گلگت بلتستان: کیا PPP نون لیگ سے مل کر حکومت بنائے گی؟

 

 

 

پیپلز پارٹی کی جانب سے گلگت بلتستان اسمبلی کے الیکشن میں 10 سیٹیں جیتنے کے بعد اب یہ طے ہو گیا ہے کہ اگلی حکومت پیپلز پارٹی کی ہو گی جس کی تشکیل کے لیے آزاد اراکین کی حمایت حاصل کرنے کے علاوہ مسلم لیگ نون سے اتحاد بھی کیا جا سکتا ہے۔

 

گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی نے حکومت سازی کے لیے آزاد اراکین کے ساتھ رابطہ کر لیا ہے تاکہ انہیں پیپلز پارٹی میں شامل کیا جا سکے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ دوسری جانب پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے درمیان پی ڈی ایم طرز کا سیاسی تعاون بھی زیر غور ہے جس کے تحت گلگت بلتستان میں ایک مشترکہ اتحادی حکومت قائم کی جا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی مشاورت میں یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ گلگت بلتستان کا وزیراعلیٰ پیپلز پارٹی سے ہوگا جبکہ گورنر کا منصب مسلم لیگ (ن) مانگ سکتی ہے۔ اس فارمولے کو دونوں جماعتوں کی انتخابی پوزیشن اور وفاق میں جاری سیاسی تعاون کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت گورنر گلگت بلتستان کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔

 

گلگت بلتستان اسمبلی کے 24 حلقوں میں سے 22 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ چکے ہیں جن کے مطابق پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی نے 10 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ 7 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) 4 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی جبکہ ایک نشست مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے حصے میں آئی ہے۔

دو حلقوں، جو ضلع استور سے تعلق رکھتے ہیں، کے نتائج تاحال آنا باقی ہیں تاہم موجودہ صورتحال میں پیپلز پارٹی واضح برتری حاصل کر چکی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر آزاد امیدواروں کی اکثریت پیپلز پارٹی یا ن لیگ کی حمایت کا اعلان کرتی ہے تو حکومت سازی کا عمل مزید آسان ہو جائے گا۔

 

پیپلز پارٹی کے کامیاب امیدواروں میں حلقہ جی بی اے ون سے امجد حسین، حلقہ 4 نگر ون سے محمد علی اختر، حلقہ 5 نگر ٹو سے ذوالفقار علی مراد، حلقہ 7 سکردو ون سے سید توقیر مہدی، حلقہ 9 سکردو تھری سے فدا محمد ناشاد اور حلقہ 10 اسکردو فور سے ناصر علی خان شامل ہیں۔ اسی طرح حلقہ 11 کھرمنگ سے اقبال حسن، حلقہ 12 شگر سے عمران ندیم، حلقہ جی بی اے 17 دیامر تھری سے محمد نسیم اور حلقہ 19 غذر ون سے سید جلال شاہ بھی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والوں میں شامل ہیں۔ ان نتائج نے پیپلز پارٹی کو حکومت سازی کے عمل میں نمایاں برتری فراہم کر دی ہے۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان وزارتوں کی تقسیم کے لیے بھی ابتدائی سطح پر ایک فارمولا زیر غور ہے۔ مجوزہ فارمولے کے مطابق اتحادی حکومت میں وزارتوں کی تقسیم 60 اور 40 فیصد کے تناسب سے کی جا سکتی ہے، جس میں زیادہ حصہ پیپلز پارٹی کو ملنے کا امکان ہے۔

سیاسی حلقوں کے مطابق گلگت بلتستان میں مجوزہ اتحاد کو وفاقی سطح پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان جاری سیاسی مفاہمت کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے۔ دونوں جماعتیں پہلے ہی مرکز میں اہم قومی معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔ اسی تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں حکومتی وفد نے گزشتہ روز ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کی قیادت سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔

 

ایوان صدر آمد پر صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال کیا جبکہ پیپلز پارٹی کے وفد کی قیادت چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کی۔ ملاقات میں آئندہ وفاقی بجٹ، ملکی سیاسی صورتحال اور باہمی تعاون سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق حکومت اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے کی بیشتر بجٹ تجاویز پر اتفاق کر لیا ہے اور پیپلز پارٹی نے وفاقی بجٹ کی منظوری کے لیے حکومت کو گرین سگنل بھی دے دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے مرکز اور گلگت بلتستان دونوں سطحوں پر سیاسی تعاون مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔

 

ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان انتخابات میں کامیابی پر صدر آصف علی زرداری کو مبارک باد بھی دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے خوشگوار انداز میں کہا کہ "نوجوان بلاول نے ہم سے بہتر انتخابی مہم چلائی”، جس پر صدر زرداری نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "آخر بیٹا کس کا ہے!” ذرائع کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر بھی اس اہم ملاقات میں شریک ہوئے اور اجلاس میں آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی و انتظامی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

بجٹ سے قبل سولر پینلزکی قیمتیں کیوں بڑھنے لگیں؟

سیاسی مبصرین کے مطابق وفاق میں جاری سیاسی رابطوں اور گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج کو دیکھتے ہوئے آئندہ چند روز میں حکومت سازی کے حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے، جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان باضابطہ اتحاد کا اعلان بھی کسی وقت سامنے آ سکتا ہے۔

 

Back to top button