عورت مارچ پر پابندی لگانے کی حکومتی تجویز مسترد

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کو عورت مارچ پر پابندی لگانے اور اس دن کو ’یوم حجاب‘ کے طور پر منانے کی تجویز سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آگئی ہے اور اسے پاکستان کو ایک روشن خیال معاشرے کی بجائے ایک دقیانوسی سوسائٹی بنانے کی سازش قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ وفاقی مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے 8 مارچ کو عورت مارچ پر پابندی عائد کرنے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کو خط لکھا ہے اور اس دن عالمی یوم حجاب منانے کی تجویز دی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین اس تجویز کو لے کر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے نام لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ بظاہر ’عورت مارچ‘ کو حقوق نسواں کے تحفظ کا عنوان دیا گیا ہے لیکن اس مارچ پر جس طرح کے بینرز، پلے کارڈز، اور نعروں کا اظہار کیا جاتا ہے ان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید مسئلہ حقوق نسواں سے زیادہ اسلام کی طرف سے دیے گئے نظام معاشرت کا ہے۔

وفاقی وزیر نے تجویز دی ہے کہ عورت مارچ، حیا مارچ ، یا کسی بھی دوسرے عنوان سے ریلیاں، جلسے، پروگرامات منعقد کروانے والوں کو عورت کے حقیقی مسائل بالخصوص عورت کا میراث میں حق، گھریلو تشدد، دفاتر اور کام کی جگہوں پر ہراسگی اور ضروری وسائل کی عدم دستیابی، عورتوں کی تعلیم، جبری نکاح، بیوہ اور یتیم کی کفالت اور ان کا تحفظ، جنسی استحصال، نان و نفقہ کی فراہمی وغیرہ جیسے مسائل پر روشنی ڈالنی چاہیے۔

وزیر موصوف نے وزیر اعظم کو لکھا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور یہاں کی اکثریت اصولی طور پر اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنے کے خواہش مند ہے۔ اسی بنیاد پر 8 مارچ 2022 کو منائے جانے والے یوم خواتین میں کسی بھی طبقے کو عورت مارچ یا کسی بھی دوسرے عنوان سے اسلامی شعائر، معاشرتی اقدار، حیاء و پاک دامنی، پردہ و حجان وغیرہ پر کیچڑ اچھالنے یا ان کا تمسخر و مذاق اڑانے کی ہر گز اجازت نہ دی جائے۔ کیونکہ ایسا کرنا مسلمانان پاکستان کے لیے سخت اذیت ناک، تکلیف اور تشویش کا باعث بنتا ہے۔‘

وزیر مذہبی امور کا اصرار ہے کہ اس سال حکومت 8 مارچ کو انٹرنیشنل حجاب ڈے کے طور پر منانے کا اعلان کرے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی تیسری اہلیہ بشری بی بی بھی حجاب کرتی ہیں اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شائد اس تجویز کے پیچھے ان کا بھی عمل دخل ہو۔ عمران کابینہ کے وزیر مذہبی امور کی اس تجویز پر ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی فیصلہ سامنے تو نہیں آیا لیکن نورالحق قادری کو پوری امید ہے کہ اس تجویز کو تسلیم کر لیا جائے گا۔

مجھے دلیل سے نہیں غلیظ گالیوں سے جواب دیا جاتا ہے

انکا کہنا ہے کہ 8 مارچ کو سرکاری طور پر دنیا بھر میں بسنے والی مسلمان خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی جائے جنہیں اپنی مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لیے سخت جدوجہد کا سامنا ہے، جنہیں اپنے رحجان، لباس اور مذہب کی وجہ سے ہر سطح پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یاد رہے کہ عورتوں کے حقوق اور ان کے احترام کے عہد کو دہرانے کے لیے ہر سال 8 مارچ کو یوم خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن پاکستان میں بھی حقوق نسواں کے علم بردار جلسے جلوسوں اور تقریروں کے ذریعے خواتین کے حقوق کو بیان کرتے ہیں اور ملک کے بڑے شہروں میں عورت مارچ کے نام سے ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ خیال رہے کہ عورت مارچ کے مخالفین کو سب سے زیادہ اعتراض میرا جسم میری مرضی کے نعرے پر ہے۔

تاہم عورت مارچ کے منتظمین کا کہنا ہے اگر ہم تشدد کے خلاف بات کریں، یا ازدواجی معاملات میں عورت کی رضامندی کی بات کریں یا اگر ہم یہ بات کریں کہ عورت کی مرضی ہو کہ بچہ کب پیدا کرنا ہے؟ یا جنسی ہراسانی کی بات کریں، تو ان میں سے کون سی بات اسلام مخالف ہے؟ عورت مارچ کے حمایتی کہتے ہیں کہ لوگوں نے اس نعرے کی اپنے اپنے طور پر تشریح کی ہے۔

لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس نعرے میں جنسی طور پر با اختیار ہونے کی جو بات کی گئی ہے، وہ بہت ضروری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ایک عورت کے جسم پر اسکی مرضی نہیں ہو گی تو کیا اسکے جسم پر کسی اور کی مرضی ہو گی؟

خیال رہے کہ پچھلے برس 8 مارچ سے پہلے عورت مارچ رکوانے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی اور یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس میں شامل خواتین ایسے بینرز اٹھاتی ہیں جن پر درج نعروں سے انتشار اور فحاشی عیاں ہوتی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق ایسی نازیبا خواہشات کا کھلم کھلا اظہار کرتے ہوئے چند عورتیں، مرد اور ہم جنس پرست افراد ایسا ماحول قائم کرنا چاہتے ہیں جو ان پر روایتی اور اخلاقی پابندی نہ لگائے اور انہیں نام نہاد رجعت پسندانہ اسلامی اقدار سے آزاد کرے۔ کام عدالت نے اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

Back to top button