پیپلز پارٹی کو وفاقی وزارتیں نہ لینے کا پچھتاوا کیوں ہے؟

عالمی منظر نامے میں پاکستان کے بڑھتے سفارتی قد کاٹھ کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کا حکومتی اتحاد کا حصہ ہوتے ہوئے وزارتیں نہ لینے کا فیصلہ ایک بار پھر زیر بحث ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر اس وقت بلاول بھٹو وزیر خارجہ ہوتے تو پاکستان کی عالمی ثالثی وسفارتی سرگرمیوں میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے تھے۔ تاہم پیپلز پارٹی نے ملک کے معاشی حالات کے تناظر میں اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے چکر میں یہ سنہرا موقع گنوا دیا ہے۔

خیال رہے کہ 2024 کے عام انتخابات کے بعد جب نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان اقتدار کی شراکت داری طے پائی تھی تو پیپلز پارٹی نے حکومت کا حصہ بننے کے باوجود کابینہ میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت اس حکمتِ عملی کو سیاسی دانشمندی قرار دیا گیا کیونکہ پارٹی قیادت سمجھتی تھی کہ معاشی بحران، مہنگائی اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باعث حکومت کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لہٰذا براہِ راست حکومتی فیصلوں میں شامل ہوئے بغیر سیاسی ساکھ کو محفوظ رکھا جا سکے گا۔اسی سوچ کے تحت پیپلز پارٹی نے وزارتیں لینے کے بجائے آئینی عہدوں پر اکتفا کیا۔ یوں صدارت، دو صوبوں کی گورنرشپ، چیئرمین سینیٹ اور قومی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر شپ جیسے اہم عہدے اس کے حصے میں آئے۔ حالانکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی خواہش تھی کہ پیپلز پارٹی کابینہ میں شامل ہو اور اسے وزارت خارجہ سمیت کئی اہم وزارتیں دینے کی پیشکش بھی کی گئی تھی۔

تاہم مبصرین کے بقول  وقت گزرنے کے ساتھ یہ حکمتِ عملی بظاہر الٹی پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ کابینہ سے باہر رہنے کے باوجود عوام حکومت کے ہر اچھے اور برے فیصلے میں پیپلز پارٹی کو برابر کا شریک سمجھ رہے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور آئی ایم ایف کی شرائط جیسے حساس معاملات پر عوامی غصے کا اثر صرف مسلم لیگ (ن) تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کی سیاسی قیمت پیپلز پارٹی کو بھی ادا کرنا پڑ رہی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی شاید یہ اندازہ نہ لگا سکی کہ اتحادی حکومت میں شامل ہو کر الگ شناخت برقرار رکھنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ عوامی تاثر یہی بنتا ہے کہ جو جماعت اقتدار کے اتحاد کا حصہ ہو، وہ حکومتی فیصلوں کی بھی ذمہ دار ہوتی ہے، چاہے وہ کابینہ میں شامل ہو یا نہیں۔

دوسری جانب موجودہ علاقائی اور عالمی صورتحال نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی ثالثی میں جو کردار ادا کیا، اس سے عالمی سطح پر وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا تشخص نمایاں طور پر مضبوط ہوا ہے۔ عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں پاکستان کی سفارتکاری کو سراہا جا رہا ہے، مگر اس پورے عمل میں پیپلز پارٹی خود کو پس منظر میں محسوس کر رہی ہے۔

پارٹی کے اندرونی حلقوں میں اب یہ احساس شدت اختیار کر رہا ہے کہ اگر بلاول بھٹو زرداری وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالتے تو وہ نہ صرف عالمی سطح پر نمایاں کردار ادا کر سکتے تھے بلکہ ان کی بین الاقوامی شناخت اور سیاسی قد کاٹھ میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوتا۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات بھی زیرِ بحث ہے کہ وزارت خارجہ ہمیشہ سے بھٹو خاندان کی سیاسی پہچان رہی ہے۔ سابق وزیراعظم اور بلاول بھٹو کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے بھی وزارت خارجہ کے ذریعے عالمی سیاست میں اپنی الگ شناخت بنائی تھی۔بلاول بھٹو زرداری کی بین الاقوامی سمجھ بوجھ، مغربی دنیا میں تعلیم اور انگریزی زبان پر مضبوط گرفت کو دیکھتے ہوئے پارٹی کے اندر یہ رائے پائی جا رہی ہے کہ حالیہ سفارتی ماحول ان کیلئے ایک سنہری موقع ثابت ہو سکتا تھا۔ خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان بیک ڈور سفارتکاری میں پاکستان کے بڑھتے کردار سے وہ عالمی سطح پر ایک مؤثر نوجوان رہنما کے طور پر ابھر سکتے تھے۔

سیاسی ذرائع کے مطابق جب اتحادی حکومت قائم ہوئی تو شاید کسی نے یہ تصور نہیں کیا تھا کہ خطے میں جنگی یا سفارتی بحران اس حد تک شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ تاہم بعض حلقوں کا ماننا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی کے پیش نظر اس امکان کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب پارٹی کے اندر اس فیصلے پر نظرثانی اور سیاسی حکمتِ عملی پر نئی بحث شروع ہو چکی ہے۔ ناقدین کے مطابق موجودہ صورتحال میں پیپلز پارٹی ایک ایسے سیاسی دوراہے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں اسے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا مستقبل میں وہ اقتدار کے فوائد اور نقصانات دونوں کو مکمل طور پر قبول کرے گی یا پھر فاصلے پر رہ کر سیاسی شناخت بچانے کی حکمتِ عملی جاری رکھے گی۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ موجودہ تجربے نے پارٹی کے اندر کئی اہم سوالات ضرور کھڑے کر دیے ہیں۔

Back to top button