بجلی کے بلوں میں ٹیکس ریلیف بارے حکومتی دعوے، جھوٹ کا پلندہ نکلے

مہنگے بجلی کے بل آج بھی ملک بھر کے صارفین کے لیے سب سے بڑا معاشی مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ حکومت ایک جانب بجلی کے بلوں پر ٹیکسوں میں رعایت دینے کا دعویٰ کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب عوام اور ماہرین کا مؤقف ہے کہ مختلف ٹیکسز، سرچارجز اور آئی پی پیز کو کی جانے والی کیپیسٹی پیمنٹس نے بجلی کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں ہونے والی حالیہ بحث نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا حکومت واقعی صارفین کو ریلیف دے رہی ہے یا بجلی کے بل اب بھی ٹیکس وصولی کا سب سے آسان ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں بجلی کے بڑھتے ہوئے بل عوام کے لیے مسلسل تشویش کا باعث ہیں۔ حکومت کی جانب سے مختلف مواقع پر بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور ٹیکسوں میں رعایت کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، لیکن عملی طور پر صارفین آج بھی بھاری بلوں، متعدد ٹیکسوں اور اضافی سرچارجز کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے حالیہ اجلاس میں بھی یہی معاملہ زیر بحث آیا، جہاں بجلی کے بلوں میں شامل ٹیکسوں اور ان کی نوعیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ حکومت پہلے ہی بعض شعبوں میں بجلی کے بلوں پر ٹیکسوں میں رعایت دے رہی ہے، تاہم اگر مستقبل میں ٹیکسوں کا دوبارہ جائزہ لیا گیا تو مزید محصولات بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان نے نئی بحث کو جنم دیا کہ آیا موجودہ ٹیکس ڈھانچہ عوام کے لیے قابل برداشت ہے یا نہیں۔

کمیٹی کے بعض ارکان نے نشاندہی کی کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بجلی کے بلوں کے ذریعے سیکڑوں ارب روپے ٹیکس کی مد میں وصول کیے گئے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ بجلی کے بل ایف بی آر کے لیے محصولات جمع کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ کئی صارفین کے بلوں میں اصل بجلی کی قیمت کے مقابلے میں ٹیکسوں اور اضافی چارجز کا تناسب غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔

اس وقت بجلی کے بلوں میں جنرل سیلز ٹیکس، ایڈوانس انکم ٹیکس، الیکٹرسٹی ڈیوٹی، فنانسنگ کاسٹ سرچارج، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سمیت مختلف مدات شامل ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صارف کے لیے ادا کی جانے والی مجموعی رقم صرف استعمال شدہ بجلی کی قیمت تک محدود نہیں رہتی بلکہ متعدد حکومتی محصولات اور ریگولیٹری چارجز بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔

دوسری جانب توانائی کے شعبے کا ایک بڑا مسئلہ آئی پی پیز کو ادا کیے جانے والے کیپیسٹی چارجز ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت حکومت بعض پاور پلانٹس کو بجلی استعمال نہ ہونے کی صورت میں بھی مقررہ ادائیگی کرنے کی پابند ہے۔ ماہرین کے مطابق انہی ادائیگیوں کا بڑا حصہ بالآخر بجلی کے صارفین کے بلوں میں شامل کر دیا جاتا ہے، جس سے بجلی کی قیمت مزید بڑھ جاتی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ چند برسوں میں کیپیسٹی چارجز کا حجم بجلی کی حقیقی پیداواری لاگت کے مقابلے میں زیادہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی بحث میں صرف بجلی پیدا کرنے کی لاگت ہی نہیں بلکہ ان معاہدوں اور ادائیگیوں کو بھی بنیادی مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

حکومت نے حالیہ عرصے میں بعض آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی اور ان میں تبدیلیوں کے اقدامات کیے ہیں، جن کا مقصد کیپیسٹی چارجز کے بوجھ کو کم کرنا بتایا جاتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے حقیقی اثرات سامنے آنے میں وقت لگے گا اور اس وقت تک صارفین کو فوری ریلیف کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

معاشی ماہرین کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت واقعی بجلی کے بل کم کرنا چاہتی ہے تو صرف وقتی ریلیف یا محدود ٹیکس رعایت کافی نہیں ہوگی۔ اس کے لیے ٹیکس نظام میں اصلاحات، ٹیکس نیٹ میں وسعت، بجلی کی تقسیم میں نقصانات میں کمی، بجلی چوری کی روک تھام، آئی پی پیز کے معاہدوں پر مؤثر نظرثانی اور توانائی کے شعبے کی مجموعی ساخت میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

 

آزاد کشمیر الیکشن کے بعد شہباز حکومت خطرے میں کیوں؟

حقیقت یہ ہے کہ بجلی کے بلوں میں شامل ٹیکس، سرچارجز اور کیپیسٹی چارجز کا بوجھ آج بھی براہِ راست عام صارف برداشت کر رہا ہے۔ جب تک توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات اور محصولات کے نظام میں توازن پیدا نہیں کیا جاتا، اس وقت تک بجلی سستی ہونے کے حکومتی دعووں کے باوجود عوام کو حقیقی اور دیرپا ریلیف ملنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

Back to top button