رقم دوگنا کرنے کا لالچ کرپٹو کرنسی فراڈیوں کا اصل حربہ

اپنی رقم دوگنا کرنے کے لالچ میں پاکستانی کرپٹو کرنسی کے نام پر مسلسل فراڈیوں کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں جسکی تازہ مثال 18 ارب روپے کے فراڈ کا کیس ہے جس میں ہزاروں پاکستانی ماموں بنائے گے۔ تحقیقات سے یہ بارے سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا غیر قانونی لین دین فراڈ کی وجہ بن رہا ہے اور لوگ اپنی سرمایہ کاری چند ہفتوں میں دوگنا ہونے کے لالچ میں لٹ جاتے ہیں۔
پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے لین دین سے منسلک ایک انویسٹر نے اپنی شناخت خفیہ رکھتے ہوئے بتایا کہ کچھ انویسٹمنٹ ویب سائٹس پر لالچ دیا جاتا ہے کہ آپ جتنے پیسوں کی سرمایہ کاری کریں گے، وہ دگنی ہو جائے گی۔
مثال کے طور پر 100 ڈالر دیں گے، تو ایک ہفتے بعد 200 ڈالر ملیں گے۔ شروع شروع میں ڈبل منافع بھی ملتا ہے لیکن کبھی ہی عرصے بعد ایسی ویب سائٹس اور ایپس کہیں غائب ہو جاتی ہیں اور لوگ ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔حال ہی میں ایف آئی اے نے ایک آن لائن فراڈ کی نشان دہی کی جس میں کرپٹو کرنسی کا لین دین کرنے والی کئی کمپنیاں ہزاروں پاکستانی افراد کے پیسے ہڑپ کر گئیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ سٹیٹ بینک کے 2018 کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے لین دین سے منع کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اس ڈیجیٹل کرنسی کے کاروبار کا رجحان گزشتہ سالوں میں تیزی سے بڑھا ہے۔ لین دین کے اس رجحان کے ساتھ ہی آن لائن دھوکہ دہی میں بھی اضافہ ہوا ہے جس میں ہزاروں افراد جھانسے میں آ کر کرپٹو کرنسی کے ذریعے جلد اور با آسانی پیسے کمانے کے لالچ میں آ جاتے ہیں۔
خیال رہے کہ ڈیجیٹل کرنسی بنیادی طور پر الیکٹرانک سطح پر ادائیگی کا طریقہ کار ہے۔ اس سے آپ خریداری کر سکتے ہیں لیکن اب تک یہ کرنسی مخصوص مقامات پر ہی خرچ کی جا سکتی ہے۔ اس کے ذریعے آپ ویڈیو گیمز یا سوشل نیٹ ورکس پر ادائیگی کر سکتے ہیں۔
اس وقت دنیا میں 4000 سے زائد کرپٹو کرنسیز استعمال ہو رہی ہیں جن میں بِٹ کوائن سرفہرست ہے۔ 2009 میں متعارف کروائے جانے کے بعد سے بِٹ کوائن کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ ایسے ہی ایک آن لائن فراڈ کی تحقیقات پاکستان کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ یعنی ایف آئی اے کر رہا ہے جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کی جانب سے کرپٹو کرنسی پر لگایا جانے والا 10 کروڑ ڈالر یا 18 ارب روپے کا مجموعی سرمایہ اچانک غائب ہو گیا۔
ایف آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر کراچی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شہریار احمد خان کی جانب سے 6 جنوری کو جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق اس فراڈ کے ذمہ دار تقریبا 11 ایسے اکاؤنٹس تھے جو کرپٹو کرنسی میں لین دین کے لیے استعمال کیے جاتے تھے اور بین الاقوامی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنینس سے منسلک تھے۔ واضح رہے کہ بائنینس دنیا میں کرپٹو کرنسی کے لین دین کی سب سے بڑی ایکسچینج ہے جو 2017 میں قائم ہوئی اور کیمن آئی لینڈز میں رجسٹرڈ ہے۔ ایسی ایکسچینج کے ذریعے لوگ کرپٹو کرنسی خریدتے ہیں اور اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے لین دین کے ذریعے منافع کماتے ہیں۔
عام طور پر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ لگانے والوں کے لیے یہ ایکسچینج ایک پلیٹ فارم ہوتا ہے جہاں وہ اپنا اکاوئنٹ کھول کر لین دین کر سکتے ہیں۔ لیکن کئی لوگ اس لین دین کے لیے موبائل فون ایپلیکیشنز اور ویب سائٹس بھی استعمال کرتے ہیں جس میں براہ راست سرمایہ کاری کے بجائے کسی اور کے ذریعے سرمایہ لگایا جاتا ہے۔ اس فراڈ میں بھی ایسا ہی ہوا۔
ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شہریار احمد خان کے مطابق بائنینس کے کراچی میں نمائندے حمزہ خان کو بھی طلب کیا گیا اور بائنینس کے مرکزی دفتر کو بھی ان تحقیقات کا حصہ بنایا گیا۔ ایف آئی اے کے سندھ سائبر کرائم کے سربراہ عمران ریاض کے مطابق عالمی کرپٹو ایکسچینج بائنینس نے ایف آئی اے سائبر کرائم سے رابطے کے بعد کرپٹو کرنسی کے دو ماہر جو امریکی محکمہ خزانہ کے سابق ملازم رہ چکے ہیں نامزد کیے ہیں۔ ان کے مطابق بائنینس کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ بائنینس بلاک چین ایڈریس استعمال کرتے ہوئے 11 ایپس کے فراڈ کی تحقیقات میں ایف آئی اے سے مکمل تعاون کرے گی اور اُنھیں امید ہے کہ مجرموں کی شناخت کی جا سکے گی۔
کرپٹو کرنسی کے لین دین کا کام کرنے والی کمپنی کرپٹو برادرز کے سید عون کے مطابق اس آن لائن فراڈ میں ان لوگوں کو زیادہ نقصان ہوا جو کرپٹو کرنسی کو سمجھے بغیر لاکھوں اور کروڑوں روپے کمانا چاہتے تھے۔ عون کہتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی کے لین دین سے لوگوں نے اس طرح پیسے ضرور کمائے لیکن یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اسکو سمجھا اور خود لین دین کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ فرض کریں کہ آپ کے پاس ایک کروڑ روپے ہیں اور آپ پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ لگانا چاہتے ہیں۔
پاکستان کب تک سائبر حملے روکنے کے قابل ہو جائے گا؟
ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آپ ریسرچ کریں گے کہ کہاں پیسہ لگانا ہے اور آپ کوئی پلاٹ یا گھر خرید لیں اور کچھ عرصے کے بعد منافع پر بیچ دیں۔ دوسرا طریقہ ہے کہ آپ کے پاس ڈیلر آتا ہے جو کہتا ہے کہ آپ اپنا سرمایہ اسے دے دیں اور وہ کہتا ہے کہ جہاں آپ چھ ماہ میں 20 یا 30 لاکھ کمائیں گے وہیں وہ آپ کو ایک کروڑ سے زیادہ منافع کما دے گا۔ زیادہ تر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ وہ کسی کو پیسے تھما دیں اور وہ شخص اُنھیں پیسے کما کر دے۔ عون بتاتے ہیں کہ اس فراڈ میں چند لوگوں نے موبائل فون ایپلیکیشنز بنائیں جو کرپٹو کرنسی کی ایکسچینج نہیں تھی۔
لوگوں نے ان کو پیسے بھیجے جو بائنینس میں لگائے گئے لیکن پھر اُنھوں نے وہاں سے پیسے نکلوا لیے یا ٹرانسفر کروا لیے۔ عون کے مطابق اگر پاکستان نے کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کیا ہوتا تو یہ فراڈ ہونا مشکل تھا۔ ’اگر پاکستان میں قانون ہوتا تو پھر پاکستان کی جانب سے بائنینس کو اپنی شرائط دی جاتیں کہ اگر پاکستانیوں کے اکاؤنٹ کھولے جائیں تو کن شرائط پر کھولے جائیں اور کیا معلومات لی جائیں جو حکومت کو بھی مہیا کی جائیں۔ عون کے بقول جب یہ گروپ پاکستان کے کروڑ ڈالر یا 18 ارب روپے بائنینس کے والٹ میں ڈال رہا تھا تو ان کے کان کھڑے ہوتے اور وہ پاکستان کے ایف آئی اے کو بتاتے کہ آپ کے ملک سے فلاں شہری جو یہ کام کرتے ہیں اور جنھوں نے اتنی آمدنی بتائی ہوئی ہے وہ یکدم اتنے پیسے جمع کروا رہے ہیں۔ تب گارنٹیز ہوتیں اور ایسے فراڈ نہیں ہوتے۔
دوسری جانب پاکستان میں اب تک کرپٹو کرنسی کا کاروبار غیر قانونی ہے۔ حال ہی میں سندھ ہائی کورٹ میں وقار ذکا کی جانب سے درخواست کی گئی کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار کو قانونی بنایا جائے۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ کرپٹو کرنسی کے لین دین سے پاکستان کا قرضہ اتارا جا سکتا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے اس ضمن میں سٹیٹ بینک سمیت وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا تھا جس کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، وفاقی وزارت خزانہ اور فائنینشل مانیٹرنگ یونٹ کے نمائندوں پر مشتمل کرپٹو کرنسی کمیٹی قائم ہوئی جس کی رپورٹ سندھ ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی۔
اس رپورٹ کی دستاویزات میں کمیٹی کی جانب سے سفارش دی گئی ہے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیے کیونکہ ملک میں اس وقت لوگوں کو کم مدت میں زیادہ منافع کمانے کی ترغیب دے کر پھنسایا جا رہا ہے۔ کمیٹی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح ملک سے ناجائز پیسہ بھی غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کیا جا سکتا ہے یعنی منی لانڈرنگ ہو سکتی ہے۔ لہذا اس بزنس پر پابندی کی سفارش کی گئی ہے۔
