گورایہ قتل سازش، رقم لندن سے بھجوائے جانے کا انکشاف

گورایہ قتل کیس میں اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ قتل کی سازش کیلئے رقم لندن سے چنیوٹ بھجوائی گئی، کنگسٹن کراؤن عدالت میں کراؤن پراسیکیوشن سروسز کے ججوں کو دیئے گئے بیان کے مطابق بینک میں رقم مقامی شخص کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی تھی۔

برطانوی نژاد پاکستان ہٹ مین گوہر خان کو پہلی ادائیگی ایک بینک میں ہنڈی کے ذریعے کی گئی، جس کا مقصد مبینہ طور پر نیدرلینڈ میں مقیم بلاگر احمد وقاص گورایہ کے قتل کی سازش تھی۔سی پی ایس کے مطابق، گوہر خان اور ان کی خدمات حاصل کرنے والے مزمل / مڈز نے بینک اکاؤنٹ میں ادائیگی پر بات کی لیکن مزمل نے بینک کے اکاؤنٹ میں 5 ہزار پاؤنڈز محمد امین آصف کے نام پر بھیجے۔

مئی2021 میں ادائیگی میں تاخیر ہوئی کیوںکہ گوہر اور مزمل کے درمیان رقم منتقلی پر اختلاف تھا وہ اپنی شناخت ظاہر کر کے منی ٹریل چھوڑنا نہیں چاہتا تھا، 30 اپریل کو برطانوی پاکستانی نے مشرقی لندن سے نقد ادائیگی والے شخص کی تفصیلات مزمل مڈز کو واٹس ایپ کے ذریعے بھیجی جوکہ چنیوٹ کا محمد امین آصف تھا۔

کراؤن وکیل کے مطابق گوہر خان نے شرط عائد کی تھی کہ تمام رقوم برطانوی پاؤنڈز میں ادا کی جائے ، پاکستانی روپے میں ادائیگی نہ کی جائے، جب مزمل نے گوہر خان کو بتایا کہ وہ بگ باس سے اجازت کا منتظر ہے تو گوہر خان پریشان ہوا اور اس سے پوچھا کہ کیا وہ دوبارہ خاموش ہوچکا ہے جب ادائیگی سے متعلق پوچھا گیا کہ کب ہوگی تو مزمل نے بتایا کہ پاپا ادائیگی کریں گے جس کے بعد محمد امین کے بینک کی تفصیلات دوبارہ بھیجی گئیں۔

جس کے بعد مزمل نے گورایہ کی تصویر اور اس کے گھر کا پتہ دوبارہ بھیجا مزمل نے گوہر خان کو یہ بھی بتایا کہ یہ نفع بخش کام ہے جس سے وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو جائے گا، 20 مئی کو مزمل نے رقم جمع کرنے کی کوشش کی لیکن وہ منتقل نہ ہوسکی کیوںکہ اس کے پاس اصل شناختی کارڈ نہیں تھا۔

حکومت کی فارن فنڈنگ کیس پر رپورٹ غلط قرار

گوہر خان نے ہنڈی طریقہ کار کا کہا لیکن مزمل ہچکچاہٹ میں تھا اور اس نے گوہر خان کو بتایا کہ اسے چنیوٹ پہنچنے میں چار گھنٹے لگیں گے اور اس نے کہا کہ محمد امین آدھے راستے تک اس کے پاس آئے اور اس سے نقد رقم لے گئے، مزمل نے اس کے بعد کہا کہ وہ رقم بینک میں جمع کر دے گا تاہم بعد ازاں یہ رقم گوہر خان کے بتائے ہوئے شخص کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کردی گئی۔

Back to top button