جنرل باجوہ کو توسیع نہ ملی تو اگلا آرمی چیف کون ہو گا؟

سیاسی حلقوں میں اس وقت یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایک مرتبہ پھر توسیع دیں گے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے حالیہ دنوں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ابھی نومبر بہت دور ہے، جب وقت آئے گا تب دیکھا جائے گا۔ فوجی ترجمان نے بھی ایک بریفنگ میں اس سوال کا گول مول جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بحث غیر ضروری ہے اور میڈیا کو اس سے پرہیز کرنا چاہیئے۔

لیکن اس کے باوجود سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان، سابق صدر آصف زرداری کے راستے پر چلتے ہوئے موجودہ آرمی چیف کو توسیع دیں گے یا سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سینئر ترین جرنیل کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے فیورٹ سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو نیا آرمی چیف تعینات کر دیں گے؟ ایسی افواہیں بھی ہیں کہ شاید عمران خان نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان چھ ماہ پہلے ہی کردیں۔ یاد رہے کہ نئے فوجی سربراہ کے بارے میں قیاس آرائیاں فیض حمید کے تبادلے اور نئے آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھیں۔

لیکن ایک بات ہے کہ نئے آرمی چیف کی تقرری وزیراعظم عمران خان، ان کی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ مسلم لیگ نواز پہلے ہی کھلم کھلا آئی ایس آئی کے سابقہ متنازعہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو اگلا آرمی چیف بنانے کی مخالفت کر چکی ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتی کہ 2023 کے عام انتخابات میں 2018 کے دھاندلی زدہ الیکشن کی تاریخ دہرائی جائے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو نومبر 2019 میں تین سال کی توسیع دی گئی تھی جس کے بعد اب آئندہ برس 29 نومبر 2022 کو ان کے عہدے کی مدت مکمل ہو جائے گی۔ جنرل باجوہ کو توسیع دینے کی اس وقت وجہ ’علاقائی سکیورٹی حالات‘ بتائے گئے تھے۔

تب بھارت کا مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا اور امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات اہم علاقائی تبدیلیاں تھیں جن کو وجہ بنا کر یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ اس دوران کشمیر کا خطہ پاکستان اور کشمیریوں کے ہاتھ سے نکل کر بھارت کے قبضے میں چلا گیا۔ 2022 میں اس خطے میں سکیورٹی صورت حال کیا ہو گی ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جنرل باجوہ کو توسیع دی جاتی ہے یا نہیں؟

اسووت نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے سینیارٹی لسٹ میں مختلف نام ہیں۔ آئندہ برس جولائی میں لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز اپنے عہدے سے ریٹائر ہو جائیں گے۔ وہ اس وقت جی ایچ کیو میں انجینیئر ان چیف کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کے بعد سینیارٹی فہرست میں چھ لیفٹیننٹ جنرلز موجود ہیں جنہوں نے 30 ستمبر 2022 کو ریٹائر ہونا ہے۔ ان چھ میں سے چار لیفٹینیٹ جنرلز 30 ستمبر 2022 کو ہی ریٹائر ہوں گے جبکہ تکنیکی تبدیلی کی وجہ سے لیفٹیننٹ جنرل وسیم اشرف 11 نومبر کو ریٹائر ہوں گے۔

اس کے علاوہ سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر احمد ہیں، جو پہلے کور کمانڈر گوجرانوالہ اور اب کوارٹر ماسٹر جنرل کے عہدے پر تعینات ہیں، ان کی عہدے سے ریٹائرمنٹ 30 ستمبر کو ہونا تھی لیکن کچھ تکنیکی تبدیلی اور تاخیر سے تھری سٹار جنرل کا رینک ملنے کی وجہ سے اب ان کے عہدے کی مدت 27 نومبر 2022 کو مکمل ہو گی۔
لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو ستمبر 2018 میں میجر جنرل سے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ تب وہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس تھے جبکہ 25 اکتوبر کو انہیں ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کر دیا گیا تھا۔ وہ ایک برس سے بھی کم عرصہ تک آئی ایس آئی کے سربراہ رہے جس کے بعد لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ان کی جگہ لگا دیا گیا۔ عاصم منیر 16 جون 2019 تک آئی ایس آئی چیف کے عہدے پر تعینات رہے تھے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ آرمی چیف کی سینیارٹی لسٹ میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کا نام بھی آ سکتا ہے کیونکہ جب نومبر 2022 کے پہلے ہفتے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے بذریعہ وزارت دفاع کو نئے چیف کے لیے نام بھجوائے جائیں گے تو سینیارٹی لسٹ میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر پہلے نمبر پر ہوں گے کیونکہ ان کی ریٹائرمنٹ 27 نومبر 2022 کو ہے۔ اس معاملے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جنرل عاصم منیر آرمی چیف کی طرف سے نام بھیجنے کے وقت تو اہل ہوں گے، لیکن اگر ان کو منتخب کر بھی لیا جاتا ہے تو ان کی مدتِ ملازمت جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے تین دن پہلے ہی ختم ہو جائے گی۔

نئے آرمی چیف کے لیے نام بھجوانے کا طریقہ کار یہ ہے کہ موجودہ آرمی چیف سینیارٹی فہرست میں سے پہلے تین یا پہلے پانچ نام جرنیلوں کی اہلیت کی جانچ کرنے کے بعد وزارت دفاع کے ذریعے وزیراعظم کو بھجواتے ہیں۔ ہر نام کے ساتھ ان کی اہلیت کی تفصیل لکھی ہوتی ہے جس کے بعد وزیراعظم ان تین یا پانچ ناموں سے ایک نام چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جبکہ ایک نام آرمی چیف کے عہدے کے لیے منتخب کر لیتے ہیں۔

اگر سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کسی کی سفارش کرنا چاہیں تو اس کا اضافی نوٹ بھی شامل ہو سکتا ہے لیکن حتمی اختیار اور منظوری وزیراعظم کی ہو گی۔ تاہم ماضی میں دو سابق فوجی آمر جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کی تعیناتی کے مواقع پر تب کے وزرائے اعظم نے اپنی مرضی سے نئے آرمی چیف کا انتخاب کیا اور جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ کو مد نظر نہیں رکھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف دونوں نے اپنے فیصلے بھگتے اور دونوں سنیارٹی لسٹ سے ہٹ کر لائے گے جرنیلوں کے ہاتھوں بغاوت کا شکار ہوئے۔

عمومی طور پر نومبر کے پہلے ہفتے میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے جرنیلوں کے نام وزیراعظم آفس بھیجے جاتے ہیں جس کے بعد متوقع طور پر 25 یا 26 نومبر تک نئے فوجی سربراہ کا تقرر کر دیا جاتا ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق سینیارٹی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر لیفٹینٹ جنرل عاصم منیر احمد اور دوسرے پر کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد ہیں۔

تیسرے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس جو اس وقت چیف آف جنرل سٹاف تعینات ہیں۔ چوتھے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود جو پہلے کور کمانڈر پشاور تعینات تھے اور حال ہی میں ان کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں صدر کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ پانچویں نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید موجود ہیں جو اسوقت کور کمانڈر پشاور تعینات ہیں۔ اگر جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع نہ کی گئی تو نئے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا انتخاب انہی 6 سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز میں سے کیا جائے گا۔

نومبر 2022 میں جنرل قمر باجوہ اور جنرل ندیم کی ریٹائرمنٹ کے بعد راولپنڈی کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا سب سے سینئر پوزیشن پر آ جائیں گے او دونوں اہم عہدوں یعنی آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کیلئے دوڑ میں شامل ہو جائیں گے۔ سینیارٹی کے لحاظ سے دیگر جن پانچ آرمی افسروں کا نام ٹاپ پوزیشن پر آ جائے گے ان میں لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود راجہ، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر، لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر اور لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر بلوچ شامل ہیں۔انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم شیخ اس فہرست میں ساتویں نمبر پر ہوں گے۔
اس وقت سینئر ترین جنرل لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کور کمانڈر راولپنڈی کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں چیف آف جنرل اسٹاف تعینات تھے۔ ٹو سٹار جنرل کے طور پر انہوں نے ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹر جنرل، جنرل اسٹاف کے نائب سربراہ کے ساتھ ساتھ ڈیرہ اسماعیل خان میں 40 انفنٹری ڈویژن کی کمانڈ کی۔ یہ ڈویژن اب اوکاڑہ منتقل ہو گیا ہے۔

ان کا تعلق پنجاب کے ضلع چکوال کے علاقے ملہل مغلاں سے ہے۔لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس اس وقت چیف آف جنرل اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اپنی موجودہ پوسٹنگ سے قبل انہوں نے راولپنڈی کور کی کمانڈ کی اور ڈی جی جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹر تھے۔ وہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے پرسنل سیکرٹری بھی رہے۔ وہ مری میں 12 انفنٹری ڈویژن کے کمانڈنگ جنرل آفیسر کے طور پر مزید خدمات انجام دے چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے آخری پانچ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اس سے قبل جنرل اسٹاف کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔

سری لنکن منیجر کے قاتلوں کے حامی ملزم کو ایک سال قید

لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود راجہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر ہیں۔ اس سے قبل وہ کور کمانڈر پشاور اور انسپکٹر جنرل کمیونیکیشن اینڈ آئی ٹی کے عہدوں پر فائز رہے۔ بطور میجر جنرل وہ آئی ایس آئی میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے بطور ڈی جی analysis اور میران شاہ میں انفنٹری ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل راجہ کا تعلق راولپنڈی کے علاقے ادھوال سے ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود راجہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید تینوں کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے۔

پاکستانی تاریخ کے متنازعہ ترین آئی ایس آئی سربراہ سمجھے جانے والے فیض حمید اس وقت کور کمانڈر پشاور کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے۔ فیض حمید ڈی جی آئی ایس آئی اور ایڈجوٹینٹ جنرل کے اہم عہدوں پر بھی فائز رہے ہیں۔ میجر جنرل کے طور پر، فیض نے پنو عاقل انفنٹری ڈویژن کی کمانڈ کی اور آئی ایس آئی میں بطور ڈی جی کاؤنٹر انٹیلی جنس اور انٹرنل سیکیورٹی بھی تعینات رہے۔ بطور بریگیڈیئر انہوں نے تب کے لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ راولپنڈی کور کے چیف آف اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کا تعلق ضلع چکوال سے ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پشاور کے صرف تین سابقہ کور کمانڈرز کو بعد میں فور سٹار جرنیلوں کے عہدے پر فائز کیا گیا، یعنی جنرل سوار خان، جنرل اسلم بیگ اور جنرل احسان الحق۔ کور کمانڈر گوجرانوالہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کا تعلق آرٹلری سے ہے۔ اس سے قبل وہ ایڈجوٹینٹ جنرل کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ بطور میجر جنرل وہ 10 انفنٹری ڈویژن لاہور کے جی او سی اور COAS سیکرٹریٹ میں ڈائریکٹر جنرل سٹاف کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔کور کمانڈر ملتان لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر بلوچ ایک پنجابی بلوچ ہیں اور ان کا تعلق ساہیوال سے ہے۔ اس سے قبل وہ جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹر کے ڈی جی، ڈی جی ملٹری ٹریننگ اور جی او سی انفنٹری ڈویژن جہلم کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

حاضر سروس ڈی جی آئی ایس آئی، لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم شیخ اس سے قبل کور کمانڈر کراچی، کمانڈنٹ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ، انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بلوچستان اور بریگیڈ کمانڈر وزیرستان اور کرم ایجنسی رہ چکے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل شمشاد مرزا، لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس، لیفٹیننٹ جنرل نعمان راجہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض کو اپریل 2019 میں تھری سٹار رینک پر ترقی دی گئی تھی۔ جبکہ لیفٹیننٹ جنرل عامر، لیفٹیننٹ جنرل چراغ بلوچ اور لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم شیخ کو ستمبر 2019 میں اس عہدے پر ترقی دی گئی۔ یہ بھی خیال رہے کہ اب آرمی چیف جنرل باجوہ جن میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدوں پر ترقی دیں گے وہ نومبر 2025 میں آرمی چیف کی دوڑ میں شامل ہوں گے۔

وزیراعظم عمران خان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ جنرل قمر باجوہ کو دوبارہ توسیع دینے کے موڈ میں نہیں ہیں اور ان کی اس عہدے کے لیے چوائس لیفٹننٹ جنرل فیض حمید ہونگے۔ تاہم اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ فیض حمید صرف اسی صورت اگلے آدمی چیف تعینات ہو سکتے ہیں جب عمران خان اپنے اقتدار کی مدت پوری کریں۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب آرمی چیف کے لیے نام بھجوائے جائیں گے تو کیا اس وقت کور کمانڈ کرنے کے ایک سال کی مدت پوری ہونا ضروری ہے؟ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے آرمی چیف بننے کے لیے کور کمانڈ کرنا لازم تھا لیکن مدت واضح نہیں تھی۔ لیکن اب آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے آرمی رولز میں ترامیم کرتے ہوئے آرمی چیف کی اہلیت کے لیے کم از کم ایک سال کی کور کمانڈ کرنا لازم کر دیا ہے۔

اگر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو نومبر 2023 سے پہلے کہیں اور پوسٹنگ نہیں دے دی جاتی تو وہ 20 نومبر 2022 کو بطور پشاور کور کمانڈ ایک برس کی مطلوبہ مدت مکمل کر لیں گے اور آرمی چیف لگنے کے لیے ان کا راستہ ہموار ہوجائے گا۔ تاہم نئے آرمی چیف کے ناموں پر قیاس آرائیاں اپنی جگہ مگر اس وقت اسلام آباد میں یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ شاید اس کی نوبت ہی نہ آئے اور جنرل باجوہ کو نومبر 2022 میں ایک توسیع مل جائے۔ لیکن قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ 2020 میں آرمی ایکٹ میں تبدیلی کر کے آرمی چیف کی عمر کی زیادہ سے زیادہ حد 64 برس مقرر کر دی گئی تھی، جس کا مطلب یہ ہے کہ جنرل باجوہ کو اگر توسیع مل بھی جائے تو وہ تین سال پورے نہیں کر سکیں گے اور نومبر 2024 میں 64 برس کی عمر تک پہنچ کر ریٹائر ہو جائیں گے۔

Back to top button