قومی اسمبلی اجلاس میں PTI اراکین کی جھڑپ، ایک دوسرے کو ننگی گالیاں

قومی اسمبلی اجلاس میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہو گئے،نہ صرف ایک دوسرے کا گریبان پکڑا بلکہ ایک دوسرے کو گالیاں بھی دیتے نظر آئے۔ ذرائع کے مطابق دوران اجلاس پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش کی گئی، جس پر جنید اکبر نے انھیں ایسا کرنے سے روکا جس پراقبال آفریدی سیخ پا ہوگئے اور انھوں نے جنید اکبر پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے انھیں ننگی گالیاں دینی شروع کر دیں۔
ذرائع کے مطابق نہ صرف قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پی ٹی آئی اراکین کے درمیان شدید تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی بلکہ اجلاس کے بعد بھی ارکان کے درمیان جھگڑا جاری رہا۔رپورٹس کے مطابق اجلاس کے دوران اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش کی گئی، تاہم پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر نے انہیں روکنے کی کوشش کی جس پر اقبال آفریدی برہم ہوگئے۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ صورتحال اس قدر کشیدہ ہوگئی کہ دیگر ارکان نے مداخلت کرتے ہوئے جنید اکبر کو ایک طرف اور اقبال آفریدی کو دوسرے جانب لے جا کر معاملہ سنبھالنے کی کوشش کی۔
اجلاس کے بعد بھی پی ٹی آئی کے مختلف ارکان کے درمیان جھگڑا دیکھنے میں آیا، جہاں ایک اور رکن اور اقبال آفریدی کے درمیان بھی کشیدگی اور ہاتھا پائی کی صورتحال پیدا ہوئی۔ اس دوران ارکان نے ایک دوسرے کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور گریبان تک پکڑ لیے گئے۔
دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ پی ٹی آئی ایم این اے اقبال آفریدی کے بیٹے نے اٹلی میں سیاسی پناہ (اسائلم) حاصل کیا ہے۔اس حوالے سے صحافیوں کے سوالات پر اقبال آفریدی نے سخت ردعمل دیا اور معاملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے بیٹے نے اسائلم لیا ہے تو یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ دیگر افراد بھی ایسا کرتے رہے ہیں۔انہوں نے ملک کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں امن اور سیاسی استحکام کی کمی ہے، جس کے باعث لوگ بیرون ملک جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور معاشی مسائل کے باعث ملک محفوظ نہیں رہا۔
