام پر نہ لائی جائیں۔ معاہدہ این سی اے اور مدعی کے درمیان ہے تاہم حکومت پاکستان کو رازداری کے معاہدے پر دستخط کرنا ہوں گے جس کے تحت معاہدے کی تفصیلات پبلک نہ کی جا سکیں۔‘ نوٹ کے آخری پیرے میں لکھا گیا ہے کہ ’حکومت پاکستان کی جانب سے رازداری کے معاہدے کی وفاقی حکومت کی جانب سے منظوری ضروری ہے۔ اس لیے وفاقی کابینہ سے اس خفیہ ڈیڈ کی منظوری کی جائے۔

اب شہباز حکومت کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن نے 50 ارب روپے غیر قانونی طور پر برطانیہ منتقل کیے جنہیں منجمند کر لیا گیا تھا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے یہ رقم واپس لانے کے بجائے برطانیہ میں بحریہ ٹاؤن کو ریلیف دے دیا گیا جس کے عوض ملک ریاض نے عمران کی مٹی بھی ٹھیک ٹھاک گرم کی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے جو پیسے برطانیہ میں پکڑے گئے وہ سپریم کورٹ کی فیصلے کے بعد واجب الادا رقم میں ایڈجیسٹ کر دیے گئے تھے۔

اس حوالے سے عمران خان کے سابق معاون خصوصی برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امپورٹڈ کابینہ کے ارکان نے 2019 میں ملک فیملی اور این سی اے کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک ٹویٹ کے ذریعے شراکت ہومز کے دیسی ماڈل نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’2018 میں این سی اے نے برطانیہ میں 20 ملین کی ٹرانزیکشن کے خلاف اثاثہ منجمد کرنے کا حکم حاصل کیا، یہ رقم لندن پراپرٹی 1 ہائیڈ پارک کے خلاف حاصل کردہ قرض تھی جو اس سے قبل شریف خاندان سے خریدی گئی تھی۔ تفتیش کے دوران اے آر یو سے مدد طلب کی گئی جو کہ قانون کے مطابق فراہم کی گئی تھی۔‘

مرزا شہزاد اکبرنے کہا کہ ‘بعد میں این سی اے نے اعتراف کیا کہ برطانیہ میں رکھی گئی رقم کے پیچھے کوئی جرم نہیں ہے، لہٰذا ملک خاندان نے این سی اے کے ساتھ تصفیہ کے ذریعے ون ہائیڈ پارک فروخت کر کے رقم پاکستان کو واپس بھیجی۔‘ بعد ازاں بحریہ ٹاؤن کو ریلیف دینے کے بدلے ملک ریاض حسین نے عمران کو انکی ڈمی القادر یونیورسٹی کے لیے جہلم میں اربوں روپے مالیت کی 458 کنال اراضی بخسش کر دی۔نئی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کی ضبط کی گئی رقم پر ریلیف دینے کے بدلے میں عمران اور بشری بی بی کو بحریہ ٹاؤن سے اراضی ملی۔ دستاویزات کے مطابق 24 مارچ 2021 کو بحریہ ٹاؤن کے مالک نے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کو ضلع جہلم سواہا میں 458 کنال کی اراضی عطیہ کی۔ اس اراضی کا معاہدہ بحریہ ٹاؤن اور سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے درمیان ہوا۔ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بطور ٹرسٹی القادر یونیورسٹی پراجیکٹ ٹرسٹ کی جانب سے دستخط کیے گئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شہباز شریف حکومت عمران خان کا یہ میگا کرپشن سکینڈل سامنے آنے کے بعد ان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی بھی کرتی ہے یا گیدڑ بھبھکیاں ہی دیتی رہے گی  ۔

Back to top button