کیا جنرل فیض کے جانے سے عمران کی مشکلات بڑھ گئیں؟

سینئر صحافی رئوف کلاسرا نے کہا ہے کہ بطور آئی ایس آئی چیف، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے فارغ ہونے سے سے وزیراعظم عمران خان کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور تحریک انصاف میں بڑے پیمانے پر بغاوت کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

اپنے وی لاگ میں سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کلاسرہ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے وزرا کی آپسی لڑائیاں اب کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ عمران خان اگر کسی بحران کا شکار ہوتے ہیں تو کون کون سے پارٹی لیڈر یا وزرا ان کا ساتھ دیں گے؟ رؤف کلاسرہ کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں دو چار وزرا۔کے علاوہ باقی تمام لوگ عمران کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فیض حمید کے تبادلے کے بعد سے عمران ہر جانب سے مشکلات میں گھرتے جا رہے ہیں۔ انھیں یہ محسوس ہونا شروع ہو چکا ہے کہ جب سے جنرل فیض گئے ہیں، ان کیلئے بحران بڑھ گیا ہے۔

رئوف کلاسرا نے پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ پرویز خٹک اور حماد اظہر کے مابین عمران خان کی موجودگی میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ لیکن پرویز خٹک اکیلے نہیں بلکہ ان کے پیچھے خیبر پختونخوا کے وزیروں کا بڑا گروپ موجود ہے جو سب یہ سمجھتے ہیں کہ گیس کی تقسیم کے معاملے میں ان کے صوبے کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے وزرا یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا صوبہ قدرتی گیس کے وسائل سے مالا مال ہے۔ لہذا جو گیس حکومت کو صرف دو ڈالر میں پڑتی ہے وہ اس کیلئے 40 ڈالرز کیوں ادا کریں۔ اسکے علاوہ پرویز خٹک سمیت کئی وفاقی اور صوبائی عمران خان سے ان تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں کہ ہم نے کل کو الیکشن میں دوبارہ عوام کے پاس جانا ہے، لہٰذا حکومت کچھ تو ایسا کرے کہ ہم نے اپنا منہ دکھانے کے قابل ہوجائیں۔

عافیہ صدیقی کیلئے یہودی یرغمال بنانے والا پاکستانی نکلا

رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ کا وفاقی کابینہ میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے وزرا کی اب کوئی مضبوط لابی موجود نہیں اس لیے پرویز خٹک اور ان کے ساتھی اب پنجاب والوں کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے ذمہ دار ہیں۔ حماد اظہر سے قبل فواد چودھری کو بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ فردوس عاشق اعوان تو خود کہتی تھیں کہ پرائم منسٹر ہائوس تو خیبر پختونخوا کی بیوروکریسی چلاتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر الزامات بھی عائد کیے تھے۔

رؤف کلاسرہ کے بقول وزیر اعظم عمران خان خیبر پختونخوا کے وزرا کو اس لئے اہمیت دیتے ہیں کہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کا تعلق بھی اسی صوبے سے ہے۔رئوف کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک اپنے صوبے کے وزرا کو لیڈ کر کے ان کی بات کابینہ تک پہنچاتے ہیں۔

ان کا شکوہ ہے کہ ان کا صوبہ بہت زیادہ گیس پیدا کرتا ہے جس پر سب سے زیادہ حق خیبر پختونخواہ کے عوام کا ہے لیکن پورے صوبے میں گیس کا شدید بحران ہے اور لوگوں کے چولہے بجھ چکے ہیں۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک کی جانب سے تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کھلی بغاوت کی وجہ صرف گیس کا بحران نہیں ہے۔

Back to top button