امریکی میڈیا نے پاکستان پر ایرانی طیارے چھپانے کا الزام کیوں لگایا؟

ایک جانب ایران نے امریکا کو دوبارہ حملے کی صورت میں یورینیم کو 90 فیصد کی خطرناک حد تک افزودہ کرنے کی دھمکی دے دی ہے تو دوسری جانب امریکی میڈیا نے ایرانی طیاروں کی راولپنڈی میں واقع نور خان ایئربیس پر موجودگی کی خبر دے کر ہلچل مچا دی ہے۔

تاہم پاکستان نے امریکی ٹی وی چینل CBS News کے اس دعوے کو من گھڑت، گمراہ کُن اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ ایران نے اپنے فوجی طیارے ممکنہ طور پر امریکی حملوں سے بچانے کے لیے پاکستان کی نور خان ایئربیس پر منتقل کر دیے تھے، جن میں سے کئی اب بھی پاکستان میں موجود ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔دفتر خارجہ کے مطابق امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نیوز کی رپورٹ میں کیے گئے دعوے حقائق کے منافی اور خطے میں جاری امن و استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ اگرچہ ایک ایرانی طیارہ پاکستان میں موجود ہے، تاہم اس کی آمد جنگ بندی کے دوران ہوئی تھی اور اس کا کسی بھی عسکری یا دفاعی انتظام سے کوئی تعلق نہیں۔ ادھر امریکی میڈیا رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد تہران نے متعدد طیارے پاکستان بھیجے، جن میں ایک خصوصی آر سی-130 جاسوسی طیارہ بھی شامل تھا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطہ کار کے طور پر کردار ادا کرتے ہوئے ایرانی طیاروں کو عارضی طور پر اپنی فضائی حدود اور ایئربیسز پر جگہ دی۔ تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے سفارتی وفود، سکیورٹی اہلکاروں اور انتظامی عملے کی نقل و حرکت کے لیے مختلف طیارے اسلام آباد پہنچے تھے۔ انہی انتظامات کے تحت ایرانی وفد اور ان کے معاون عملے کو بھی سہولت فراہم کی گئی تھی۔ پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ خطے میں امن، مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے اپنا مثبت اور متوازن کردار جاری رکھے گا۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق مذاکرات کے مختلف ادوار کی توقع کے باعث بعض طیارے اور عملہ عارضی طور پر پاکستان میں مقیم رہے، جبکہ اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطے مسلسل جاری رہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ اس پورے عمل میں مکمل شفافیت برقرار رکھی گئی اور تمام متعلقہ فریقوں سے مسلسل رابطہ رکھا گیا۔ پاکستانی حکام نے اس امر پر بھی زور دیا کہ نور خان ایئربیس راولپنڈی شہر کے وسط میں واقع ہے، جہاں کسی بھی غیر معمولی فوجی سرگرمی یا بڑی تعداد میں طیاروں کی موجودگی کو عوام کی نظروں سے چھپانا ممکن نہیں۔ رپورٹ میں افغانستان سے متعلق بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے بعض مسافر طیارے وہاں بھی منتقل کیے تھے، تاہم افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو ایسی کسی ضرورت کا سامنا نہیں تھا۔

یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے پہلے مرحلے سے قبل امریکی اور ایرانی وفود کے سکیورٹی و پروٹوکول عملے کے کئی طیارے اسلام آباد پہنچے تھے۔ امریکی وفد کے لیے مخصوص گاڑیاں اور حفاظتی سامان بھی بڑے فوجی طیاروں کے ذریعے لایا گیا تھا تاکہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے انتظامات مکمل کیے جا سکیں۔ امریکی میڈیا نے پاکستان پر ایرانی طیاروں کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام ایک ایسے وقت میں لگایا ہے جب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو ملک 90 فیصد یورینیم افزودگی کی جانب جا سکتا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’’ایران پر ایک اور حملے کی صورت میں ہمارے آپشنز میں سے ایک 90 فیصد افزودگی بھی ہو سکتی ہے اور پارلیمنٹ میں اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘‘ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کے پاس ایرانی عوام کے حقوق کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ’’14 نکاتی تجویز میں بیان کیے گئے ایرانی عوام کے حقوق کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی متبادل نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’اس کے علاوہ ہر دوسرا طریقہ مکمل طور پر بے نتیجہ ثابت ہوگا اور ناکامیوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘‘ باقر قالیباف کے مطابق امریکا جتنی تاخیر کرے گا، اس کی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان کو ادا کرنا پڑے گی۔

Back to top button