28 ویں آئینی ترمیم کیلئے حکومت سرگرم، اگلا ہفتہ اہم قرار

اسلام آباد کے اقتدار کے ایوانوں میں ان دنوں غیر معمولی سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں، جہاں حکومت 28ویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے بھرپور انداز میں متحرک دکھائی دے رہی ہے۔ سیاسی و حکومتی حلقوں کے مطابق مئی کا آئندہ ہفتہ اس اہم آئینی پیش رفت کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں بھی اس ترمیم کی بازگشت نمایاں طور پر سنائی دے رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینے اور آئینی ترمیم پر وسیع تر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کیلئے مشاورت کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔ صدرِ مملکت اور وزیراعظم شہباز شریف کی حالیہ اہم ملاقات میں بھی 28ویں آئینی ترمیم مرکزی موضوع رہی، جس میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس ملاقات میں ترمیم کی منظوری کیلئے پارلیمانی حکمتِ عملی اور سیاسی حمایت کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پارلیمانی رہنماؤں سے غیر معمولی رابطے شروع کر رکھے ہیں اور انہیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کا اہم ٹاسک بھی سونپا گیا ہے۔ تاہم حکومت کی سب سے بڑی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے 28ویں آئینی ترمیم کے بعض نکات پر اپنے تحفظات برقرار رکھے ہوئے ہیں، جنہیں دور کرنے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف، رانا ثناء اللہ، اسحاق ڈار اور دیگر حکومتی شخصیات مسلسل سرگرم ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت نے پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کیلئے سندھ کے ترقیاتی منصوبوں کو آئندہ بجٹ کا حصہ بنانے پر اصولی آمادگی ظاہر کی ہے۔ اسی سلسلے میں گزشتہ رات ایوانِ صدر میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ اہم مشاورت بھی کی گئی، جس میں وزیر خزانہ اور سیکرٹری خزانہ نے این ایف سی ایوارڈ، وفاقی و صوبائی مالیاتی شیئرز، حکومتی اخراجات اور آمدن سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کو عیدالاضحیٰ سے قبل، ممکنہ طور پر 21 مئی کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔ اس ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ سمیت کئی اہم آئینی اور مالیاتی امور پر قانون سازی کی تجاویز شامل ہیں، تاہم نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ اس ترمیم کا حصہ نہیں ہوگا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کرتے ہوئے دو تہائی اکثریت یقینی بنانا ہے۔ اسی مقصد کیلئے وفاقی وزراء، پارلیمانی رہنماؤں اور حکومتی اتحادیوں کے درمیان مسلسل رابطے جاری ہیں، جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ کو اسلام آباد میں موجود رہنے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔ آنے والے دن ملکی سیاست کیلئے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ 28ویں آئینی ترمیم نہ صرف حکومتی حکمتِ عملی بلکہ اتحادی سیاست کا بھی بڑا امتحان بن چکی ہے۔
