حکومت کی فارن فنڈنگ کیس پر رپورٹ غلط قرار

حکومت کی فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے قائم کردہ سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ غلط قرار دے دیا گیا ہے، سابق اٹارنی کے مطابق رپورٹ پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ای سی پی میں پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران سابق اٹارنی جنرل انور منصور نے موقف اپنایا کہ رپورٹ میں کئی اعدادوشمار کو دہرایا گیا، سمجھ نہیں آ رہا کہ اعداد وشمارکہاں سے آئے۔
انور منصور نے مزید کہا کہ انہیں دو روز پہلے کیس ملا، کچھ چیزیں دیکھنے کے لئے وقت چاہئے، ہماری کچھ غلطیاں ہیں تو ہم تسلیم کریں گے،اگر کمیٹی کی غلطیاں ہیں تو درست کی جائیں۔
اس حوالے سے اکبرایس بابرکے وکیل نے کہا کہ سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کے کچھ حصے ہمیں نہیں دیئے گئے، سکروٹنی کمیٹی کے سربراہ سپیشل سیکریٹری بھی الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے اور بتایا کہ ایک ممبر کی ریٹائرمنٹ کے باعث اسکروٹنی کمیٹی غیرفعال ہوگئی۔
حکومت مہینوں نہیں، دنوں میں جاتی دکھائی دے رہی ہے
انہوں نے مزید کہا کہ پی پی پی اور ن لیگ کا کیس بھی اسی نوعیت کا ہے، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ رپورٹ کے کچھ حصے خفیہ رکھنے کی استدعا مسترد کر دی اور کہا کہ سکروٹنی کمیٹی کا کوئی ڈاکیومنٹ خفیہ نہیں،اسکروٹنی کمیٹی کی تشکیل نو کردی جائے گی، الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت یکم فروری تک ملتوی کردی۔
