خط سیاسی معاملہ تھا توعمران قومی سلامتی کمیٹی میں کیوں لے گئے؟

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہعمران خان کہہ رہا ہے کہ مراسلہ سیاسی معاملہ ہے ڈی جی آئی ایس پی آر کو بولنے کی ضرورت نہیں، مراسلہ سیاسی معاملہ تھا تو عمران خان خود اسے قومی سلامتی کمیٹی میں کیوں لے کرگئے، یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے سیاسی معاملہ نہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر کے پاس فیکٹس ہیں، عمران خان نے اپنی سیاست چمکانے کےلیے پاکستان کی سلامتی اورسکیورٹی اداروں کو داؤ پر لگادیا۔

علی وزیر کو قومی اسمبلی میں آنے سے کون روک رہا ہے؟

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انکاکہنا تھاعمران خان کی پوری جعلی جماعت کے لیے میں اکیلی کافی ہوں۔ اگرکوئی انتشار،فتنہ فساد کی کال دے گا تو ریاست پوری قوت سے روکے گی۔ عمران خان کے خلاف ایک کے بعد ایک کرپشن کا سکینڈل آ رہا ہے،عمران خان ایک ماہ رانا ثنااللہ سے ڈرکر پشاور کے بنکر میں چھپے رہے، لانگ مارچ کی کال کےلیے لیڈ کرنا پڑتا ہے، لوگوں کے بچوں کو ریاست کے آگے چھوڑ کر انقلاب نہیں آتے،انہوں نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ڈاکے ڈالے لیکن یہ باتیں چھپیں گی نہیں، اس پر کیسز بنیں گے اور بننے چاہئیں، قوم کے مسترد کرنے پر عمران خان صدمے میں ہیں۔

انہوں نے کہاہم نے پی ٹی آئی کے آئی ایم ایف سے معاہدے پر عمل نہ کیا تو ملک ڈیفالٹ کر جائے گا، پی ٹی آئی کے معاہدے کے تحت آج پیٹرول کی قیمت 300 روپے فی لیٹر ہوتی، شہباز حکومت نے پیٹرول پر اپنی طرف سے ایک پیسہ بھی نہیں بڑھایا،عمران خان نے جاتے جاتے جو تباہی مچائی اس سے نکلنے میں مہینوں یا سال لگ جائیں گے، ملک کو اس نہج پر عمران خان لے کر آیا، ہماری مجبوری ہے کہ اگر آئی ایم ایف سے معاہدہ توڑتے ہیں تو پاکستان دیوالیہ ہو جائے گا۔

نوازشریف کے سابق صد پرویز مشرف سے متعلق بیان پر مریم نواز نے کہا نوازشریف کی ٹوئٹ خالصتاً انسانی بنیادوں پر تھی، انہوں نے واضح طور پر کہا کہ مجھے اور میرے خاندان پر جو ظلم انہوں نے توڑے جس کا شکار نہ صرف وہ بنے بلکہ پورا خاندان گیارہ سال تک بنتا رہا،میرے سامنے نواز شریف کو 1999 میں کراچی کی عدالت نے دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی، میں اس عدالت میں موجود تھی، انہیں اٹک قلعہ میں پھینکا گیا اور جلا وطن کیا گیا، وہ اپنے والد کو دفنانے نہیں آسکے، اس وقت حکمران مشرف تھے، مشرف جس اسٹیج پر ہیں نہ اٹھ سکتے ہیں اور نہ بیٹھ سکتے ہیں، نواز شریف نے بہت بڑے دل کا مظاہرہ کیا ہے،نوازشریف ذاتی انتقام پر یقین نہیں رکھتے، انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ جو تکالیف انہوں نے برداشت کیں جس میں ان کے اپنے پیارے گزر گئے لیکن انہوں نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ میرا بدترین دشمن اور مخالف بھی وہ سہے جو مجھے سہنا پڑا، نوازشریف آج بھی وطن سے دور ہیں اور وطن واپس نہیں آپارہے،نوازشریف حکومت کا حصہ نہیں انہوں نے ذاتی حیثیت میں بات کی، جو مشرف دور میں انہیں سہنا پڑا، عدلیہ کے ساتھ کیا ہوا وہ عدلیہ اور وہ جانیں، نوازشریف نے یقینی بنایا کہ وہ اپنی ذاتی حیثیت میں بات کریں۔
انہوں نے کہاالیکشن اپنے وقت پر ہوں گے، سخت فیصلوں کے بعد ملک کو مستحکم کرنے کےلیے وقت درکار ہے، پاکستان مقررہ وقت پر انتخابات کی طرف جائےگا، کوئی ایسی صورتحال نہیں بنائی جائے گی کہ خوامخواہ جلد الیکشن کی بات ہو۔

ن لیگ کی نائب صدر نے کہامیرا آج بھی بیانیہ ووٹ کو عزت دو ہے اور آگے بھی رہے گا، ن لیگ کو بیساکھیوں کی ضرورت نہیں، یہ ضرورت فتنہ خان کو تھی، اس کو بیساکھیاں ملیں، وہ بیساکھیاں جب تک تھیں اس کی حکومت چلی، جیسے ہی بیساکھیاں ہٹیں وہ منہ کے بل گرپڑا، ن لیگ عوام کی قوت پر یقین رکھتی ہے، عوام کی خدمت کرتی ہے اور فیصلے کے لیے عوام کے پاس جاتی ہے۔

Back to top button