عملی سیاست سے دور نواز شریف اچانک سیاسی میدان میں کیوں اترے؟

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت اس وقت مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں اور عوامی دباؤ کے باعث شدید تنقید کی زد میں ہے۔ ایک طرف حکومت معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتی ہے تو دوسری جانب نون لیگ اپنی سیاسی ساکھ کو برقرار رکھنے کیلئے بھی نئی حکمتِ عملی ترتیب دیتی نظر آتی ہے۔ اسی پس منظر میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدرنواز شریف کی سیاسی سرگرمیوں میں اچانک اضافہ سیاسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
طویل عرصے تک نسبتاً خاموش رہنے والے نواز شریف اب دوبارہ سیاسی منظرنامے میں متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کی صدارت کی، جہاں امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ دینے کے فیصلے کیے گئے۔ پارٹی کے اندر سے یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ نواز شریف آئندہ دنوں میں انتخابی مہم میں خود متحرک کردار ادا کر سکتے ہیں اور جلسوں سے خطاب بھی کریں گے۔
مبصرین کے مطابق یہ صورتحال اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ مسلم لیگ (ن) کے اقتدار میں آنے کے بعد نواز شریف نے خود کو عملی سیاست اور عوامی سرگرمیوں سے کافی حد تک دور رکھا۔ وہ زیادہ تر پنجاب حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی یا وزیراعظم سے محدود سیاسی ملاقاتوں تک ہی دکھائی دیے۔ تاہم اب پارٹی کے اندر اور باہر یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ آخر ایسے وقت میں، جب حکومت شدید عوامی تنقید کا سامنا کر رہی ہے، نواز شریف دوبارہ سیاسی میدان میں کیوں اتر رہے ہیں؟
سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق مسلم لیگ (ن) اس وقت اپنی تاریخ کے مشکل ترین سیاسی دور سے گزر رہی ہے۔ ان کے بقول، ماضی میں نواز شریف حکومتی معاملات پر مکمل گرفت رکھتے تھے اور مہنگائی سمیت عوامی مسائل پر براہِ راست مداخلت کرتے تھے، مگر اب صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ سلمان غنی کا کہنا ہے کہ نواز شریف اس وقت اپنی پارٹی کے اندر بڑھتی بے چینی اور سیاسی ساکھ کے بحران سے پریشان ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ دوبارہ متحرک ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نواز شریف کو اس وقت پارٹی کی ساکھ کی بہت فکر ہے اور وہ اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اس وقت جیسے ان کی پارٹی حکومت کر رہی ہے پارٹی کے اندر سے اتنی آوازیں اٹھ رہی ہیں جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ہے۔ یہاں تک کہا جا رہا ہےکہ فوری بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں اور نچلی سطح پر لوگوں سے رابطہ قائم کیا جائے لیکن میرا خیال ہے اس وقت ن لیگ مشکل میں ہے اور نواز شریف اس مشکل وقت میں سیاسی طور پر متحرک ہو کر پارٹی کی بچی کھچی ساکھ کو بچانے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔
دوسری جانب سینیئر صحافی عاصمہ شیرازی کے مطابق نواز شریف کا کردار اب محدود ہو چکا ہے اور وہ زیادہ تر انتخابی سیاست تک محدود نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق جب بھی کسی انتخاب یا سیاسی معرکے کی بازگشت سنائی دیتی ہے تو نواز شریف دوبارہ متحرک دکھائی دیتے ہیں، تاہم عوامی رابطے اور سیاسی بیانیے کے حوالے سے ان کی موجودگی ماضی جیسی مؤثر نہیں رہی۔عاصمہ شیرازی کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں اگر سیاسی رہنما صرف اپنی تقریروں اور جلسوں تک محدود رہیں گے تو انہیں اور ان کی جماعت کو اپنی حکمت عملی پر غور کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے پیش نظر روایتی سیاسی جلسوں سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اب سیاست کا انداز تبدیل ہوچکا ہے۔
عاصمہ شیرازی کے مطابق نواز شریف قومی اسمبلی میں بھی تسلسل کے ساتھ نظر نہیں آتے، حالانکہ وہ منتخب رکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران انہوں نے نہ تو میڈیا سے مؤثر انداز میں بات چیت کی اور نہ ہی صحافیوں سے روابط رکھے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ واضح نہیں کہ وہ خود اپنا سیاسی کردار محدود کر رہے ہیں یا پارٹی کے اندر ایسا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے، تاہم صرف جلسوں اور انتخابی مہمات پر مبنی سیاست اب پہلے جیسی مؤثر نہیں رہی۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مسلم لیگ (ن) اس وقت اندرونی دباؤ، عوامی ناراضی اور اتحادی سیاست جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں نواز شریف کی دوبارہ سیاسی سرگرمیاں نہ صرف پارٹی کارکنوں کیلئے حوصلہ افزا سمجھی جا رہی ہیں بلکہ اسے پارٹی کی کمزور ہوتی عوامی مقبولیت کو سہارا دینے کی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا محض جلسوں اور انتخابی مہمات سے پارٹی کی ساکھ بحال ہو سکے گی یا عوام اب عملی کارکردگی اور معاشی ریلیف کو ہی اصل معیار سمجھیں گے۔
