کراچی کی منشیات کوئین کہلانے والی میڈم پنکی ڈان کون ہے؟

کراچی پولیس معروف سماجی کارکن شیما کرمانی کو بغیر کسی الزام کے توہین آمیز انداز میں گرفتار کرنے اور دوسری جانب منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیش کرنے پر شدید تنقید کی زد میں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف سماجی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والی خواتین کارکنان کو کراچی کی سڑکوں پر گھسیٹتے ہوئے گرفتار کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب منشیات کے سنگین مقدمات میں مطلوب انمول عرف پنکی نامی ایک بااثر خاتون کو عدالت میں پیشی کے موقع پر غیر معمولی سہولتیں دی جاتی ہیں، ناقدین کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس کے اس دوہرے رویے سے قانون کے یکساں اطلاق پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
یاد رہے کہ کراچی میں منشیات فروشی کے ایک منظم نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے دوران انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد اسے عدالت میں بغیر ہتھکڑی پیش کیے جانے پر بڑا تنازع شروع ہو گیا۔ سندھ حکومت اور کراچی پولیس میں دباؤ میں آتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا یے۔ پولیس کے مطابق ضلع وسطی کی پولیس اور ایک سویلین حساس ادارے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کراچی میں کوکین اور دیگر مہلک منشیات کی مبینہ سپلائر انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ متعدد مقدمات میں مطلوب اور کافی عرصے سے مفرور تھی۔ اپنی ایک حالیہ ویڈیو میں خود کو منشیات کی دنیا کا برینڈ نیم قرار دینے والی پنکی کراچی میں منشیات سپلائی کرنے والا ایک منظم نیٹ ورک چلا رہی تھی۔
پنکی کے خلاف درج ایف آئی ار کے مطابق ملزمہ کے قبضے سے ایک پستول، گولیاں، کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، مختلف کیمیکلز اور دیگر نشہ آور مواد برآمد کیا گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ ڈی ایچ اے، کلفٹن اور کراچی کے دیگر پوش علاقوں میں آن لائن آرڈرز پر رائیڈرز کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی جبکہ اپنے نیٹ ورک کو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے محفوظ رکھنے کے لیے خواتین رائیڈرز بھی استعمال کرتی تھی۔ پولیس کے مطابق ملزمہ کے خریداروں میں طلبہ و طالبات کے علاوہ بعض بااثر شخصیات بھی شامل تھیں اور وہ روزانہ لاکھوں روپے مالیت کی منشیات فروخت کرتی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ انمول عرف پنکی کے خلاف تھانہ گارڈن میں منشیات اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمات پہلے سے درج ہیں۔
پنکی کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ سے چرس کے دو پیکٹ اور دیگر نشہ آور مواد برآمد ہوا ہے، جس کی مالیت پندرہ لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے۔ پولیس نے عدالت سے ملزمہ کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا بھی کی تھی، تاہم یہ مقدمہ اس وقت نیا رخ اختیار کر گیا جب ملزمہ کو عدالت میں بغیر ہتھکڑی پیش کیے جانے کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزمہ نے چہرے پر ماسک اور آنکھوں پر دھوپ سے بچنے والا چشمہ لگایا ہوا تھا جبکہ وہ ہاتھ میں پانی کی بوتل تھامے عدالت میں داخل ہو رہی تھیں اور ان کے ہاتھ میں ہتھکڑی موجود نہیں تھی۔
ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا اور پولیس کے رویے پر سخت سوالات اٹھائے گئے۔ صارفین نے سوال کیا کہ عام ملزمان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے والی پولیس ایک مبینہ منشیات فروش خاتون کے ساتھ نرم برتاؤ کیوں کر رہی ہے۔
اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ضیا الحسن لنجار نے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے شفاف انکوائری کا حکم دے دیا۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ ملزمہ کو پروٹوکول کیسے دیا گیا اور اس میں کون کون سے اہلکار ملوث تھے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پروٹوکول فراہم کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور واضح کیا کہ “ایسا عمل کسی بھی صورت قابل قبول نہیں، کوئی بھی مجرم قانون سے بالاتر نہیں اور ہر شخص کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کیا جانا چاہیے۔” اطلاعات کے مطابق گرفتار ملزمہ کو پرٹوکول دینے پر ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال،ایس آئی یو انسپکٹر ظفر اقبال اور دو لیڈی کانسٹیبلز کو بھی معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی انکوائری ایس ایس پی ساؤتھ کے سپرد کر دی گئی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق انمول عرف پنکی کے خلاف مجموعی طور پر دس مقدمات درج ہیں اور وہ کافی عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسکی گرفتاری سے شہر میں منشیات کی سپلائی کے ایک بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے جبکہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک آڈیو بھی وائرل ہوئی جس میں ملزمہ پولیس کو گرفتاری کے لیے چیلنج کرتے ہوئے کہتی ہیں:
“پندرہ سال سے میں نے تم لوگوں کی بری حالت کر رکھی ہے اور تم میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے۔ پولیس والے پتہ نہیں کہاں کہاں سے منہ اٹھا کر آ جاتے ہیں کہ پنکی کو پکڑیں گے۔ پھر پانچ، چھ، سات، آٹھ، نو، دس سال گزر جاتے ہیں، پولیس والے ریٹائر ہو جاتے ہو، پھر خود فون کر کے ہنستے ہوئے بتاتے ہیں کہ یار ہم اتنے سال تمہارے پیچھے لگے رہے لیکن گرفتار نہ کر سکے۔
ملزمہ کے خلاف درج ایف آئی آر میں سب انسپکٹر غازی بشیر نے مؤقف اختیار کیا کہ دورانِ گشت گارڈن ویسٹ کراچی ایک مخبرِ خاص نے اطلاع دی کہ پنکی نامی منشیات فروش خاتون اپنے فلیٹ میں منشیات تیار کر کے فروخت کرتی ہیں۔ اطلاع پر پولیس مذکورہ فلیٹ پر پہنچی، دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک خاتون نے دروازہ کھولا اور اپنا نام انمول عرف پنکی دختر مراد بخش بتایا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ فلیٹ کی تلاشی لینے پر ملزمہ کمرے کے اندر فرش پر منشیات تیار کرتی ہوئی پائی گئیں۔ پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمہ کے گھر سے کوکین اور منشیات بنانے میں استعمال ہونے والے کئی کیمیکلز برآمد کیے گئے جبکہ ایک بیگ سے ایک نائن ایم ایم پستول، ایک گلوک پستول اور دو میگزین بھی برآمد ہوئے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ کے گھر سے ایک سکول بیگ بھی ملا، جس میں منشیات کا ایک تھیلا اور ایک ڈبّی موجود تھی جس پر لکھا تھا: “کوئین میڈم پنکی ڈان، نام ہی کافی ہے۔” ایف آئی آر کے مطابق جب ملزمہ سے اسلحے کا لائسنس طلب کیا گیا تو وہ پیش نہ کر سکیں۔
