آزاد کشمیر الیکشن کے بعد شہباز حکومت خطرے میں کیوں؟

آزاد کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج نے صرف ریاستی سیاست ہی نہیں بلکہ وفاقی حکومت میں شامل دو بڑی اتحادی جماعتوں، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی، کے تعلقات کو بھی شدید آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے انتخابی عمل اور ریاستی کردار پر اٹھائے گئے سوالات اور اس کے جواب میں مریم نواز کی سخت تنقید نے سیاسی ماحول کو خاصا گرم کر دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تنازع محض انتخابی نتائج کا ردعمل نہیں بلکہ دونوں جماعتوں کے درمیان برسوں سے جاری سیاسی رقابت کا نیا اظہار ہے، جس کے اثرات مستقبل میں وفاقی اتحاد اور ملکی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج سامنے آنے کے بعد پاکستان کی دو بڑی اتحادی جماعتیں، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی، ایک مرتبہ پھر سخت سیاسی محاذ آرائی کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔ وفاق میں ایک ہی حکومتی بندوبست کا حصہ ہونے کے باوجود دونوں جماعتوں کے درمیان بیانات، الزامات اور جوابی حملوں نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا یہ کشیدگی صرف انتخابی سیاست تک محدود رہے گی یا وفاقی اتحاد کو بھی متاثر کرے گی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں اتحادی جماعتوں کے مابین تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی کردار پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ قومی مفاد زیادہ اہم ہے یا کسی ایک سیاسی جماعت کا مفاد۔ انہوں نے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں، انٹرنیٹ بندش اور انتخابی تشدد پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے بلاول بھٹو کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے عوام نے اپنا فیصلہ دیا ہے اور انتخابی شکست کو دھاندلی سے جوڑنے کے بجائے کھلے دل سے قبول کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ آزاد کشمیر کے انتخابی نظام میں نگران حکومت کا تصور موجود نہیں، اس لیے مسلم لیگ (ن) پر انتخابی عمل کو کنٹرول کرنے کا الزام بے بنیاد ہے۔

کشمیر کی انتخابی مہم کے دوران بھی دونوں جماعتوں کے درمیان لفظی معرکہ جاری رہا۔ نواز شریف کے "یہ کشمیر ہے، کشمور نہیں” والے جملے پر بلاول بھٹو نے "کشمیر ہو یا کشمور، عوام اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے” کہہ کر جواب دیا۔ یوں جغرافیائی حوالوں سے شروع ہونے والی بحث جلد ہی آئینی اختیارات، سیاسی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کے سوالات تک جا پہنچی۔

پہلے مرحلے کے غیرحتمی نتائج میں مسلم لیگ (ن) نے تیرہ میں سے نو نشستیں حاصل کر کے واضح برتری حاصل کی، جبکہ پیپلز پارٹی چار نشستوں پر کامیاب رہی۔ اسی کامیابی کو مسلم لیگ (ن) اپنی عوامی مقبولیت کا ثبوت قرار دے رہی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ انتخابی عمل میں شفافیت پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں جن کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

اس سیاسی کشیدگی نے دونوں جماعتوں کی ماضی کی رقابت کو بھی تازہ کر دیا ہے۔ 2024 کے عام انتخابات میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے مقابل تھیں، تاہم کسی کو واضح اکثریت نہ ملنے پر حکومت سازی کے لیے ایک دوسرے کے قریب آنا پڑا۔ شہباز شریف وزیراعظم بنے جبکہ پیپلز پارٹی نے پارلیمانی حمایت فراہم کرتے ہوئے آصف علی زرداری کے صدر منتخب ہونے کی راہ ہموار کی۔ اس کے باوجود پانی کی تقسیم، سیلاب، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر معاملات پر اختلافات وقفے وقفے سے سامنے آتے رہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال انتخابی سیاست کا فطری حصہ ضرور ہے، لیکن اگر بیانات کی شدت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات وفاقی حکومت کے اندر اعتماد کی فضا پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ تاہم بیشتر مبصرین کا خیال ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں نہ مسلم لیگ (ن) اور نہ ہی پیپلز پارٹی ایک دوسرے سے علیحدگی کی متحمل ہو سکتی ہیں، کیونکہ وفاقی اقتدار کا موجودہ توازن دونوں جماعتوں کے باہمی تعاون پر قائم ہے۔

ماہرین کے مطابق اس وقت دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی سیاسی حریف بھی ہیں اور حکومتی شراکت دار بھی۔ یہی دوہرا کردار ان کے تعلقات کو پیچیدہ بناتا ہے۔ اگرچہ سخت بیانات اور جوابی حملے جاری رہ سکتے ہیں، لیکن عملی سیاست کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں جماعتیں حکومت کے استحکام کو ترجیح دیں۔

 

کیا مولانا کی JUIاور پی ٹی آئی کا سیاسی اتحاد ممکن ہے؟

آزاد کشمیر کے انتخابات کے مزید مراحل اور ان کے نتائج اس کشیدگی کی سمت کا تعین کریں گے۔ اگر اختلافات صرف انتخابی مہم تک محدود رہے تو وفاقی اتحاد برقرار رہ سکتا ہے، لیکن اگر یہ محاذ آرائی قومی سیاسی معاملات تک پھیل گئی تو مستقبل میں حکومت کے لیے نئے سیاسی چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔ فی الحال تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا دونوں اتحادی جماعتیں اختلافات کو سیاسی حدود میں رکھ پاتی ہیں یا یہ تنازع وفاقی سیاست میں کسی بڑے بحران کی شکل اختیار کرتا ہے۔

Back to top button