ایران کے ساتھ مذاکرات،ٹرمپ پاکستان کو ثالث رکھنے پر بضد کیوں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ثالثی کردار پر نظرثانی کے بارے میں “بالکل نہیں” سوچ رہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت نے اس پورے معاملے میں “بہت عمدہ” اور “شاندار” کردار ادا کیا ہے اور وہ چاہتے ہیں ایران کے ساتھ امن معاہدہ پاکستان کی ثالثی میں ہی طے پائے۔
ٹرمپ کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی بعض رپورٹس نے خطے میں نئی سفارتی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارےسی بی ایس نیوز نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے ایران کے بعض طیاروں کو ممکنہ امریکی حملوں سے محفوظ رکھنے کیلئے اپنے ایئربیسز پر جگہ فراہم کرکے امریکہ کو دھوکہ دیا۔ ان اطلاعات کے بعد امریکی حکام پاکستان سے سخت نالاں ہیں، تاہم پاکستان نے ان دعوؤں کو فوری طور پر “بے بنیاد”، “گمراہ کن” اور “سنسنی خیز” قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا۔
جس کے بعد چین کے دورے پر روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ پاکستان کے ثالثی کردار پر نظرثانی کر رہے ہیں؟ اس پر ٹرمپ نے دوٹوک انداز میں جواب دیا کہ پاکستان نہ صرف بہترین کردار ادا کر رہا ہے بلکہ پاکستانی فوجی اور سیاسی قیادت نے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں نے “بہت اچھا کام” کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان کو سفارتی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی کانگریس میں پاکستان کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے۔ امریکی سینیٹرلنڈسے گراہم نے ایک کانگریشنل سماعت کے دوران امریکی سیکرٹری دفاعپیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ جنرل ڈین کین سے سوال کیا کہ آیا وہ ان رپورٹس سے واقف ہیں جن کے مطابق پاکستان نے ایرانی طیاروں کو اپنے اڈوں پر جگہ دی۔تاہم دونوں امریکی حکام نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جس پر سینیٹر گراہم نے پاکستان پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ رپورٹس درست ہیں تو امریکہ کو کسی اور ثالث کی تلاش کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات کسی غیر جانبدار ثالث کے کردار سے مطابقت نہیں رکھتے۔
دوسری جانب پاکستان کی وزارت خارجہ نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں ہونے والے مذاکراتی عمل کے دوران مختلف سفارتی اور انتظامی مقاصد کیلئے ایرانی اور امریکی طیارے پاکستان آئے تھے۔ وزارت خارجہ کے مطابق یہ معمول کی سفارتی اور لاجسٹک سہولتوں کا حصہ تھا اور اس کا کسی عسکری تعاون یا دفاعی حکمت عملی سے کوئی تعلق نہیں۔
پاکستان نے یہ بھی واضح کیا کہ نور خان ایئربیس پر موجود ایرانی طیارہ جنگ بندی کے دوران یہاں پہنچا تھا اور وہ محض سفارتی و انتظامی ضروریات کیلئے استعمال ہو رہا تھا۔ وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان نے پورے بحران میں ایک “غیر جانبدار اور ذمہ دار ثالث” کے طور پر کردار ادا کیا اور تمام فریقوں کے ساتھ مکمل شفافیت برقرار رکھی۔
سیاسی اور سفارتی ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی کھل کر حمایت دراصل اسلام آباد کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کا اعتراف ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کے فروغ اور اہم عالمی طاقتوں کے درمیان رابطہ کاری میں اپنی اہمیت منوانے کی کوشش کی ہے، اور ٹرمپ کا حالیہ بیان اسی سفارتی کامیابی کا ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
